نہیں ممی پوپ کہہ رہا ہے کہ اس،دن۔فلیٹ کے کاغذات لینے کی بعد میرا کیتھرین سے جھگڑا ہوا،تھا میں نے وہ رات باہر گزاری اور جب میں صبحِ گھر پہنچا تو کیتھرین وہاں نہیں تھی۔
میگھن۔۔۔۔
جھوٹ بول رہا ہے جھوٹا ہے وہ پوپ اسنے میری بچی کو مار دیا اسے میری بچی سے صرف فلیٹ کے کاغذات چاہیے تھے کہاں ڈھونڈوں میں اپنی بچی کو ہم کیس کریں گے اسپر ایسے نہیں جانے دینگے اسے اس نے میری بچی کو استعمال کیاہے۔۔۔میگھن روتے ہوئے۔
جوش۔۔۔۔
ممی بس کر دیں رونا بند کریں۔ہم کیس نہیں کرسکتے ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہوگا کیتھرین پہلی مرتبہ تو گھر سے نہیں گئی۔۔
میگھن۔۔۔
زاروقطار رونے لگی۔سب میری غلطی ہے میں نے تم لوگوں کو وقت ہی نہیں دیا میری بچی کہاں چلی گئی۔ ۔
جوش۔ ۔۔۔۔۔
ممی آپ پلیز ریلکس کریں میں لاونگا ڈھونڈ کے میں خود ڈھونڈ لونگا اسے۔۔
میگھن۔۔
جوش میرے بچے جو کچھ بھی چاہیے لے لو میری بچی کو لے آؤ میرے پاس۔۔
جوش۔۔۔۔۔ماں کو گلے سے لگاتے ہوۓ جی جی ممی
_____________________________میلحہ۔۔۔۔۔۔
رومان کیسی ہو۔،؟
رومان۔میں تو ٹھیک ٹھاک آپ سنائیں محترمہ آپکی چھٹیاں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں تھیں۔ہہم
ملیحہ۔۔۔
بس رومان کیا بتاؤں سب اتنی جلدی جلدی میں ہوا کہ کسی کو بھی نہیں بتاسکی۔
رومان۔۔۔
کیا ہوا کیا نہیں بتایا۔ڈرا کیوں رہی ہو جلدی بتاؤ
ملیحہ۔۔۔۔
رومان چھٹیوں میں میرا نکاح ہو گیا تھا یار اویس کو باہر جانا تھا اور بس اسی چکر میں میرا نکاح کر دیا ممی پاپا نے اور رخصتی انشاء اللہ اگلے سال سٹڈی مکمل ہوتے ہی۔
رومان۔۔۔۔۔
اوہو اویسسسسسس ۔کیاکرتے ہیں یہ اویس صاحب اور ہاں بہت بہت مبارک ہو۔
ملیحہ۔۔۔
اویس یو اے ایی میں لینڈ ایڈوائزر ہیں اور رومان تمہیں پتہ ہے نکاح کے فورا بعد میں اور اویس عمرہ کرنے بھی گے تھے
رومان۔۔۔
ماشاءاللہ ۔۔رومان عمرے کاسن کر گہری سوچ میں چلی گئی۔
ملیحہ۔۔۔رومان کی سوچ کو 180کی رفتار سے دوڑتا دیکھ ملیحہ نے بریک کے لیے اپنی آواز کی ہارن کاسہارا لیا۔
مس ام رومان گل۔۔۔کن کی سوچوں میں گم ہو گئی؟
رومان۔۔۔
ارے نہیں نہیں بس ویسے ہی۔
ملیحہ ویسے تو نہیں ضرور آپ کچھ سوچ رہی پر مجھ سے چھپانے کی ناکام کوشش مت کرو مس ام رومان گل بتاؤ کیا سوچ رہی تھی۔
رومان۔۔۔
یار ملیحہ۔
میلحہ۔۔۔
جی کیا۔
رومان۔۔۔۔
یا کچھ نہیں چلو کلاس میں چلیں
پروفیسر نواز اکبر کی کلاس ہے ۔
ملیحہ۔۔۔
رومان کی بات کو کاٹتے ہوئے جب تک بتاؤ گی نہیں میں کہیں نہیں جا رہی بتاؤں جلدی سے۔اور نہ تمہیں جانے دونگی۔
رومان۔۔۔۔
ملیحہ یار میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ۔
میلحہ۔۔۔
بتاؤں مجھے کیسا۔
رومان۔۔۔
یار میں نے خواب میں دیکھا کہ میری جو ہمیشہ سے خواہش رہی ہے طواف حرم کی وہ پوری ہونے جا رہی ہے میں حرم کے دروازے کے پاس پہنچتی ہوں میرے ساتھ کوئی میرے قدم سے قدم ملا کر میری رہنمائی کرتا ہوا مجھے لے کر چلتا ہے اور پھر جیسے ہی میں حرم کے دروازے پر پہنچتی ہوں میں گر جاتی ہوں۔۔
ملیحہ۔۔۔۔
ارے رومان اس خواب کی تعبیر تو مجھ سے جان لو بہت آسان ہے دیکھو تمہاری بچپن سے خواہش رہی ہے کہ تم حرم کا طواف کرو اور یقیناً انکل سرفراز ہی تمہاری راہنمائی کرنے والے تھے اور جب ان کا انتقال ہو گیا اور تم حرم کے دروازے پر ہوتو اب تمہارا محرم تمہارا شریک حیات تمہیں وہاں لے جاے گا۔
ملیحہ ہنستے ہوئے دیکھو بتا دی تعبیر۔۔۔
رومان۔۔۔۔۔
اگر خوابوں کی تعبیر اتنی آسان ہوتی تو ہر کوئی بیچ چوراہے اپنی دوکان کھول لیتا۔۔
دونوں ہنستے ہوئے حال روم میں داخل ہوئے۔۔۔
____________________________
سکندر۔۔۔۔
دیکھ یار یہ کام بہت ٹیڑھا ہے میں نہیں کرسکتا۔
گولڈی۔۔۔۔
سکندر یا جتنا تیرا باپ تیرے لے چھوڑ گیا ہے اگر تو اس کاایک چھوٹا سا حصہ بھی اسکام پر لگاے گا تو دیکھنا ایک دن میں کیسے تجھے اتنا نفع ہوگا یار میرے باپ تومیرے لیے ایک پھوٹی کوٹی بھی نہیں چھوڑی ساری اس نے اپنے جوے پے لگا دی یار تو کرسکتا ہے
اس کام میں فری کامزا اور پیسہ ہی پیسہ ہے سوچ لو۔ورنہ وکی اور سوہان تو کر رہیں ہیں ۔۔
سکندر۔
اچھا چلو تم سب کر رہے ہو تو۔
سب ہنستے ہوئے۔۔
_________شیث۔۔۔۔
یار مللحان دیکھو تو وقت کی رفتار کتنی تیز ہے پتہ ہی نہیں چل رہا کہ۔کب تین سال گزر گئے اور ہم بس ایک ڈیڑھ سال کے مہمان ہیں۔۔
ملحان۔۔۔۔
سو تو ہے ابھی کل کی بات لگ رہی ہے جب سب اپنا تعارف کروا رہے تھے اور آج دیکھو تین سال کی عرصہ گزر گیا۔۔
ملیحہ۔۔۔ ایسا ہی ہے جناب پتہ ہی نہیں چلتا اور انسان کی زندگی کا ایک دور گزر جاتا ہے۔۔ملیحہ سکندر اور اس کے دوستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔
ملیحہ۔۔۔وقت تو گزر جاتا ہے مگر مکافات کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے برا کرنے والوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے ہر جگہ ہر میدان میں۔۔
شیث ۔۔
ملیحہ کی بات کو آگے۔ بڑھاتے ہوئے۔۔ملیحہ اپ نے بلکل درست فرمایا۔۔
سب گزرے وقتوں کی کتاب پر جمی دھول ہٹا رہے تھے۔۔
ملیحہ۔۔۔
رومان تم کیوں رو رہی ہو کیا ہوا کیسے نے کچھ کہا میلحہ کا اشارہ سکندر کی پلٹون کی طرف تھا۔۔
رومان۔۔۔
نہیں نہیں کیسی نے کچھ نہیں کہاویسے ہی چلو میں نماز پڑھ کے آتی ہوں اوکے۔
ملیحہ۔۔۔
اوکے جاؤ رومان۔
رومان۔۔۔۔
اللہ میں تیری رحمت سے نا امید نہیں بس کبھی کبھی بابا کو یاد کر کہ دل بھر آتا ہے کیسے خوش ہوئے تھے میرے ایڈمیشن پے۔کیسے میری کہی ہر بات پتھر پر لکیر ہوتی تھی۔۔باباتووہ تھے ہی نہیں بادشاہ تھے اور میں اس بادشاہ کی سلطنت کی اکلوتی وارث۔۔۔اللہ میرے بابا کہ مغفرت فرما ۔رومان آنسوں سے تر چہرے صاف کرتی ہوئی میلحہ کہ آنے پر مسکرا دی۔۔
ملیحہ۔۔
تم۔ہنس رہی ہو اور وہاں میں اتنی پریشان تھی کہ کیا ہوا اسے کیسی نے کہیں کچھ کہہ نہ دیا ہو
رومان۔۔۔۔۔ہنستے ہوئے۔۔
تمہیں لگتا ہے میں اتنی کمزور ہوں کیسی کہ کچھ کہنے پر روؤں گی۔۔۔
_____________________________سکندر۔۔۔
اماں اماں۔مجھے اسلام آباد والے فلیٹ کی چابیاں دیں۔
رفعت بیگم۔۔۔
کیوں کیا کرنی ہے بیٹا۔۔۔
سکندر۔۔۔
اماں ایک تو آپ کو کتنی دفعہ کہا ہے سوال جواب نہ کیا کریں بس چابیاں دیں۔
رفعت بیگم۔۔۔۔
ارے پتہ تو چلے۔۔
سکندر۔۔۔
ارے ورے چھوڑے دماغ خراب کر رہی ہیں آپ چابیاں دیں۔۔
رفعت بیگم۔۔
یہ لو۔۔سکندر کے جانے کہ بعد یااللہ اسے ہدایت دے کہیں غلط کاموں۔ میں نہ پڑ جاے میرا بچہ۔
_____________________________ملیحہ۔۔۔۔
یار رومان اگر تم نہیں آرہی تھی کالج تو صبح بتاتی میں بھی آف کر لیتےلی اب بتا رہی ہو جب میں کالج آ گی ہوں۔
رومان سوری یار وہ ماما نے کہا آف کر لو ورنہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ملیحہ۔۔۔
اچھا تو خاص مہمان آرہے ہیں اوکے میڈم۔۔۔۔انجواے۔۔ملیحہ نے ہنستے ہوئے فون رکھ دیا۔
ردا۔۔۔۔۔
ملیحہ یار سنو یہ رومان کیوں نہیں آئی اج۔۔۔
ملیحہ۔۔۔۔یار اس کے گھر مہمان ا رہے تھے تواسکاوہاں ہونا ضروری تھا ۔
ردا۔۔۔۔۔۔
اچھااچھا۔۔ہاں یار اللہ اسکے نصیب اچھے کرے۔امین۔۔انکل کے جانے کہ بعد سے بہت اداس ہوگی ہے
میحہ۔ہہم دعا کرنا ردا رومان کے۔لے۔
ردا۔۔۔
جی جی ضرور۔۔
____________________________بی اماں۔۔۔
ام۔رومان گل بیٹی جلدی سے لاؤ چاے
نسرین بیگم۔۔۔۔
میں بولا کہ لاتی ہوں اماں بی۔
اماں بی ۔۔۔
ہا ں ہاں جاؤ شاباش۔
یہ ہے ہماری بیٹی ام رومان گل۔
مسسز شاہ۔۔۔۔
یہ آپکی بیٹی نے نقاب کیوں کیا ہے ارے میں اس کی ہونے والی ساس کو یہ سسر ہے اور یہ اسکے ہونے والے شوہر۔یہ جو پیچھے بیٹھے ہیں یہ دیوار اور جیٹھ ہیں۔۔نقاب اتارو بیٹی سب آپکے اپنے ہیں۔۔
رومان۔۔۔۔
آنٹی میں شرعی پردہ کرتی ہوں ۔
مسسزشاہ۔۔۔
ہاں تو بیٹا کرو پر گھر والوں سے کون پردہ کرتا ہے ۔
رومان۔۔۔
آنٹی شریعت میں تمام نا محرم حضرات سے پردہ ہے۔۔اور یہاں بیٹھے سب لوگ نا محرم ہے۔
مسسز شاہ۔۔۔۔۔ارے ارے کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو ارے ہمیں نہیں چاہیئے ایسے بہو ضرور کوئ عیب ہو گا ورنہ ایسا پردہ تو نہیں دیکھا آج تک۔
اماں بی۔۔۔۔
یہ باتیں سن۔کر اماں بی غصے کے عالم۔میں گویا ہوئے ارے کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ کوئی بچ بھی عیب نہیں سنے تو۔
نسرین بیگم ۔۔۔________
نسرین بیگم۔۔مسسز شاہ کو روکتے ہوئے ارے روکے تو ہماری با ت تو سن لیں۔۔
مسسز شاہ۔۔۔
نسرین بیگم معزرت پر ہم اپنے بیٹے کا رشتہ یہاں سیم کلاس کی وجہ سے لاے تھے اس۔کے بابا اکثر بھائ صاحب کا ذکر کرتے تھے ہمیں لگا رومان بیٹی کے چند دن کا نقاب شوق اتر گیا ہو گا پر یہ کیا یہاں تو میڈم پوری زندگی ہی ایسے گزارنے کا سوچ رہئیں اپکو تو پتہ ہے ہماری کلاس کے لوگ اس چیز کو بڑا برا،اور دقیانوسی سمجھتے۔۔۔سوری مسسز نسرین۔۔پر مجھے نہیں لگتا آپکی بیٹی کیسی اپر کلاس میں ایڈجسٹ ہو۔۔۔
نسرین بیگم۔۔۔۔
آپ میری بات تو سنے بیٹھ کے تسلی سے بات کرتے میں سمجھاتی ہوں رومان کو روکے تو سہی۔۔
امی اور دادی کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے رومان نے خود اس بات کو ختم کرنے کی سعی کی۔۔
رومان۔۔۔۔
آنٹی میں بہت معزرت کرتی ہوں پر آپ اپنا وقت ضائع مت کریں اور جاے کیسی اپر کلاس کی ہاے اور ماڈرن لڑکی سے اپنے ہونہار بیٹے کی شادی کریں۔۔
مسسزشاہ۔۔۔۔۔
ارے ارے دیکھو تو رسی جل گئی پر بل نہیں گیا باپ کو کھا گئی اور ڈکار تک نہ لیا اور ابھی بھی بجاے اپنے کیے پر شرمندگی محسوس کرے ہمیں جانے کا کہہ رہی اللہ تیرا شکر ہے ۔۔ چلو بھئی چلو سب۔۔۔
مسسز شاہ کے الفاظ کیسی زہر آلود تیر کی طرح رومان کے دل میں پیوست ہوے تھے ایک سچائی تو یہ تھی کہ وہ اپنے بابا کی لاڈلی گڑیا زمانے کی ستم ظریفی کے سامنے کھڑی ہو جاتی اور دوسری یہ کہ زمانے کی لوں جیسے گرم ہوا اسے اے روز یتیمی کے دلسوز تھپڑ رسید کرتی۔۔۔
_____________________________ملحان۔۔۔۔۔۔
یار تمہیں پتہ ہے اس ام رومان کی اینگیجمٹ کاسین ون ہے ۔۔۔
شیث ۔۔۔۔۔
کیا کس سے تمہیں کس نے بتایا۔؟
ملحان۔۔۔۔
یار وہ اسکی چمچی ملیحہ بڑے مرچ مصالحہ لگا کر ردا کو بتا رہی تھی میں نے سن لیااچھا۔
ارے روکو کہاں چلے۔۔
شیث۔۔۔۔
میری اپلیکیشن جمع کروا دینا کل ملتے ہیں۔۔
ملحان۔۔۔
پر جا کہاں رہے ہو۔۔۔
شیث۔۔۔۔۔
کل بتاتا ہوں دعا کرو بس
ملحان۔۔۔
اوکے بڈی۔۔۔
۔۔اور جسے میں نے دن رات دعا میں مانگا کیسے ہو سکتا ہے میرا رب میری التجاء کو ٹھکرا دے میرے مولا میری تجھ سے تنہای میں کی گئی التجاوں کا گواہ بس تو میرے رب اور اگر تو اس پر راضی ہے تو میں بھی راضی ہو جاؤنگا۔۔
دعائیں مانگتا شیث گھر میں داخل ہوا۔
دادی دادی کہاں ہیں آپ دادی۔۔
دادی۔۔۔۔۔
ارے یہاں ہوں کیا ہوا دادی چلیں اپکو کہیں جانا ہے۔
دادی۔۔۔
پر کہاں دادی کی جان بتاؤ تو سہی۔
شیث۔۔۔
آپ چلیں تو وہ سب میں اپکو بتاتا ہوں ۔اے گاڑی میں بیٹھے۔
دادی۔۔۔
اچھا بھئی۔
_____________________________رومان۔۔۔۔۔
دادی آج سےاب آپ دونوں اس ٹاپک پے بات نہیں کرینگی جب ہونی ہوگی ہو جاےگی شادی میری بھی۔
بی اماں ۔۔۔
ناراض ہو دادی سے دادی کی جان
رومان۔۔۔
نہیں دادو میں نے ناراض ہو نا چھوڑ دیا ہے۔۔اب میں ناراض نہیں ہوتی بس آپ کہتی تھی ناں کہ میں زرہ زرہ بات پےناراض ہوتی اب نہیں ہونگی۔
بی اماں۔۔۔۔
دادی تم پر قربان میری پیاری بچی۔۔
_____________________________شیث۔۔۔
دادی میں کہہ رہا ہوں ناں کہ بہت پسند اےگی اپکو آپ ایک دفعہ مل تو لیں
دادی۔۔۔
اچھا بھئی اگر پسند نہ آئی تو
شیث۔۔۔۔
تو پھر جو آپ کہیں گی۔۔
السلامُ علیکم ورحمتہ وبرکاتہ۔۔۔
نسرین بیگم۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ۔جی آئیے
یہاں بیٹھیں۔۔۔
بوابوا چاے لاؤ مہمانوں کےلے
بوا۔۔۔
جی بی بی جی
دادی ۔۔۔
ارے بیٹا رہنے دو چاے تکلف مت کرو۔۔۔
نسرین بیگم۔۔۔
ارے تکلف کیسا ۔
ویسے معزرت پر میں نے اپکو پہنچانا نہیں؟
شیث۔۔۔
آنٹی میں ام رومان گل کا کالج فیلو ہوں اور یہ میری دادی۔
نسرین بیگم۔۔
اچھا اچھا۔۔۔
آپ لوگوں بیٹھیں میں رو مان کو بلواتی۔۔
شیث۔۔۔۔
اپنی دادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارے نہیں آنٹی ہم آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔
نسرین بیگم۔۔۔
اچھا بیٹے۔۔
آپ تو چاے لو۔۔
دادی۔۔۔
رسمئ دعا سلام کے بعد شیث کی دادی اصل مدعے پے آئیں۔
میں دراصل اج آپکے پاس ایک ریکوئسٹ لے کر ائ ہوں
بی اماں۔۔۔
ارے کیسے باتیں کر رہیں ہیں کھل کے بولیں۔۔۔
دادی۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اپنے پوتے کے لیے آپکی پوتی کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں۔پلیز انکار مت کیجئیے گا بڑے مان سے آئی ہوں۔
نسرین بیگم۔۔۔
ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں آپسے مل کر کافی اچھا لگا ہاں البتہ ہم رومان سےضرور اسکی مرضی پوچھے گے۔۔
نسرین بیگم۔رومان کو۔ شیث اور اسکی دادی کی آمد کے حوالے سے پہلے بتا چلی تھیں پر آمد کی وجہ سن کر رومان آبدیدہ ہو گی۔۔ ایسے بھی نوازتا ہے میرا رب وہ شخص جس کا خیال وہ اپنے رب کی نافرمانی گینے جانے پر رد کرتی تھی آج اسی شخص کاساتھ اسے بطورِ انعام نوازا جا۔ رہا تھا۔
بھلہ وہ کیسے ٹھکرا سکتی تھی۔۔
فورا اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجا لائی اسے ایسے شخص سے نوازا گیا تھا جو اسکی زات سے وابستہ رہ رنگ سے واقف تھا
۔۔۔۔۔،🥀اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔۔۔۔،🥀
_____________________________جوش۔۔۔۔۔
ممی ممی۔۔۔
خواب میں۔۔
میگھن۔۔
کیا ہوا جوش میرے بچے۔
جوش۔۔۔
ممی ایک عجیب سے بے چینی ہے ایسے جیسے میں کیسی گہری غفلت میں ہوں۔ میرا دل مطمئن نہیں ہوتا وہ قرآن کی کی آیات ہمیشہ میرے وجود پے حاوی رہتی ایسے جیسے کوئی بہت بڑا راض کھو لنا ہو مجھ پے خدا نے۔
میگھن۔۔۔۔
اتنا مت سوچا کرو۔
میں پاس ہوں تمہارے سو جاؤ شاباش۔۔
میں کل ہی اسے ایک اچھے دماغ کے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہوں۔
میگھن خود سے بات کرے ہوئے۔۔جاری ہے_____________________________
0 Comments
Assalamualaikum