سچی کہانیوں پر مبنی تاریخ کے جھروکوں سے جھانکی ایک زندہ تحریر
قسط نمبر 1
رات کے 9 بج رہے تھے کھانے سے فارغ ہوکر سب ٹولیوں میں بٹ گئے۔ شفا اپنی امی اور بہن کے ساتھ چچیوں کی محفل میں جا کر بیٹھی مگر کچھ ہی دیر میں اکتا گئی ۔۔۔
کیونکہ وہ سب اپنی شادی شدہ زندگی ڈسکس کر رہے تھے۔ جونئیر کزنز گروپ میں جاکر تھوڑی دیر بیٹھی تو وہاں کارٹونز اور عثمان ڈرامے کی ڈسکشن شروع تھی جس میں شفا کو کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔ پورے گھر میں بلکہ خاندان میں اسکی ہم عمر کوئی کزن نہیں رہی تھی۔کیونکہ شفا کے خاندان میں کم عمری میں شادیاں کروانے کا رواج عام تھا۔ آخر کار آٹھ کر دادی جان کو ڈھونڈنے لگی جو دسترخوان کا بچا ہوا کھانا لے کر گارڈن میں بلیوں کو کھلا رہی تھی۔
شفا نے دادی کے قریب آکر چپکے سے پوچھا۔
"یہ کیا کر رہی ہے میری پیاری دادی جان "
دادی جان:
ہم اور کر بھی کیا سکتے ہے، ہم سب نے کھانا کھایا،تو اسلئے بچا ہوا کھانا ان بلیوں کو کھلانے آئی ہوں۔ 5 6 بلیاں دادی کے سامنے کھانے میں مصروف تھی۔
بلیوں سے اس قدر محبت کا اندازہ تو شفا کو بچپن سے ہی تھا کیونکہ اس وقت تو ہر بلی کا باقاعدہ نام رکھا جاتا۔ ایک دفعہ شیریں بلی اپنے دودھ پیتے بچے آرمانی کو چھوڑ کر اچانک غائب ہوئی تو بابا نے آئی ڈراپر کو اسکا فیڈر بناکر دودھ پلایا کرتے تھے۔
لیکن بڑی ہونے پر پڑوس میں زہریلی دوا کھانے سے آرمانی کی نکلتی روح پر اسکے اردگرد بیٹھ کر پورے گھر نے سوگ منایا ۔وہ الگ بات ہے کہ آجکل کی طرح بلی کو کبھی گھود میں نہیں لیا یا نا کبھی کس کیا ، بلکہ بلی پر کپڑا ڈال کر پکڑا کرتے تھے۔۔
"دادی بس چھوڑیں ان بلیوں کو چلیں میرے ساتھ مجھے کہانی سنائیں "۔
شفا دادی کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرے میں لے آئی اور اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔
"دادی جان میں آپ کے لاڈلے اور اکلوتے پوتے کی عشق کی داستان لکھنا چاہتی ہو آپ مجھے اسکی زندگی کی کہانی سنائے۔ آپ کو تو پتا ہے اس وقت میں چھوٹی تھی تو مجھے مکمل کہانی یاد نہیں لیکن کچھ سین تو میرے دل و دماغ پر نقش ہوگئے ہیں جیسے وہ اسکے آنے کی خبر پر ہمارا جان بچانے کی خاطر اندھا دھند بھاگنا ، وہ بم بھاری اور فائرنگ پر ہمارا چارپائیوں سے گرنا، اور وہ اسکا ہم سب کے سامنے بابا کے سر پر پستول رکھ کر مارنے کی دھمکی دینا اور پھر خود ہی گلے لگ کر بے تحاشہ رونا وغیرہ ایک حافظ قرآن اور انجنیئرنگ کرنے والے خوبصورت اور قابل ترین نوجوان کا پاگل پن تو کبھی کوئی بھول نہیں پائے گا"۔
دادی نے درد چھپاتے ہوئے زرا سا مسکراکر جواب دیا۔
"اسکی پاگل پن کی داستان تو پوری دنیا جانتے ہے۔اس پر لکھ کر کیا کروگی اور میرے پاس اسکی تصویریں اور وہ اخباریں آج بھی پڑی ہے جس میں اسکے بارے میں خبر کیساتھ ساتھ تصویر بھی شائع ہوئی تھی۔اور میں نے سنا ہے کہ اس کے کسی دوست نے اسکی زندگی پر پوری کتاب لکھ ڈالی ہے۔ اگر تم نے لکھنے کی پریکٹس ہی کرنی ہے تو میں آپ کو اپنی نانی کی کہانی سناتی ہوں جو اچھی اعت انوکھی ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے کبھی تم نے نہیں سنی ہونگی۔
اب شفا کی دلچسپی اپنی آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے بار بار سنی جانے والی اس عشق کی داستان کے بجائے ایک نئی اور انوکھی کہانی ( دادی کی نانی کی) میں پیدا ہوگئی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کیوں نا پہلے ایک ان سنی انوکھی کہانی سنی جائے پھربعد میں وہ بھی دوبارہ سُن لونگی۔۔
"ٹھیک ہے دادی جان۔ بس اب آپ جلدی سے شروع کریں"۔
دادی نے کہانی شروع کی تو بیڈ پر لیٹی شفا اپنے ساتھ بیٹھی دادی کو غور سے سننے لگی۔اور دادی نے کہانی شروع کی۔۔۔۔
یہ اٹھارویں صدی میں پیدا ہونے والی ایک خوبصورت 22 سالہ دوشیزہ کی کہانی ہیں جس کا تعلق سخاکوٹ کے ایک مہمند قبیلے سے ہے۔ دولت مند اور جاگیردار باپ کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اس کی پرورش بڑے لاڈپیار سے ہوتی ہے۔جاگیردار کم عمری میں ہی اپنی لاڈلی کی شادی ایک معزز خاندان کے خوبصورت نوجوان سے کرا دیتا ہے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے شادی کے کچھ سال بعد ہی شوہر کا انتقال ہوجاتا ہے ۔ اور یہ ماں باپ کی لاڈلی تین چھوٹی چھوٹی بچیوں صبو جانہ، خانزادگئی، جان بی بی کے ساتھ بیوہ ہوکر واپس میکے آجاتی ہے۔ جلد ہی والد کے سایہ سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔ یہ اپنے بھائی ظریف خان کے ساتھ انکے قلعے میں رہنے لگتی ہے۔اس کے بے تحاشہ حسن و جمال اور بیش بہا مال ودولت کے تو سب دیوانے ہے۔ اسلئے شادی کیلئے پروپوزل پر پروپوزل آرہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ22سالہ دوشیزہ اپنی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو چھوڑ کر دوسری شادی کیلئے بلکل بھی تیار نہیں تھی۔ ان پروپوزل میں ایک اسکے چچازاد کا بھی ہوتا ہے۔ جو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑتا۔کئی بار انکار کے باوجود وہ اس کو اپنے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ اس نے پیار سے بھی سمجھایا کہ اگر دوسری شادی کا ارادہ ہوتا آپ سے ہی کرلیتی لیکن میں اپنے بچیوں کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا ہی نہیں چاہتی۔آپ تو مجھے اپنے بھائیوں کی طرح لگتے ہیں۔مگر یہ بات ماننے کے لیے چچازاد کسی طرح بھی تیار نہیں تھا۔ لیکن خاموش ہوگیا اسی طرح وقت گزرتا گیا۔جب 1918 کو ملاکنڈ میں ایک انگریز john Benton کی سربراہی میں بینٹن ٹنل /ملاکنڈ سرنگ تیار ہوئی تو دور دراز سے لوگ اس کی سیر کیلئے آنے لگے ایک دن سخاکوٹ کی اس مالدار ترین خاندان نے بھی اس سرنگ کی سیر کرنے کا ارادہ کیا۔ظریف خان نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ اپنی اس اکلوتی بیوہ بہن کو بھی سیر پر جانے کیلئے تیار کیا۔ وہ اپنی منجھلی بیٹی جان بی بی کو گھر پر ماں کے پاس چھوڑ کر اور دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ سرنگ کی سیر پر لے گئی۔یہ سرنگ انکے گھرسخاکوٹ سے تقریبا 12 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ملاکنڈ ایجنسی میں واقع تھا اس کی لمبائی ،5 کلومیٹر سے 10 کلومیٹر تک ہے۔ دریائے سوات کا پانی پہاڑ کی اس سرنگ سے نکل کر بوساق کے مقام پر دیرکے دریا کے ساتھ مل کر مردان چارسدہ جیسے میدانی علاقوں کی سر زمین کو سیراب کرتا ہے۔
ظریف خان کیساتھ پورے خاندان کے لوگ وہاں سیر کیلئے پہنچے تو سینکڑوں سیاح وہاں پہلے سے ہی موجود تھے کیونکہ ملاکنڈ ایجنسی نہ صرف سرسبزپہاڑوں سے ڈھکی خوبصورت اور سحر انگیز مناظر کا ذخیرہ ہے بلکہ یہ سوات، دیر چترال اور باجوڑ کے لیے گیٹ وے کا کام بھی کرتا ہے۔اس سرنگ کی کھدائی نے دو دریاؤں اور تین ضلعوں کے ملاپ والے اس حیرت انگیز خوبصورت مقام کی اہمیت اور بڑھا دی تھی۔اسلئے تو دنیا بھر سے سیاح اس کی سیروتفریح کے لئے آئے ہوتے ہیں ۔
اور سب سیاح سرنگ سے نکلتے پانی اور ارد گرد کے سبز پہاڑی سلسلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔مگر یہ چچا زاد دریا کے کنارے بڑے سے پتھر پر بیٹھ کر شیطانی نظروں سے اس کو ہی دیکھ رہا تھا جو اپنے دونوں بیٹیوں کیساتھ دریا کے کنارے منہ ہاتھ دھونے میں مصروف تھی۔ پتا نہیں اچانک چچازاد کے شیطانی دماغ میں ایسا کیا آیا کہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنی ٹوپی اس کی طرف اچھالتے ہوئے کہا زرا اس میں دریا سے تھوڑا پانی تو دینا ۔وہ چچازاد کے سازشوں سے بے خبر صاف پانی اٹھانے کے لئے تھوڑی سی دریا کے اندر اتر گئی ۔اور ٹوپی میں پانی اٹھا کر جیسے ہی مڑی تو اس پیچھے کھڑے چچازاد نے تیزی سے آگے بڑھ کر دریا میں دھکیل دیا۔وہ دریا میں گرتے گرتے کہنے لگی بھائی! تم نے بہت برا کیامیرے ساتھ ۔میرے بچیوں کو بےسہارا کر دیا۔
بچیوں کو ماں کیلئے چیخوں و پکار سن کر خاندان کے تمام افراد اور سیاح اس کو بچانے کی کوشش میں دریا کی موجوں کیساتھ ساتھ بھاگنے لگے پر کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ گری بھی تو گری کیسے۔ جب آخرکار مرنے کے بعد پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔اور۔ پانی کے باہر لایا گیا تو مجرم چچازاد اسکی دونوں پچیوں کو وہی سے اٹھا کر ظریف خان کے ڈر سے بھاگ نکلا تھا۔
قاتل چچازاد نے بھاگتے ہوئے ان دونوں بچیوں کو ملاکنڈ ایجنسی سے91 کلومیٹر کے دور باجوڑ ایجنسی پہنچایا۔ اور وہاں ان دونوں بچیوں کو کچھ پیسو کے عوض بیچ دیا۔
صبوجانہ اور خانزادگئی ان دونوں معصوم بچیوں کے آنسو ماں باپ اور اپنوں کی جدائی میں رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ جبکہ یہ اپنی منجھلی بہن جان بی بی کو خوش قسمت صرف اسلئے سمجھتے تھے کہ اس نے ناصرف اپنی امی کا آخری دیدار کیا بلکہ ننھیال میں گڑیوں کی طرح پل بھی رہی تھی۔ ظریف خان نے اپنی اکلوتی بہن کی رہ جانے والی اس آخری اور اکلوتی نشانی کا خوب خیال رکھا اور بڑی ہونے پر ایک امیر شخص سے شادی بھی کروا دی۔ شادی کے بعد وہ اپنے ننھیال آتی رہتی تھی جبکہ ان دونوں بہنوں کو باجوڑ میں کوئی خوشی مؤثر نہیں آئی۔۔۔۔
شفا نے دادی کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا۔
اوہ تو مجھے اب سمجھ آیا کہ لوگ آپ کو باجوڑئی کیوں کہتے ہے۔
تو مطلب ان دونوں بچیوں میں سے ایک بچی آپ کی امی تھی جو اپنی والدہ کے موت پر ملاکنڈ ایجنسی سے باجوڑ ایجنسی پہنچ گئی تھی ۔
دادی جان نے اثبات میں سر ہلایا
بلکل ٹھیک سمجھی ان میں صبوجانہ میری ماں تھی۔ جو باجوڑ کے ایک جاگیردار ملک نے خریدی اور اسکو پال کر بڑا کیا۔۔
باجوڑ کے اس نامی گرامی جاگیر دار ملک کے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھی۔ انکے پاس دولت کی فراوانی تھی انہوں نے بچپن میں صبوجانہ کو خرید کر بڑا کیا بالغ ہونے پر صبوجانہ کی شادی اپنے تیسرے بیٹے گل خان سے کروائی جو نہایت ہی شریف اور نیک سیرت انسان تھا وہ صبوجانہ سے بہت پیار کرتا تھا ملکہ بنا کر رکھا گھر کا کوئی بھی کام کبھی ان سے نہیں کروایا سب کچھ خود کرتے یا نوکروں سے کرواتے۔ صبو جانہ کی خوشیوں بھری زندگی ایک بار پھر دکھی سے بھر جاتی ہے کیونکہ 3بیٹیوں اور 1بیٹے کی ماں بنتے ہی گل خان کا انتقال ہوجاتا ہے ۔گل خان اپنی زندگی میں ہی بڑی بیٹی زرجا کی (جسکی عمر 17سال)شادی کروا چکا تھا جبکہ 5سالہ خانم 3سالہ حکیم اور اور گود میں 1سالہ سلطانہ صبو جانہ کے پاس چھوڑ جاتا ہے ۔
ملک نے مرنے سے پہلے سینکڑوں سینکڑوں ایکڑ زمینیں اپنے چاروں بیٹوں میں یکساں تقسیم کر دی تھی مگر اپنی بدعملی کیوجہ سے رہ جانے والے چھوٹے دیور سعید اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اسلئے اب اپنے بھائی گل خان کے یتیموں کے حصے پر قابض ہونا چاہتے تھے۔ بیوہ کا حصہ ختم ہوجائے۔ سب سے چھوٹے دیور سعید نے صبوجانہ کی عدت پوری ہوتے ہی اسکی زبردستی گاؤں کے دوسرے ملک محمد کریم کیساتھ شادی کروائی۔اس ماں سے تینوں بچے چھین کر ان کے جائیداد پر عیاشی کرنےلگے۔
صبوجانہ کا دوسرا شوہر ملک محمد کریم ایک نرم دل آدمی تھا اپنی پہلی بیوی کی وفات پراپنے 4 5 بچوں کی تکلیف دیکھنے کیوجہ سے بہت حساس ہوگیا تھا وہ اس بیوہ کیساتھ ان 3 یتیم بچوں کو بھی اپنے کفالت میں لینے کیلئے تیار تھا مسلسل ان کے چچا کو منتیں کر کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو ماں سے الگ نہ کرنے کی درخواست کرتا مگر بچوں کے نام بھائی کی جائیداد کے لالچ نے ان کو اس قدر اندھا کردیا تھا کہ ماں کی گود سے دودھ پیتی بچی کو بھی چھین کر چیختی چلاتی ماں کو اذیت میں چھوڑ گئے تھے۔اور اس ظالم و جابر چچا نے ان بچوں کو زندگی بھر پھر کبھی ماں سے ملنے نہیں دیا۔ صبوجانہ کیلئے اب بحثیت ماں اور بھی مختلف امتحانات سے گزرنا باقی تھا۔باپ کی جائیداد کیوجہ سے ان کےمعصوم 3 بچوں پر چچا چچی کی ظلم و ستم کی انتہا کی خبریں سن کر وہ روز مرتی پر سانس بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی۔پہلے یتیمی کا غم، ماں کے موت کا غم ،اپنے نزدیک ترین اکلوتی بہن کا شادی کے ساتویں دن فوتگی کا غم،اور اب اپنے بچوں سے بچھڑنے کے غم، ان سب غموں نے صبوجانہ کو نفسیاتی مریضہ بنادیا۔ملک محمد کریم سے انکی دو اولادیں ہوئی ایک بیٹااور ایک بیٹی جو پیدا ہوتے ہی مرگئے ۔۔۔۔۔
صبوجانہ کی دوسری بیٹی خانم جب تھوڑی بڑی ہوئی تو اس ظالم چچا سعید اور چچی نے اسکی شادی 60 70 سالہ بوڑھے تایازاد سے کروا دی۔اور کچھ عرصے بعد انکے ہاں ایک بیٹا محمد پیدا ہوا
شفا
یہ تو مجھے معلوم ہے کہ یہ آپکا لاڈلہ پوتا جن کی داستان میں لکھنا چاہتی ہوں وہ آپکے محمد کا ہی بیٹا لیکن آپ کا پہلا شوہر بوڑھا تھا دادی جان یہ بات تو مجھے آج پتا چلی۔ میں تو سمجھتی آپ کزنز تھے مطلب ہم عمر ہونگے۔
دادی:
نہیں! بیٹا میں انگریزوں کے زمانے کی ضرور ہوں مگر اس وقت ہم اپنے خاندان میں سب سے چھوٹے تھے ۔ اور سب چچازاد بڑے سفید داڑھیوں والے تھے۔ میری صرف ایک ہی ہم عمر چچازاد بہن تھی جو بعد میں میری سوتن بھی بنی تھی۔
شفا:
دادی جان! مجھے آپ کی زندگی کی کہانی بھی سننی ہے۔کہ اس چھوٹی سی خانم کی زندگی میں باپ کے وفات ماں سے بچھڑنے بوڑھے تایا زاد سے شادی اور بچے اور سوتن کے بعد ایسا کیا ہوا کہ باجوڑ سے نکل کر آپ مدین بہرین سے تعلق رکھنے والے خان کے بیٹے میرے دادا کو ملی۔ کیا آپکے بیٹے محمد کی پرورش اور شادی میرے دادا نے کی اور اسکے بیٹے آپ کے پوتے کو انجینئرنگ پڑھانے کیلئے ہمارے گھر کون لآیا تھا۔کیونکہ مجھے جتنا یاد ہے یہ چچا کہی دور رہتے تھے نا۔ مجھے سب کچھ جاننا ہے دادی جان۔
دادی:-
چلو اٹھو میرے بیڈ سے ابھی مجھے بہت زیادہ نیند آرہی ہے آگے کی کہانیاں کل سناونگی گی۔ ابھی 12بج رہے تم بھی جاکر سو جاو شفا کل صبح جلدی اٹھ کر بہن کے گھر بھی جانا ہے۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنت حوا
۔۔قسط 2۔۔۔
https://chandonlinecademy.blogspot.com/2022/02/blog-post_11.html
0 Comments
Assalamualaikum