۔۔اور رب اپنے انہی بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے جو اسکےبڑےپیارے ہو تے ہیں جنہیں اپنے رب کی محبت دنیا کی ہر شے سے انمول لگتی ہے جو اپنے رب سے جوڑے ہوتے ہیں جنہیں حقیقی محبت ہوتی ہے وہ بس محبوب کے قدموں کے کنکر ہوتے ہیں جو اس کے کن سے ہر طرف بکھر جاتے ہیں پر لب پر شکایت کاایک حرف نہیں آتا پھر بھی بڑے مان سے کہتے ہیں وہ میری محبت میرا رب ہے جب وہ راضی تو سب راضی میں راضی میرا من راضی ۔۔۔۔۔
رومان کو محبت کے ایک اور امتحان میں ڈالا گیا۔۔۔
رومان نرس بتائیں کیسے ہیں شیث کیا ہوا،انھیں ،اب انکی طبیعت کیسی ہے۔۔
نرس۔ ۔۔۔۔۔
دیکھیں میڈم اندر آپریشن چل رہا ہے بس آپ دعا کریں۔
دعا کا لفظ سنتے ہی رومن کی آنکھیں پر نم ہوئی نم آنکھوں کے ساتھ اپنے محبوب کو یاد کیا۔۔۔
میرے مالک میرے اللہ سے ذات جو ہر چیز پر قادر ہے میرے مولا مجھ پر رحم فرما میرے مولا مجھ پر وہ بوجھ مت ڈالنا جس کو میں تیری کمزور بندی اٹھا نہ سکے۔۔اللہ مجھے ہر حال میں ثابت قدم رکھنا میرے مالک میرے شوہر کو صحت کاملہ عطا فرما ۔۔میرے مالک وہ اس دنیا میں میرا رہنما ہے میرے گھر کا محافظ ہے میرے مالک ہم پر رحم کر۔۔۔رومان کے آنسوں اسکے چہرے پر اس طرح گر رہے تھے جیسے کوئی بے تاب جھرنا جو اپنی جوبن پر ہو پہاڑ کا چٹیل سینہ چیرتے ہوئے اپنی تاب سے بہتا ہوا جھرنا۔۔۔
نسرین بیگم۔۔۔۔۔
کہاں ہے میری بچی کیسا ہے شیث کیا ہؤا سبھی کچھ دیر پہلے ہی تو نکلا تھا ہمارے گھر سے۔
بی اماں۔۔۔۔
ارے رومان بیٹا رو مت حوصلہ رکھو اللہ بہتر کرے گا۔۔
شیث کی دادی کو تو گویا کسی نے سماعت گویائی سے محروم کر دیا ہو بلکل خاموش ایک طرف کھڑی آنسو کاایک ریلہ جوان کے چہرے پر بہت جارہاتھا اردگرد کے ماحول سے یےنیاز۔۔
ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھ رومان ایک دم انکی طرف لپکی کیسے ہے شیث اپب انکی طبیعت کیسی ہے۔
ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔۔
جی آپریشن چل رہا ہے آپ دعا کریں سر پر چوٹ انی کی وجہ سے آپکے مریض کے حالت خطرے میں ہے۔ دعا کریں آپ سب ۔۔
نرس ۔۔۔۔۔۔
رومان جو ڈاکٹر سے دور دکیھلتے ہوئے۔۔مس آپ پلیز راستہ دی ڈاکٹر کو اندر جانے دے دعا کریں حوصلہ رکھیں۔۔۔
____--__--__--__--__--__--__--__--__--__--__--__--__--__--_--__--__--__---__--______________________. ڈاکٹر روم سے باہر آتے ہوئے۔۔
رومان ڈاکٹر کو آتا دیکھ جھٹ سے انکی طرف لپکی۔۔
ڈاکٹر۔۔۔
آئ ایم سوری۔۔ہم آپکے مریض کو نہیں بچا سکے۔
ان الفاظ جوان کی دیر تھی ٹھیک ایسے پانچ ماہ پہلے والا دن جب رومان کے بابا اسے ہنستا بستہ چھوڑ اس فانی دنیا میں چھوڑ گئے تھے اور شیث نے آکر رومان کی زندگی سے ہر غم ہر تکلیف ہر درد کو دور کر دیاتھا۔۔۔ٹھیک اسی طرح آج شیث رومان کوجھوڑ گیا تھا۔۔۔: رومان کو زندگی ایک بار پھر ایسے موڑ پرلے آئ تھی جہاں وہ آج سے پانچ ماہ پہلے کھڑی تھی آج ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔۔وہ لوگ جو رومان اور شیث کو دیکھ ایسی زندگی کی حسرت کرتے تھے وہ رومان پر نحوست اور سیاہ قسمت کہہ رہے تھے۔بس درد اور غم کی ایک ایسی داستان رقم ہورہی تھی وہ جو کہتے ہیں کہ غم اس قدر تھا کہ آسمان بھی رو رہاتھا۔لوگ کہتے ہیں کہ لاحاصل محبت کا ہمیشہ ملال رہتا ہے۔ یہاں محبت حاصل ہوگئی تھی پر لاتمام اور اس لاتمام محبت کادرد روگِ جاں بن کر فانی دنیا کا مطلب دیکھا رہی تھی ۔۔
رومان کا وجود درد کی ایک اذیت ناک کیفیت میں تھا۔ ایسے میں محبوبِ الٰہی کا بلاوا آیا۔۔۔تواللہ کی یہ بندی اسکے بلاوے پر اٹھی سجدہ ریز ہوئی اور دنیا کی محبت سے بے غرض ہوگئ ۔۔
دادی۔۔۔۔۔
ہاے اللہ ناجانے وہ کونسی گھڑی تھی جب میں اس منحوس کو اپنے شیث کی زندگی میں لائے جانتے بوجھتے ہوئے اس آفت کی پڑیا کو اپنے لاڈلے کی زندگی تمام کرنے کے لیے کے ائ۔ دادی رومان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اسے دھکے دے کر گھر سے نکال رہیں تھیں۔۔
رومان۔۔۔۔
روک جاے دادی ایسے مت کریں مجھے اپنی عدت تو پوری کرنے دیں میں چلی جاؤ گی۔
دادی۔۔۔
رومان کی چادر اس پر پھینکتے ہوئے دروازے کوبند کر کے زاروقطار رونے لگی ۔۔
رومان ۔۔۔دادی دادی دروازے کھولیں دادی۔۔۔۔
آخر مسلسل ناکام کوشش کے باوجود رومان نے دروازے بجانا چھوڑ دیا آج اسے اس گھر سے نکالا گیا جہاں اسنے شیث کے ساتھ اپنی ساری زندگی گزارنے کا وعدہ کر رکھا تھا رومان جوبے سروسامان وہاں سے نکال دیا گیا ۔۔
نسرین بیگم۔۔۔۔
ارے میری بچی رومان کیا ہوا
رومان۔۔۔
دادو امی مجھے شیث کی دادی نے گھر سے نکال دیا انھوں نے بھی سب کی طرح مجھے منحوس اور اپنے پوتے کی موت کے زمہ دار قرار دیا ۔دادو بتائیں نہ میں ذرہ نصیب ہو میں منحوس ہوں کیا۔۔رومان مسلسل رو رہی تھی ۔
نسرین بیگم۔
نہیں میری بچی چل کر جاؤ ایسی کوئی بات نہیں بس کر دو میری گڑیا بس کر دو۔۔چندا
_____________________________
0 Comments
Assalamualaikum