قسط نمبر:- 15,16
ناول :-- ملال درد
مصنفہ:- حاجرہ یاسمین
سکندر۔۔۔۔۔
یار گولڈی اس بابے نے میرا بہت دماغ خراب کیا ہے آخر بتا کیوں نہیں دیتے اسے کے کہاں ہے اسکی بیٹی۔۔ عذاب ہے یار یہ۔
وکی۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں بتا دو بابے کو کہ اسکی بیٹی کو ہم نے ڈکار مار کہ ہضم کر لیا۔پاگل ہو کیا سکندر بابے کو زرہ سی بھنک بھی ہوئ نہ کہ اسکی بیٹی کو ہم نے ہی۔۔۔
گولڈی۔۔۔۔۔
شششششش دیواروں کےبھی کان ہوتے ہیں۔۔
سب ہنستے ہوئے۔
سوہان اب اگلا شکار ڈھونڈنا پڑے گا۔
سکندر۔۔۔
اگلا شکار میں نے ڈھونڈ رکھا ہے بس چند ماہ تک دستیاب ہوگا۔۔
گولڈی ۔۔۔۔
ارے واہ سیٹھ آپ بھی شکار ڈھونڈنے لگے یہ کام تو ہمارا تھا۔
سکندر۔۔۔
بس یار اس شکار کہ انتظار میں تو تیرا یار کافی عرصے سے ہے بس دعا کرو شکار جال میں پھنس جاے
سکندر اور اسکے دوست اپنے ممنوں ارادوں کی پلاننگ کرتے ہوے۔۔
_____________________________جوش ممی ممی۔۔
کیا ہوا جوش کیوں چیخ رہے ہو۔
ممی کیتھرین کا پتہ چلا ہے وہ یواےای میں ہے پوپ نے اسے جس گروہ کے ہاتھوں بیچا ہے وہ یو اے ای کا گروہ ہے دعا کریں کہ میں وہا ں جلد از جلد پہنچ جاؤ۔۔
میگھن۔۔
جی میرے بچے میں بھی تمہارے ساتھ جاؤ گی۔
جوش۔۔
نہیں ممی وہ کوئ عام گروہ نہیں بلکہ پوری دنیا میں معصوم لوگوں کو اس گروہ نے اپنے نشانے پر رکھا ہے خاص طور پر نوجوان نسل اور لڑکیوں کو۔ مجھے اکیلے جانا ہوگا۔
میگھن۔۔۔
اوکے بیٹا ۔۔۔جاو ۔
خدا کی امان۔
_____________________________دادو
رومان بیٹا گھر سے باہر جاؤ کوئی دوست بناؤ ایسے گھر میں کب تک بیٹھی رہو گی۔
رومان۔۔۔۔
دادی ڈر لگنے لگا ہے مجھے دنیا سے لوگوں سے۔۔
دادی۔۔
ارے میری پیاری بہادر بیٹی کیوں ڈرتی ہو
ساری دنیا تو ایک جیسی نہیں ہے لوگوں میں اٹھو بیٹھو گی تو دھیان بٹ جاےگا
رومان۔۔
جی دادی کوشش کرتی ہوں اب باہر جانے سے گھبراتی ہوں
نسرین بیگم۔۔۔
ارے رومان بیٹا دیکھو زرہ تم کب سے گھبرانے لگی تم تو اپنی ماما کی بہادرا ور نیک بچی ہو نہ
رومان۔۔۔
اور زرہ قسمت اور کم بخت بھی
نسرین بیگم۔۔۔
رومان بیٹا ایسے نہیں کہتے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں
رومان۔۔۔۔۔
امی میں ٹوٹ گئی ہوں۔۔
لوگوں کے تیزو تند جملے مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔ تھک گی ہو ں میں
رومان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے ہی آنکھوں سے ایک بے بس ریلے کی طرح بہہ نکلا۔
_____________________________جوش۔۔
ہیلو۔۔
گولڈی۔۔۔
ہاے جی بتائیے۔
کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی۔
جوش۔۔۔
جی محترم میں اپنی بہن کو ڈھونڈنے آیا ہوں۔مجھے کسی
نے یہیں کا پتہ دیا تھا۔
گولڈی۔۔۔: ہاں تو ڈھونڈ لو۔اچھا روکو یہاں کا پتہ کہاں سے لیا آپ نے ۔۔
جوش ۔۔۔
مجھے کسی دوست کی مدد سے ملا ہے۔
گولڈی۔۔۔۔۔ اچھا سہی سہی۔
۔جوش کے جانے کے بعد گولڈی نے جلدی سے گاڑی کو سکندر کے فلیٹ کی طرف موڑ دیا
سکندر سکندر کہاں ہو سوہان وکی
کہاں ہو سالوں۔۔
سکندر ۔۔۔
ابے کیا ہوا کیوں زبان تالو سے نہیں لگ رہی بتاؤ کیا مسئلہ ہوا ہے
گولڈی۔۔۔
تم لوگ سنو گے تو میری زبان تالو سے نہیں لگ رہی نہ تم لوگوں کی زبان اندر ہی نہیں رہے گی۔۔
کوئ گورا آیا تھا ۔۔۔ آسٹریا سے اپنی بہن کو ڈھونڈنے اور ہاں اس گورے نے مجھے پتا کیا کہا کے اسے کسی نے ہمارا ہی ایڈریس دیا ہے کہ تیری بہن یہاں ملے گی۔
سکندر۔ ۔۔۔۔۔
ابے کیا بک رہا ہے پہلے ہی کہا تھا مجھے مت ڈالو ان کاموں میں جتنا میرا باپ چھوڑ کر گیا تھا اتنا ہی کافی بلکہ زیادہ تھا میری سات نسںلیں بیٹھ کے کھاتی ختم نہ ہوتا اور تم۔لوگوں کے پیچھ لگ کر میں نے یہ سب کیا۔
وکی۔۔۔۔
سکندر ہم بھی تیرے پیچھے اے تھے۔۔
سوہان۔۔۔۔اور ہاں ایک دوسرے کو الزام دینے سے بہتر ہے سوچو کس نے ہمارا ٹھکانہ بتایا اور شکر کرو وہ بابا وہاں نہیں تھا ورنہ گورے کیساتھ مل کر وہ بھی اپنی بیٹی کا سوراخ لگا لیتا اور ہم سب سیدھا اندر۔۔
سکندر ۔۔ ارے ارے اتنا بھی مسلہ نہیں پریشان مت ہو گورے نے سیدھا ہم سے رابطہ کیا ہے یہ شکر کرو کسی پولیس وغیرہ کے پاس نہیں گیا ورنہ یہ تو پاکستان کی پولیس نہیں جو دے دلا کر چھوڑ دے۔۔۔یہ تو ساتھ نسلوں سے بھی اگلوا لیتیں ہیں۔
۔۔۔بس ہمیں گورے کو ڈرا دھمکا کر یہ پھر اسے بابا کی طرح یہ یقین دلانے کی کوشش کرنی ہے کہ ہم اسکی بہن کو نہیں جاتے ہمیں نہیں پتا۔
گولڈی۔۔۔۔ابے بغیرت اسکی بہن وہی ہے جو ہمارے پاس تین ماہ پہلے ائ تھی
سکندر۔۔۔۔۔۔کون وہ کیتھرین نام تھا جس کا
گولڈی۔۔۔۔
ہاں وہی۔۔۔
اللہ جانے ۔۔گولڈی نہایت گھٹیا الفاظ سے کیتھرین کا یاد کرتا ہوا
وہ توٹیکی نہیں۔ ہمارے پیسے بھی خراب کیے 3 ماہ میں ہی بھاگ گئ۔۔
اپنے پیسے تو پورے کرتی
یہاں یہ چاروں جوش کو یہاں سے نکالنے کے طریقے سوجھ رہے تھے وہاں جوش دیار غیر میں اپنی بہن کو ڈھونڈ رہا تھا کہ کہیں سے اسے کو پوائنٹ ملے کہ آخر کیتھرین کہاں گئی۔
_____________________________ارے ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بچی باہر نکلی۔۔
نسرین بیگم رومان کو حجاب کرتے ہوئے دیکھ کر بولی۔۔۔
رومان۔۔۔۔
بس امی میرا دل گھبرا رہا تھا سوچا کچھ دیر کے لیے ملیحہ کے ہاں چلی جاؤ۔
بی اماں۔۔۔
ضرور جاؤ ام رومان گل بیٹی ایسے کب تک گھر میں بیٹھی رہو گی۔ باہر نکلنے سےانسا ن کا موڈ فریش ہوجاتا۔
رومان جی دادی۔۔۔
_____________________________میگھن۔۔۔
ہاں بیٹے پتہ چلا بہن کاکچھ۔۔
جوش۔
جی ممی میں اس جگہ پہنچ گیا جہاں کا پتہ پوپ نے عدالت میں دیاتھا وہاں نہیں تھی کیتھرین آج پھر جاونگا۔
میگھن۔۔۔۔
جوش بیٹا میری آنکھیں میری بچی کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہیں سے بھی ڈھونڈ لاؤ بیٹے میں اپنی بچی سے معافی مانگنا چاہتی ہوں اسے وقت دینا چاہتی ہوں اسکے لاڈ اٹھانا چاہتی ہوں میگھن نے روتے ہوئے فون بند کردیا ۔
میگھن کو کتھرین کی جدائی شوہر کی بے وفائی اور جوش کی حالت نےا س قدر کمزور کر دیا تھا کہ اب وہ چھوٹی سی بات بھی سن کر رونے لگتی تھی۔
_____________________________
[: ملیحہ سے ملنا ہے مجھے٫ کہاں ہے وہ اسے کہیں رومان ائ ہے۔
رومان گاڈ کو انسٹریکشن دیتے ہوئے۔
گاڈ۔۔۔
جی وہ تو لاسٹ سنڈے ہی یہاں سے یو اے ای چلے گئے ہیں۔اپ کو کیا کام ہے آپ مجھے بتا دیں میں آپکا پیغام ان تک پہنچا دونگا
رومان۔۔۔
نہیں نہیں۔۔میں خودی ہی کر لونگی بات ان سے مجھے لگا یہیں ہیں۔
گاڈ۔ ۔۔۔اوکے میم
رومان۔۔وہاں سے واپسی پر ناجانے کن سوچوں میں گم تھی بس ایک کار نے بڑی مشکل سے بریک لگائی رومان زرہ سے مہلت سے بچی۔
گاڑی والا۔۔۔
میم اپکو دیکھائی نہیں دیتا آپ بیچ سڑک میں جا رہیں ہیں ۔اگر ابھی کچھ ہو جاتا تو۔
رومان۔۔۔۔۔۔ سوری سوری
نسرین بیگم۔۔۔
ارے رومان اتنی جلدی آ گئ آپ ابھی تو گئ تھیں۔
رومان۔۔۔۔جی امی بس وہ ملیحہ گھر نہیں تھی تو آ گئ میں واپس۔
دادی۔۔۔
تو ردا کی طرف چلی جاتی۔
رومان۔۔۔
دادی وہ۔۔۔
وہ کیا دادو کی جان۔
رومان۔۔۔
دادی ملیحہ یواے ای چلی گئی ہے تو میں سوچ رہی ہوں میں وہاں چلی جاؤ ملیحہ سے بھی مل لونگی اور عمرہ بھی کر لونگی۔۔
بی اماں۔۔۔۔ارے ایسے کیسے بیٹا اکیلی کیسے جاؤ گی یہ ممکن نہیں بیٹا۔
رومان۔
امی ،دادی ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ کہیں جاتی نہیں اور اب دیکھیں منع کر رہیں
بی اماں۔۔۔
اچھا بیٹا دیکھ لو۔
اللہ تمہارے لے آسانیاں کرے۔۔۔پر مجھے کچھ مناسب نہیں لگ رہا۔۔باقی اللہ تمہارا مددگار ہو امین۔
______________________________سکندر۔۔۔
یار آج دیکھو زرہ یہ جو،نیا مال آیا ہے اس کا کیا کرنا۔
گولڈی۔۔۔
بہت تیز ہے جناب یہ عام لڑکیوں کی طرح نہیں ہے گھر سے بھاگی ہے بڑی مشکل سے کنٹرول کر کہ لایا ہوں۔۔یہاں بہت احتیاط سے رکھنا پڑے گا اسے۔۔
سکندر ۔۔۔۔کر لیں گے یار یہ بتاؤ اس گورے کا کیا بنا کیا نام بتایا تھا تم نے۔ہاں جوش خروش کا
گولڈی۔۔۔
کل سے تین دفعہ چکر لگا چکا میں نے کہا دیکھ لو اب سب کھولا ہے ؟دعا کرو آج نہ اے۔ ورنہ آج اگر ا گیا تو اس لڑکی۔ کو دیکھ کر اسکا شک یقین میں بدل جاےگا کہ ہو نہ ہو اسکی بہن یہی کہیں تھی۔۔
_____________________________
جوش۔۔۔
۔سنے زرہ مجھے آپکی مدد چاہیے۔۔
عارف صاحب۔۔۔
جی جناب کیسی مدد ۔۔۔
جوش۔۔وہ میری بہن گم۔ہوگی ہے میں اسکی تلاش میں آسٹریا سے آیا ہوں مجھے کسی نے یہی ایڈریس بتایا تھا۔
عارف صاحب۔۔۔
جوش کی بات سنتے ہی عارف صاحب نے جوش کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ارے برخودار خاموش ہو جاؤ۔۔اور چلو میرے ساتھ۔۔
تمہاری بہن کا کیا نام تھا
اتنے میں جوش کے موبائل کی رینگ ٹون بجی دوسری طرف سے ملنے والی خبر نے جوش کے پاؤں سے زمین چھین لی۔۔
میگھن جو کب سے بیٹی کی جدائی کا درد برداشت کر رہی تھی اپنی بیٹی کی اس حالت کی اصل وجہ وہ خودی تھی۔۔
مغربی معاشرے بچوں کی تربیت کو ان پر جبر سمجھتا ہے آج اسے جبر کی بھینٹ میگھن چڑھ گی۔۔اسے بھی لگتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ایک اچھی زندگی دے رہی ہے ان پر روک ٹوک نہیں ہے وہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے جی رہے ہیں ۔۔اور آج مغربی روایات کے بوجھ تلے ایک اور عورت کو دفن کیا جا رہا تھا۔
۔۔۔مشرقی عورتیں میگھن اور کیتھرین جیسی لڑکیوں کو دیکھ کر کہتی ہے ہاے کاش ہم بھی ان جیسے ہوتے کاش ہمارے پاس بھی یہ سب کچھ ہوتا۔۔۔۔ارے میری پیاری بہنوں اسلام نے اپکو عورت کے روپ میں ماں بہن بیٹی اور نواسی جیسے درجے دیے ہیں۔۔یہ سکرین پر نظر آتی اچھلتی کودتی لڑکیاں اصل زندگی میں تم سے بہت پیچھے ہیں تمہاری حسن وحیا تمہارا زیور ہے جو ان مغربی کٹپتلیوں کوموثر نہیں ہے۔۔
عارف صاحب ۔۔جوش کی غیر ہوتی حالت کو بظاہر بھانپتے ہوئے گویا ہوئے کیا ہوا بیٹا۔؟
جوش۔۔۔ائ ایم سوسوسوری میں آپ سے پھر ملاقات کرونگا ۔۔۔مجھے ابھی جانا ہے۔
عارف صاحب۔۔۔۔۔
ارے سنو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔سںنو تو نام تو بتا دو
جوش ۔۔۔۔۔
عارف صاحب کو نظر انداز کرتے ہوئے انکی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔
عارف صاحب۔
ہو نہ ہو یہ فاطمہ کا ہی بھائ ہو گا پر یہ نام تو بتاتا۔۔۔
خیر ل
بہت پریشان لگ رہا تھا اللہ اسکی مدد کرے اماللہ میری بچی بھی مل جاے اللہ میری بچی کو اپنے امان میں رکھنا۔امین۔
جاری ہے۔
_____________________________رومان۔۔۔۔
کیسی ہو ملیحہ۔۔اور آج کل یو اے ای میں ہو بتایا ہی نہیں۔
ملیحہ۔۔۔۔
الحمداللہ میں ٹھیک میں تو کب سے تمہیں رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر تمہارا موبائل آف تھا۔۔سناو کب آرہی ہواور شیث کابتاو کیسا ہے آنا نہیں تم۔لوگوں نے عمرہ کرنے۔۔
ملیحہ رومان کوسنے بغیر نان سٹاپ بولے جارہی تھی کہ رومان کی ہچکیوں نے اسے بریک لگانے پر مجبور کیا ۔
ملیحہ۔۔۔۔
رومان تم رو کیوں رہی ہو بتاؤ کیا ہوا۔۔۔
پھر جو داستان غم رقم ہوئی تھی پیچھلے 5 ماہ میں رومان نے اپنی دوست کو سب سناڈالی صبر اور محبوب سے محبت کاعالم۔یہ تھا کہ اس درد بھری داستان کی جہاں ملیحہ کو رولا دیا وہیں ۔رومان نے الحمداللہ کہہ کر اس کو حیران کر دیا ۔۔مجھے اپنے رب کی ذات سے کوئی گلا نہیں مجھ میں اس بوجھ کو اٹھانے کی سکت تھی جبھی میرے رب نے مجھ پر اتنا رکھا میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں۔۔رومان کی آواز بھاری ہوئ اور پھر اس نے دل کی تمام بھڑاس آنکھوں کے راستے خود سے مایوسی کو دور دھکیل دیا۔۔
_____________________________
0 Comments
Assalamualaikum