Independence Day 2021 Story


 

منشاء پانچویں جماعت کی طالبہ ہے- آج صبح سویرے اٹھ کر تیار ہونے لگی تو امی نے حیرت سے پوچھ ہی لیا کیا ہوا منشاء تم تو چھٹی کے دن ہمیشہ دیر تک سوئی رہتی ہو اور آج تو14اگست کی چھٹی ہے نا- منشاء جلدی سے امی کے پاس آ کر کہنے لگی- امی آپ کو پتا ہے میری  دوست سیام جو ہے اس نے سکول کے بچیوں  کی تنظیم بزم گل جوائن کی ہے- وہ وہاں سے بہت کچھ سیکھ رہی ہے اور ہمیں بھی اچھے اچھے  مصنوعات لا کر دیتی ہے-وہ ہمیشہ اپنی ایک آپی کا بہت  فخر سے ذکر کرتی ہے کہ کس طرح ان کو بہت  پیار سے  نیک بنو نیک پھيلاؤ کا پیغام دنیا میں عام کرنا سکھاتی ہے- آج میں بھی سیام کیساتھ ان کا جشن آزادی پروگرام جوائن کرنے جارہی ہوں- آج میں بھی اسلام اور پاکستان کے بارے میں بہت کچھ جا ن کر آپ کو سناؤں گی- منشاء کا یہ جوش و جذبہ دیکھ کر امی مسکراکر کہنےلگی- انشاءاللہ بیٹا

منشاء نے  جشن آزادی کیلئے خریدے گئے تمام اشیا نکال کر رکھی تھی- سفید و سبز رنگ کے کپڑے ،کنگن ،بالیاں وغیرہ پہن کر تیار ہوئی تو اتنے میں سیام بھی پہنچ گئی - چلو منشاء چلیں پروگرام کہیں ہم سے پہلے ہی شروع نا ہوجائے ورنہ ہم بہت کچھ سیکھنے سے محروم ہوجائینگے-

منشاء اور سیام وقت سے پہلے ہی پروگرام کی جگہ پر پہنچے اور سجاوٹ میں آپی کی مدد کرنے لگی- ایک پیارI سا فلیکس لگا لیا گیا جس کے اوپر والے کونوں پر نیک بنو نیکی پھیلاؤ، درمیان میں پانچ پتوں والے پھول میں بزم گل اور جشن آزادی مبارکر لکھا گیا تھا- اردگرد سبز رنگ کے غبارے لگادئیے گئے- بہت سار ی بچیاں تیار ہوکر پروگرام  وقت تک پہنچ  گئیں~اب باقاعدہ تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز کیا گیا اور سب نے مل کر قومی ترانہ پڑا اور پھر آپی نے ہندوستان کی تقسیم کی کہانی شروع کی تو منشاء نے ہاتھ اٹھا کر کچھ کہنا چاہا - آ پی نے  اجازت دی تو کہنے لگی- آ پی مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ یہ اگر پہلے صرف ہندؤں کا ہندوستان تھا تو اس میں یہ اتنے مسلمان کیسے سے پیدا ہوئے-  اسلام اور مسلمان تو صرف عرب ممالک میں تھے نا اور جب ہم نقشے میں دیکھتے ہے تو ہندوستان عرب سے بہت دور ہے-

منشاء کا سوال سن کر آ پی  کہنے لگی- ماشاءاللہ منشاء نے بہت اچھا سوال کیا، کیا آپ سب بچیوں کے زہن میں بھی یہ سوال بھی آیا ہے کیا آپ سب بھی اسکا جواب جاننا چاہتے ہے- سب نے یکہ آواز کہا جی آ پی ی ی.

ہندوستان میں اسلام کی آمد سے آپی نے کہانی شروع کی

پیارے بچوں !! ہندوستان پر عرصہ دراز سے ہندوؤں اور بت پرستوں کی حکومت تھی

پھر صحابہ (رض) اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے آئے۔

93 ہجری (712عیسوی) یعنی وصال کے 83 سال بعد مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لیے محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا۔

  صرف چھ ہزار سپاہی تھے جنہوں ایک کے بعد ایک شہر فتح کرتے کرتے کراچی ، سکھر اور ملتان تک فتوحات حاصل کر لیں۔ 

اچھے اخلاق سے لوگ مسلمان ہوتے گئے اور اسلام خوب پھیلا ۔

 اوہ تو اسطرح  ہندوستان میں مسلمان آئے سیام کہنے لگی آپی  میں نے ہندوستان پر مغلوں کی حکومت  کا بھی کہی سنا تھا کہ یہ ایک مسلمان حکومت تھی۔ جن کے تاج محل جیسی بہت سی یادیں ابھی تک موجود ہیں۔

جی بلکل سیام بیٹا

300 سال تک مختلف خاندان اور بادشاہ ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔

 ان میں سے ایک ابراہیم لودھی تھا جو بہت ظالم اور سخت بادشاہ تھا۔

 اس کے ظلم و ستم کو ختم کرنے کابل سے مغل بادشاہ بابر نے اس پر پانی پت میں حملہ کیا ،

 جس میں نئے ہتھیار توپ خانے کا استعمال کیا۔

ہندوستان میں مغلیہ حکومت کی بنیاد ڈالی ۔

اور تقریبا 300 سال حکومت کی 933ھ (1526) سے1273ھ (1857) جس میں ہمایوں ، اکبر جہانگیر ، شاہ جہاں اور اورنگزیب عالمگیر جیسے بادشاہ شامل ہیں ۔

اب منشاء بے تاب ہوکر کہنے لگی آپی اگر ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی اور تو پھر یہ آزادی کی جنگ کیوں شروع  ہوئی

اصل میں سیام بیٹا ہوا کچھ یوں تھا کہ 

بظاہر تو مغلوں کی حکومت 800 سال رہی

 لیکن آخری 100 سالوں میں انگریز ہندوستان کی مختلف علاقوں پر قابض ہونا شروع ہو گیا تھا۔

1600ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے انہوں نے تجارت کے بہانے ہندوستان پر قدم رکھا

 اور 150 سال کی کوششوں اور سازشوں کے بعد 1751 میں پہلا علاقہ فتح کیا ۔ 

پھر 1757ء میں میر جعفر سے غداری کرا کے بنگال میں نواب سراج الدولہ کو شکست دی۔

اور 33 سال بعد 17بظاہر تو مغلوں کی حکومت 800 سال رہی

لیکن آخری 100 سالوں میں انگریز ہندوستان کی مختلف علاقوں پر قابض ہونا شروع ہو گیا تھا۔

1600ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے انہوں نے تجارت کے بہانے ہندوستان پر قدم رکھا

اور 150 سال کی کوششوں اور سازشوں کے بعد 1751 میں پہلا علاقہ فتح کیا ۔ 

پھر 1757ء میں میر جعفر سے غداری کرا کے بنگال میں نواب سراج الدولہ کو شکست دی۔

اور 33 سال بعد 1799 ء میں ٹیپو سلطان کو بھی غدار میر صادق کے ذریعے شکست دے ڈالی۔

 اگلے 50 سالوں میں 1856 ء تک انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہو گیا۔ 99 ء میں ٹیپو سلطان کو بھی غدار میر صادق کے ذریعے شکست دے ڈالی۔

 اگلے 50 سالوں میں 1856 ء تک انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہو گیا۔

آہا مطلب ہم مسلمان انگریزوں  سے آزادی چاہتے تھی منشاء  کہنے لگی۔ آپی نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا

جی ہاں منشاء بیٹا صرف ہم مسلمان  ہی نہیں بلکہ ہندو اور سکھ بھی ان کی غلامی  سے آزاد ہونا چاہتے تھے اسلئے تو سب  ہندوستانیوں (مسلمان ، سکھ ، ہندو ) کی طرف سے 1857 میں انگریزوں کے خلاف بغاوت اور ان کا قتل عام ہوا۔

لیکن بدقسمتی سے ہندوستان کے اکثر لوگ انگریز وں سے ڈرنے کی وجہ سے  بغاوت پر تیار نہیں ہوئے ۔

انگریز نے اس بغاوت کو ناکام  بنایا اور بڑے پیمانے پر ہندو، سکھوں اور مسلمانوں  کو قتل کردیا ۔ 

بغات کی ناکامی کے بعد انگریز کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت ہندوستانیوں کے اندر سے ختم ہوگئی۔

اسلئے ہندو اور مسلمان مل کر کانگریس پارٹی بنا کر انگریزوں سے آزادی کی کوشش کی ۔ 

لیکن چونکہ اس پارٹی میں ہندو زیادہ تھے اس لیے وہ اکثر مسلمانوں کا مفاد نہیں دیکھتے تھے۔

قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر نامور مسلم قائدین کانگریس پارٹی میں شامل تھے۔ 

پھر مسلمانوں نے ایک الگ پارٹی مسلم لیگ بنائی گئی۔ قائد اعظم اور دیگر بھی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوششیں تیز کردیں۔

 سب بچیاں بہت غور سے سن رہے تھے منشاء کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر آپ کہنے لگی منشاء بیٹا کیا سوچ رہی ہو منشاء نے جواب دیا آپی میں انگریزوں  کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔کیا وہ ہندوستان  کو ہندوستانیوں کو واپس  کرنے کیلئے تیار ہونگے۔ 

جی بیٹا وہ بھی جلسے جلوسوں اور ہندو مسلم فسادات  تنگ آگئے تھے اس لئے وہ بھی اب  ہندوستان میں امن چاہتے تھے اسلئے انگریزوں نے 1937 میں ہندوستان میں مشترکہ عام انتخابات کروائے

ان انتخابات میں مسلم لیگ کو 106 جبکہ کانگریس کو707 نشستیں ملیں۔ 

انتخابات کے نتائج کے بعد علامہ اقبال کی الگ ملک کا خواب پورا ہونے لگا اور 1940 ء میں مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہواجہاں علامہ اقبال کی مسلم اکثریت علاقوں کو پنجاب سندھ سرحد بنگال کو ملا کر نیا ملک بنانے کی تجویز قرارداد کی صورت پیش ہوئی۔ 

اس قرار داد کو قرارداد ِپاکستان کہاجاتا ہے۔   جو 23 مارچ 1940ء کو منظور ہوئی ۔

ایک اہم رہنما چودہری  رحمت علی نے اس   نو مسلم ریاست کا نام پاکستان تجویز کیا اور مسلم لیگ کے سبز جھنڈے میں سفید رنگ کا اضافہ کرکہ پاکستان کا جھنڈا بنا دیا گیا

 اس کے بعد مسلمانوں کی جدوجہد کو  تحریک پاکستان کا نام دے دیا گیا۔

آپی نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا  قائداعظم اور مختلف مسلم قائدین کی سات سال مسلسل  جدوجہد  سے آخر کار 1947 کو ہندوستان  دو حصوں  میں تقسیم ہوکر پاکستان اور بھارت بن گیا۔

سب بچے حیران ہوتے ہوئے پوچھنے لگے  آپی آپی تو کیا پاکستان اور بھارت ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے۔

جی پیارے بچوں دونوں ملکوں  کو ایک ساتھ انگریزوں سے آزادی  ملی تھی

اب منشاء اپنے دوست سیام  کے کان میں کچھ  کسرپسر کرنے لگی آپی کی نظر پڑی تو سیام کو متوجہ کر کہ پوچھا یہ منشاء آپ کے کان میں کیا کہہ رہی ہے۔ سیام نے کھڑے ہوکر بتایا آپی یہ کہہ رہی کہ اگر یہ دونوں  ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے تو وہ ہم ایک ساتھ جشن آزادی کیوں نہیں مناتے بھارت تو 15اگست  کو جشن آزادی مانتا ہے اور 14 اگست کو یہ کیوں

آپی نے مزید پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا بیٹا اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں ممالک کے آزادی کا 14 15 اگست کی درمیانی رات کو 12 بجے ایک ساتھ اعلان ہوا اور یہ رمضان کی 27واں شب تھا۔

وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی زیر صدارت کابینہ کا ایک اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام وزرا نے مشترکہ  فیصلہ کیا  کہ پاکستان کے پہلی یوم آزادی کی تقریبات 15 اگست 1948 کے بجائے 14 اگست 1948 کو منائی جائیں پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل  قائد اعظم محمد علی جناح نے اس فیصلہ پر سائن کرکہ منظور کردیا۔اور وہی سے اب ہر سال 14اگست کومنائی جاتی ہے۔

پاکستان کے یوم آزادی کی تاریخ میں سرکاری طور پر کوئی فرق نہیں آئے گا، مگر یہ حقیقت نہیں جھٹلائی جاسکتی  کہ پاکستان کا یوم آزادی 15 اگست 1947 ہے۔ اس دن جمعتہ الوداع تھا اور اسلامی تاریخ 27 رمضان المبارک 1366 ہجری تھی۔ورنہ ہم جمعتہ الوداع اور 27 رمضان المبارک کے اعزاز سے بھی محروم ہو جائینگے۔

سب بہت غور سے آپی کو دیکھ کر سن رہے تھے کہ اچانک ہی آپی نے سیام سے جو بزم گل کی سٹار ممبر تھی اور بہت کچھ جانتے تھی  ایک سوال پوچھا۔ کیا آپ کو یوم یکجہتی کشمیر کا پروگرام یاد ہے سیام نے ثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہے جی باجی یاد ہے جبکہ ساتھ بیٹھی منشاء  بول پڑی  آپی مجھے آپ سے ابھی یہی پوچھنے والی تھی کہ یہ مسئلہ کشمیر  کیسے بنا۔ یہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے یا بھارت کا۔

میں بھی یہی یاد دلانے  کی کوشش کر رہی تھی۔ہمیں کبھی بھی اپنی آزادی میں کشمیر کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ کشمیریوں  کے آزادی کیلئے بھی دعا گو رہنا چاہئیے 

اصل میں تقسیم ہندوستان کے وقت یہ فیصلہ ہوا کہ مسلمانوں کے پاس ہندوستان کا مسلم اکثریتی علاقے  آئینگے اور ہندو اکثریتی علاقے ہندوؤں کے پاس جائینگے۔ 

مسلمانوں کے علاقوں میں سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان، اور بنگال کا علاقہ شامل تھا۔

اس وقت کشمیر کی کل آبادی کا 95 فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھا، جس کے مطابق اسے پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن کشمیر کا حاکم سکھ مذہب کا پیروکار تھا جو بذات خود چاہتا تھا کہ کشمیر بھارت کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس نے کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کیا۔کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہے جبکہ بھارت اسے اپنی جاگیر سمجھتے ہے۔اور ظلم و بربریت سے کام لیتے ہے۔

اسی لئے کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین 4 جنگیں ہوچکی ہیں، پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء تیسری 1971ء اور چوتھی 1999ء میں کارگل کی جنگ شامل ہے، اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

کشمیری عوام اپنے حقوق کیلئے بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں۔ مگر آزادی ملنے کے بجائے ان پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 100 دن تک سری نگر میں کرفیو نافذ رہا اور بھارتی فوج نے کشمیری عوام کو ظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق اور 17 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، 900 سے زائد افراد کی بینائی کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئی، اسی کرفیو کے دوران 4000 سے زائد افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ 

آزادی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، کشمیری عوام کب تک بھارت کا ظلم و بربریت برداشت کرینگے۔، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور بھارت زیادہ دیر اس پر مزید قابض نہیں رہ سکتا۔ اہل کشمیر اور اہل پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کا ہے اور یہ رشتہ ہر چیز سے بڑا ہے

آو ہم سب مل کر اپنے کشمیری بہن بھائیوں   کیلئے دعا کریں

آپی نے  کشمیریوں اور فلسطینوں  کے ساتھ دنیا کے تمام مظلوم مسلمانوں کے حق میں بہت ساری دعائیں مانگی اور سب بچوں نے یک زباں ہوکر آمین کہا۔ 

آپی نے سب بچیوں کے درمیان پینٹینگ اور سوال و جواب کے مقابلہ کروائے اور جیتنے والوں کو انعامات دئیے۔

آج منشاء  بہت خوش تھی اور دل ہی دل میں سیام کا شکریہ ادا کر رہی تھی کہ اس کے زریعے اس نے بزم گل جوائن کیا۔ اوربہت سارے انعامات جیتے۔ 



Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...