تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
یہ کیا آج ناولز کی دیوانی لائبریری پیریڈ ہونے کے باوجود کلاس میں بیٹھ کر پڑھ رہی ہے؟
کلاس میں عینی کو اکیلے پاکر انگلی گال پر ٹکائے عروج حیرت سے بولی۔
میں کلاس میں کہاں رکنے والی ہوں ابھی جانے ہی لگی تھی بس یہ اسائمنٹ ایک نظر دیکھ کر میم کے حوالے کر کہ جان چھڑانا چاہتی تھی_
چلو عروج ساتھ چلتے ہیں!
میں ناولز دیکھ لونگی تم اپنے پسندیدہ اخباروں کے کالم پڑھ لینا
عروج کا ہاتھ پکڑ کر دونوں کلاس سے نکل گئی۔
ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر لائبریری کیطرف جارہی تھیں کہ عروج عینی کو متوجہ کرتی ہوئی بولی:
عینی عینی وہ دیکھو ۔ ہمارے کالج کا بیسٹ کپل کیا کر رہے۔
عینی نے مڑ کر دیکھا تو پرنسپل آفس کے سامنے چمن میں پڑی کرسیوں میں ایک کرسی پر کالج کامشہور لڑکا نما لڑکی اپنی گرل فرینڈ کیساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے قہقہے لگارہے تھے-
اسکے گرل فرینڈ کے بارے میں پورے کالج میں یہ بات مشہور تھی کہ اس نے برائے نام لڑکے کیلئے اپنی منگنی توڑ دی کیونکہ اسکے منگیتر نے ان دونوں کے ٹک ٹاک کی وائرل ویڈیوز دیکھی۔
انکے غیر اخلاقی باتوں اور حرکتوں کا یہ نظارہ دیکھ کر عینی اور عروج سکتے میں آگئے۔ اتنے میں کچھ جونئیر نے آکر ان کو جھنجھوڑا باجی باجی یہ دونوں کتنے پیارے لگ رہے ہے نا- بسٹ کپل ہے۔ ہمیں بھی یہ لڑکا بہت پسند ہے کاش وہ ہمیں بھی اتنا توجہ دیتا-یہ ہمارا کرش (آئیڈیل) ہے۔
یہ سن کر عینی عروج حیران ہونے کیساتھ ابھی پریشان ہو کر ایک دوسرے کو ہاتھوں سے اشارے کرنے لگیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟
ابھی دونوں کچھ سمجھ کر کہہ پاتی کہ اتنے میں وہ جونیئر طالبات کا گروپ انکو حیران و پریشان چھوڑ اس لڑکے کی طرف بھاگ کر گئے اور اس سے کہنے لگے۔ ہم آپ کے بہت بڑے فین ہے ہم نے آپ کو ٹک ٹاک پر بھی فالو کیا ہے- آپ ہمیں بہت پسند ہے۔
تمام طالبات کا اس برائے نام لڑکے سے اس قدر متاثر ہونے کی صرف واحد وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ گرلز کالج میں پڑھنے والا صرف ایک خوبصورت لڑکا تھا بلکہ اسکے علاوہ بھی لڑکیوں کے توجہ کا مرکز بننے کے کچھ وجوہات تھے۔ وہ بڑی گاڑی میں برانڈڈ سوٹ بوٹ پہن کر کالج آتا تھا- کالج کے سپورٹ ٹیم میں ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی پیریڈ نہیں لیتا بلکہ گرل فرینڈ کے ساتھ پورے کالج میں گھومتا پھرتا نظر آتا- یہی وجہ تھی کہ کبھی کوئی لڑکی اس کے لئے پارٹی رکھتی تو کبھی کوئی لڑکی اس کو پھول دیتے ہوئے پر و پوز کرتی نظر آتی-
ان عجیب وغریب باتوں اور حرکتوں کیوجہ سے کالج کے ہرکونے میں سٹوڈنٹس سے لے کر ٹيچرز تک سب ان کو موضوع بنا کر تذکرے کرتے رہتے-
آج عینی اور عروج کو اس لڑکے سے زیادہ ان جونئیر پر غصہ آرہا تھا جو اس جیسی لڑکے کو اپنا آئیڈیل بنا کر اور خود کو اسکے فین بتا کر اس کو دیکھ کر اور ان سے بات کرنے پر بے انتہا خوشی کا اظہار رہی تھی۔
عروج بولی : پتا نہیں ہمارے کالج کا انتظامیہ یا یہ ڈسپلن کمیٹی اس ناسور کو ختم کیوں نہیں کررہے- "ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے" کے مصداق اپنے کالج کے پورے ماحول کو خراب کررہی ہے، جب ہم فرسٹ ائیر میں یہاں آئے تھے تو صرف یہ ایک لڑکی تھی اب دیکھو ذرا ایک دو سال میں سپورٹ کے نام پر ساری لڑکیاں اسکے نقش قدم پر چلنے لگی ہے- تقریبا سب نے بوائے کٹ کرواکر یہ حلیہ اختیار کیا ہے، اور اسی طرح کی حرکتیں کرتی رہتی ہے-
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم عروج انکو تو دیکھنا بھی گناہ ہے-عورت تو حیا کا پیکر ہے- یہ عورت کی عصمت کی توہین کر رہی بے-
عینی اور عروج یہی گفتگو کرتے ہوئے لائبریری پہنچ گئے-
عینی تو ناولز کی الماریوں کی طرف چلی گئی جبکہ عروج دروازے نزدیک پڑے آج ،مشرق ، ایکسپریس، روزنامہ پاکستان کے نئےاخبارات کو پڑھنے لگی,
بی ایس اردو کی طالبہ ہونے کیوجہ سے وہ اکثر اردو کے تمام آرٹکل پڑھتی رہتی تھی-
آج 1 ستمبر 2021 کے روزنامہ پاکستان اخبار میں *تعلیم کا تیزاب*
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان
کا کالم چھپا تھا۔ بہت دلچسپی سےپورا کالم جلدی سے پڑھ کر اپنے پاس بیٹھی دوسرا اخبار پڑھنے والی لڑکی کو مخاطب کیا۔ جو سپورٹ کا صفحہ کھول کر بیٹھی تھی۔
سپورٹ کے نام پر جو کچھ ہمارے کالج میں ہورہا ہے یہ بلکل اس کالم *تعلیم کا تیزاب* کے مترادف ہے۔
لڑکی عروج کیطرف متوجہ ہوکر دلچسپی سے سننے لگی۔ عروج نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی:
اس کالم میں غلام جیلانی صاحب کہہ رہے ہے کہ زبان اور ثقافت کے بدل جانے سے پورا معاشرہ (یا معاشرے کا غالب حصہ) کیسے تبدیل ہو جاتا ہے ۔1857 پہلی جنگِ آزادی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہے کہ اس جنگ کے بعد لارڈ میکالے نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ ہندوستان کے باسیوں کو زیرِ تسلط لانے کے لئے ان کے جسم کی بجائے ان کے دماغ اور ذہن پر قبضہ کرو۔ دماغ بدلا تو جسم خود بخود بدل جائے گا۔
لڑکی بولی یہ تو بلکل سچ کہا ہے اس انگریز نے اسلئے تو آج ہمارا معاشرا اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی تصور کرتے ہے۔ اور انگریزوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نظر آتے ہے۔
یہی تو عروج مزید وضاحت کرتے ہوئے بولی آپ کو پتا ہے اقبال نے انکی اس بات کو اپنے اشعار میں کس طرح بیان کی ہے۔ لو یہ اقبال کا قطعہ پڑھ لو
لڑکی نے جلدی سے عروج کے ہاتھ سے اخبار لے کر تیز آواز سے پڑھنا شروع کیا
ایک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
برّے (بھیڑ کے بچے)پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
"تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر"
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر ""
قطعہ مکمل کرکہ وہ لڑکی عروج سے کہنے لگی۔اس میں ”لردِ فرنگی“ سے مراد یہی انگریز لارڈ میکالے ہےنا؟
جی ہاں عروج نے جواب دیا :اقبال کے اس قطعہ میں تعلیم کے تیزاب کا جو ذکر ہے۔ یہ تیزاب اتنا کارگر ہوتا ہے کہ سونے کے ہمالے کو مٹی کا اک ڈھیر بنا دیتا ہے۔
ہم نے زبان کے معاملے میں دیکھا بھی کہ جب انگریز نے ہندوستان کے تعلیمی اور تدریسی اداروں میں فارسی کی جگہ انگریزی زبان رائج کر کہ اپنی نظریات پیش کئے تو صرف 90برسوں میں (1857ء تا 1947ء) انڈیا کا سونے کا ہمالہ، مٹی کا اک ڈھیر بن گیا۔
آج آزادی کے بعد بھی ہم اس مٹی کے ڈیر کو سونے کا ہمالیہ نہیں بناپائے مطلب اپنی قومی زبان اردو کو رائج نہیں کررہے بلکہ آج بھی انگریزی زبان کی دفاع کرتے رہتے ہے۔
انگریزوں نے ہمارے دماغ و ذہن پر قبضہ کیا ہے، ہم انکے نقش و قدم پر چلنے والے ذہنی غلام بن گئے ہے۔ اور وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب وہ یہی سب کچھ ہمارے تہذیب اور ثقافت کیساتھ کررہے۔ ہماری اخلاق، اقدار روایات کو مختلف طریقوں سے برباد کر رہے ہے۔ کالج میں گھومنے والے لڑکا نما لڑکیوں کا یہ کلچر بھی اس کڑی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔
عروج لڑکی کیساتھ اس آرٹیکل پر ڈسکشن میں مصروف تھی کہ اتنے میں عینی ناولز چھوڑ کر اسکے پاس آ بیٹھ کر کہنے لگی عروج میں نے ایک نئے ناول جام طلب کی بہت تعریف سنی ہے مگر ہماری لائبریری میں وہ ناول ابھی نہیں آیا۔
اتنے میں بولتی ہوئی عینی کی نظر عروج کے سامنے پڑے ایک اخبار کے پہلے صفحہ پر موجود رپورٹ پر پڑی تو انگلی رکھ جلدی سے عروج کو متوجہ کیا یہ دیکھو عروج یہ لڑکیوں سے لڑکے بننے کا مسئلہ تو صرف ہمارے کالج کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ عروج جلدی سے اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے رپورٹ پڑھنے لگی۔
رپورٹ کی سرخی یہ تھی کہ پچھلے 3 سالوں 28ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جنس تبدیل کرائی۔جسمیں تقریبا 17 ہزار تک افراد مرد سے عورت یا ٹرانسجنڈر بنے جبکہ 13ہزار تک افراد عورت سے مرد بنے اس کیساتھ ایک پوری لمبی فہرست بتائی گئی تھی۔
اگر تمام تعلیمی اداروں میں اسی طرح ان کو روکنے کے بجائے پروموٹ کیا جائیگا تواس رپورٹ کی یہ ہزاروں کی تعداد جلد ہی لاکھوں میں تبدیل ہوجائیگی ۔ پتا نہیں اور کیا کیا دیکھنے کو ملے گا بس بند کرو چلو چلتے ہے یہاں سے ورنہ مجھے کچھ ہوجائیگا۔
عینی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔ بلکل ، لائبریری پیریڈ بھی ختم ہوگیا ہے میم کلاس لینے آئی ہوگی۔ دونوں لائبریری سے نکل کر کلاس کیطرف جانے لگے۔
بنت حوا
0 Comments
Assalamualaikum