یہ زندگی کیا کیا دیکھاتی ہے ہم کو

 سچی کہانی دادی کی زبانی





یہ اٹھارویں صدی میں پیدا ہونے والی ایک  خوبصورت دوشیزہ کی کہانی ہیں جو سخاکوٹ کے ایک  مہمند قبیلے میں پیدا ہوئی۔۔ جاگیردار باپ کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اس کی پرورش بہت لاڈپیار سے بڑے بڑے قلعوں میں ہوئی۔کم عمری میں ہی ان کی  شادی ایک معزز خاندان کے خوبصورت نوجوان سے کرا دی گئی شادی کے کچھ سال بعد ہی شوہر کا انتقال ہوگیا ۔ تین بچیوں صبو جانہ، خانزادگئی، جان بی بی کے ساتھ یہ خاندان کی لاڈلی بیوہ ہوکر واپس آئی۔ اور آ کراپنے بھائی ظریف خان کے ساتھ قلعے میں رہنے لگی۔اس کے حسن و جمال اور بیش بہا مال ودولت کے تو سب دیوانے تھے۔۔ مگر ایک چچازاد تو ہاتھ دھو  کر اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔جبکہ  یہ پہلے ہی انکار کرچکی تھی ۔کہ اگر دوسری شادی کا  ارادہ ہوتا  آپ سے ہی کرلیتی لیکن میں اپنے بچیوں کو چھوڑ کر شادی کرنا  ہی نہیں چاہتی۔آپ تو مجھے اپنے بھائیوں کی طرح لگتے ہیں۔مگر یہ بات ماننے کے لیے چچازاد کسی طور تیار نہیں تھا۔ پر خاموش ہوگیا اسی طرح وقت گزرتا گیا۔جب 1918    کو Sir john Benton کی سربراہی میں ملاکنڈ کا بینٹن ٹنل /سرنگ تیار ہوا تو دور دراز سے لوگ اس کی سیر کیلئے آنے لگے ایک دن سخاکوٹ کی اس مالدار ترین خاندان نے بھی اس سرنگ کی سیر کرنے کا ارادہ کیا۔ظریف خان کی حسین اور  لاڈلی بیوہ بہن اپنی منجھلی بیٹی جان بی بی کو گھر چھوڑ کر دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ اس نئے بنائے گئے سرنگ کے سیر پر لے گئی۔یہ سرنگ سخاکوٹ سے تقریبا 12 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ملاکنڈ ایجنسی میں ہے اس کی لمبائی 4 ،5 کلومیٹر سے  آٹھ دس کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ ۔ دریائے سوات کا پانی پہاڑ کے اس سرنگ سے نکل کر بوساق کے مقام پر دیرکے دریا کے ساتھ مل کر مردان چارسدہ وغیرہ کے تمام علاقوں کی سر زمین کو سیراب کرتا ہے۔ملاکنڈ ایجنسی نہ صرف سرسبزپہاڑوں سے ڈھکی خوبصورت اور سحر انگیز مناظر کا ذخیرہ ہے بلکہ یہ سوات، دیر چترال اور باجوڑ کے لیے گیٹ وے کا کام بھی کرتا ہے۔اس سرنگ کی کھدائی  نے دو دریاؤں اور  تین ضلعوں کے ملاپ والے اس حیرت انگیز  خوبصورت مقام کی اہمیت اور بڑھا دی تھی۔اب دنیا بھر سے  سیاح اس کے سروتفریح کے لئے آتے ہیں ۔

پورے خاندان کیساتھ سیر کیلئے وہاں پہنچے تو یہ چچا زاد دریا کے کنارے بڑے سے پتھر پر بیٹھ کر شیطانی نظروں سے اس کو دریا میں منہ ہاتھ دھوتے  ہوئے  دیکھ رہا تھا اسکے ذہن میں کچھ آیا اور اپنی ٹوپی نکال کر اس کو ہاتھ میں  تما کر کہنے لگا کہ مجھے زرا اس میں تھوڑا پانی اٹھا کر دو۔ جیسے ہی وہ پانی اٹھانے کے لئے جھکی تو پیچھے سے  دھکا دیا۔گرتے ہوئے وہ اس شیطان نما شخص سے کہنے لگی میں نے تمھیں بھائی مانا تھا تم نے بہت برا کیامیرے ساتھ اور میرے بچیوں کو ساتھ۔

وہ دریا کے تیز لہروں کیساتھ بہتی ہوئی آخر کار اسکی بچاو بچاو کی آواز بھی دبنے لگی

خاندان کے تمام افراد اور سیاح اس کو بچانے کی کوشش میں دریا کی موجوں کیساتھ ساتھ  مسلسل بھاگ بھاگ رہے تھے مگر کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ گری بھی تو گری کیسے۔ جب آخرکار مرنے کے بعد پکڑنے میں کامیاب ہوکر دریا سے باہر لایا گیا تو مجرم چچازاد اسکے دونوں پچیوں کو لے کر ظریف خان کے ڈر  سےفرار ہوگیا تھا۔ فرار مجرم نے تقریباً 91 کلومیٹر کے مسافت کے بعد باجوڑ پہنچنے پر جب خود کو محفوظ پایا تو ان دونوں بچیوں کو کچھ پیسو کے عوض باجوڑ کے ایک جاگیردار ملک کے ہاتھوں فروحت کردیا۔

ان معصوم بچیوں کے آنسو ماں باپ کی جدائی میں اور معاشرے کے ظلم وستم سہتے سہتے رکنے کا نام نہیں لیتیں تھیں۔جبکہ منجھلی بہن کو خوش قسمت صرف اسلئے سمجھا جاتا کہ انہوں نہ صرف اپنی امی کی آخری دیدار کی بلکہ ننھیال میں گڑیوں کیطرح لاڈ پیار سے پلنے کے بعد ایک امیر شخص سے اسکی شادی بھی کروا دی گئی۔ شادی کے بعد وہ اپنوں سے مل سکتی تھی جبکہ ان دو بہنوں کو باجوڑ میں کوئی خوشی مؤثر نہیں آئی بالغ ہوتے ہی ملک نے بڑی کی شادی اپنے بیٹے سے کروائی اور چھوٹی خانزادگئی کو 400 روپے کے عوض اندوز نامی شخص کے ہاتھوں بھیج دیا۔ شادی کے ساتویں دن ہی دل کے دورے سے انتقال کرگئی۔ جبکہ بڑی بہن 3بیٹیوں اور 1بیٹے کی ماں بنتے ہی بیوہ ہوگئی ۔وہ اپنی زندگی میں ہی  بڑی بیٹی  زرجا کی (جسکی عمر 20سال)شادی کروا چکا تھا جبکہ 8سالہ خانم جا   3سالہ حکیم خا اور اور گود میں 1سالہ سلطانہ تھی  کہ دیور نے اس بیوہ کی عدت پوری ہوتے ہی اس کی زبردستی گاؤں کے دوسرے ملک محمد کریم کیساتھ شادی کروائی۔صرف اسلئے کہ بھائی  کے جائیداد میں اس بیوہ کا حصہ ختم ہوجائے۔ ملک محمد کریم ایک نرم دل آدمی تھا اپنی بیوی کی وفات پراپنے 4 5 بچوں کی تکلیف دیکھنے کیوجہ سے بہت حساس ہوگیا تھا وہ اس بیوہ کیساتھ ان 3 یتیم بچوں کو کفالت میں لینے کیلئے تیار تھا مسلسل ان کے چچا کو منتیں کر کہ بچوں کو ماں سے  الگ نہ کرنے کا درخواست  کرتا رہا مگر بچوں کے نام بھائی کے جائیداد کی لالچ نے ان کو اس قدر اندھا کردیا تھا کہ ماں کے گود سے دودھ پیتی بچی کو چھین کر چیختی ہوئی ماں کو چھوڑ کر لے گئے۔اور پھر زندگی بھر کبھی ماں سے ملنے نہیں دیا گیا۔ زندگی کی تمام غموں کی جیتی جاگتی مثالی بیٹی بہن بیوی اور ماں کے ابھی آزمائشیں ختم نہیں ہوئی ۔ملک سے انکے دو اولادیں ہوئی ایک بیٹا خان زرین اور ایک بیٹی جوپیدا ہوتے ہی مرگئی تھی۔ زندگی میں تمام غم تواس نے اکیلے ہی سہیں تھے۔نہ کوئی سہارا دینے والا تھا اور نا اسکے دکھ درد بھری داستان سن کر  تسلی دینے والا تھا۔ان تمام غموں سے دل برداشتہ ہوکر وہ  نفسیاتی مریض بن چکی تھی۔لیکن ابھی اور غم بھی دیکھنے کو باقی تھے۔ باپ کی جائیداد کیوجہ سے ان کےمعصوم 3 بچوں پر چچا چچی کی  ظلم و ستم کی انتہا کے خبریں سن کر وہ روز مرتی پر سانس بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی۔ 

دوسری بچی خانم جب تھوڑی ہوئی تو اسکی شادی چچازاد سے کروائی گئی وہ چچا زاد ہر وقت مار پیٹ کرتا اور کچھ عرصہ بعد  خانم پر سوتن بھی لے آیا۔ خانم خاموشی سے شوہر ساس سسر اور سوتن کے ظلم سہتی رہی ۔ اللہ نے اسی دوران ایک بیٹے سے نوازا اور جب شوہر دیوانگی کی حالت میں انتقال کرگئے تو خانم کو  نومولود بیٹے احمد کیساتھ گھر سے در بدر کردیاگیا۔

یہ زندگی کیا کیا دیکھاتی ہے ہم کو

مزید پڑھنے کیلئے ہمارے ساتھ رہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

بنت حوا

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...