Malal Dard novel episode 3 & 4



پہلا اور دوسرا قسط

ناول :--- ملال درد
قسط نمبر 3،4
مصنفہ:- حاجرہ یاسمین 

جوش۔۔۔
ممی ممی کہاں ہیں آپ ممی۔۔۔۔؟
میگھن۔۔۔
ارے کیوں مرے جارہے ہو اپنے باپ کی طرح یہی ہوں بولو کیا،داستاں سنانی ہے۔
جوش۔۔
ممی میں۔نے پھر سے وہی خواب دیکھا میں کیسی تاریخ رات میں گمنام راہ۔پر ہوں جسکی کوئی منزل نہیں پھر کہیں سے وہی آواز جو مسلمانوں کی عبادت گاہوں سے آتیں ہے اور اس سمت میں روشنی کی اک کرن نکلتی ہے جو مجھے راہ دکھاتی ہے۔
ممی میگھن۔۔
جوش تم پاگل ہو تمہارا باپ آتا ہے تو کہتی ہوں اسے تمہارا علاج کروائے یا تمہیں لے جاۓ یہاں سےاور جوش تمہیں میں نے کہا تھا تمہاری بہن گھر نہیں آئ کئ دنوں سے اس کا پتہ۔کرو۔۔۔پر او میرے خدایا۔۔تمہیں تو خوابوں سے ہی فرصت نہیں۔۔
جوش۔۔۔۔
ممی میں گیا تھا اسے دیکھنے وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ رہتی ہے جو کہ بڑا ویل آف ہے وہ خوش ہے اس کے ساتھ اور دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے۔کے۔لۓ ایک ساتھ رہ رہے۔۔جلد شادی کر لینگے۔۔
ممی۔میگھن۔۔۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا۔۔کر لی اس نے شادی کتنی دفعہ وہ ایسے ہی کر کہ دوبارہ آ جاتی ہے۔۔۔بس اگر کچھ کہہ دو تو کیس کر دیتی ہے میں بہت تنگ ہوں اس لڑکی سے۔۔بلکہ تم۔سب دفعہ ہو جاؤ سب۔۔
جوش۔۔۔۔
ممی میں نے کچھ سوچا ہے۔
ممی۔میگھن۔۔فار گاڈ سیک(اللہ کا،واسطہ دفعہ ہو جاؤ)
جوش۔۔۔۔
اک عجیب سے کیفیت لیے گھر سے نکلا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔اور اللہ۔جیسے چاہے ہدایت دیتا،ہے اور جیسے چاہے گمراہ کرتاہے کون ہے جو اللہ کہ فیصلوں سے منہ موڑےبیشک وہ ہر چیز پہ قادر ہے۔
____________________________________________گولڈی ۔۔۔۔۔
سکندر یار تیرا داخلہ۔تو ہوجائیگا اس مہنگے کالج میں پر ہم تو وہیں آڑے رہیں گے۔۔۔چل۔پیارے نۓ دوست  بنا لینا۔۔یاریاں بنا لینا۔تو پھر کہاں ہم لوگوں کو دیکھے گا۔کیوں ایسا ہی۔ہے ناں۔۔؟بول چسکے؟؟
سکندر۔۔۔
ابے چل۔بغیرت۔۔۔۔۔۔(سکندر زبان پہ نہ آنے والی بد تہذیب گالیاں دیتے ہوئے)اپنے دوستوں سے گویا ہوا۔۔۔

سنکدر۔۔۔ابے و کی اور سوہان۔کے ابا حضور بہت چھوڑ کر گۓ۔ہیں ان۔کے بھی ہوجانے۔۔یہاں بس پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ہم۔سب اسی کالج سے میں رہیں گے ٹاپ لسٹ بھی اور ہاٹ لسٹ بھی۔۔
و کی۔۔
بچے ارشد اور گولڈی۔۔تو یار ٹیشن مت لینا ہم سب مل بانٹ کہ کر لیں گے۔ہمارے ہوتے ہوئے تم۔دونوں کو کوئی نکال تو کیا پکار بھی نہیں سکتا۔۔(سب سیگریٹ کے کش ہوا میں بلند کرتے ہوۓ۔ایسے جیسےکہ گمنام بستی کے و اسے ہو)۔۔ نہ تن راضی نہ من راضی نہ رب راضی نہ رب والے۔۔۔۔۔۔
سامنے حال سے پروفیسر نواز اکبر آتے ہوئے۔۔۔۔
و کی۔۔سنو سر جی۔۔کہتے ہی سب کہ اواز بلند ہوئی
پروفیسر نواز۔۔۔۔
یہ کالج۔ہے تم۔لوگوں کے باپ دادا کا گھر نہیں تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہو۔۔ورنہ میں تم۔سب کو تین دن۔کے لے گیٹ پاس دے دونگا۔۔۔۔
گولڈن۔۔۔۔سر تو دے دیں۔نہ اور صرف گیٹ پاس نہیں گیٹ پاس کہ ساتھ مس سلیم کے گیٹ سنسر کی چابی بھی۔۔(سب بہ اوازِ بلند قہقہے لگتے ہوئے ہنسے۔۔۔
پروفیسر نواز اکبر۔۔۔
میں پرنسل سے تم۔سب کی شکایت کرونگا۔۔
سکندر۔۔ہاں شوق سے پر شائد آپ میرے تعارف سے ناواقف ہیں سر۔۔۔میں سکندر ہوں نام۔تو سنا ہو گا۔۔کاشان گروپ  گروپ آف انڈسٹریز کا اکلوتا وارث اور ہا ں۔یہ کالج میں آپ بڑے وثوق سے دنداناتے پھر رہیں ہیں نہ۔یہ بھی ہم کیسوں کی ملکیت ہیں مسٹر پروفیسر نواز اکبر صاحب۔
پروفیسر غم۔وغصہ کی ملی جلی  کیفیت میں۔بیٹے ایک بات یاد رکھنا حضرت علی کا قول ہے جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا اس نے۔مجھے اپنا غلام بنا لیا ۔۔تم۔سب کو تو یہاں 5سال گزارنے ہیں۔علم کے شہر میں اے ہو تو خالی ہاتھ مت جانا کچھ سیکھ کر ہی نکلنا اور ہاں زیادہ کی توقع تو نہیں پر تمیز اور تہذیب ضرور سیکھنا۔۔
سکندر۔۔
یس سر۔۔۔اب جائے شاباش۔۔۔
۔۔ایسی قومیں کبھی ترقی۔نہیں کرتیں جہاں کہ تدریسی نظام میں پیسے کا قانون ہو تعلیم کا،اصول پیسے کی  نوک پر ہو۔صرف ڈگریوں کے ڈھیر بغیر اخلاقیات کے اپنے سر لاد کر کوئ تعلیم۔کا رکھوالا نہیں بن جاتا۔۔خود کو جوہری کے سل پر پسوانے سے ہی پتھر لال بنتا ہے۔۔پروفیسر نواز اکبر اپنے ضبط کو حوصلے وسط پر لے جاتے بڑے پرنم لہجے۔میں گویا ہوئے۔۔۔
____________________________________________
ملیحہ۔۔۔
دیکھو ذرہ یار میرا نام ہے کہ نہیں۔۔رومان دیکھوں نہ۔۔
رومان۔۔۔۔
یار مجھے اپنے اللہ پہ پورا بھروسہ میرا نام۔ہوگا انشاءاللہ انشاءاللہ۔۔۔میں ساتھ بار درود پڑھ کر نام پڑھنا شروع کرتی۔ہوں۔۔
ملیحہ۔۔۔
رومان یار جلدی۔کرو۔
رومان۔۔
ہاں ہاں بس ہوگیا پڑھ لیا گیارہ دفعہ۔۔امین امین امین اللہ۔۔
رومان۔۔۔
ارے ملیحہ دیکھو تمہارا نام اگیا لاسٹ سے دیکھو 13،نمبر پر۔۔یار بہت مبارک ہو یار پر میرا نام۔نہیں ہے یہ لوگ سائڈ بھی تو نہیں ہو رہے۔۔۔
سکندر۔۔۔
ارے گولڈی دیکھ تو کہیں تیرے راجن پور کہ چک نمبر 3 تو نہیں آ گۓ بی اماں۔برقعے میں ہیں۔۔( گولڈی،سکندر،و کی اور سوہان رومان کے برقعے کو نشانہ بناتے ہوئے۔۔)
رومان۔۔۔
بھائی چک۔نمبر 3 میں ہی ہو.اور میں تمہاری بہن کو ریپرزینٹ کرتے ہوۓ اور کچھ۔۔
سکندر۔۔۔واہ واہ بلبل بول پڑی۔۔تو جناب اپنا دیدار بھی کروا دیں۔۔(سکندر نے اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک۔عجیب انداز میں بولا)
ملیحہ ۔۔
چلو رومان یہاں۔سے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہی بد تہذیب بد اخلاق لوگ۔۔(ملیحہ نے آواز بلند گولڈی اور سکندر کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔۔
گولڈی۔۔۔
ارے ارے ارے اتنی گرمی میڈیم۔خاموش ہوجا ورنہ۔۔۔۔اتنے میں سوہان اور و کی نے معاملہ کی سنگینی کو بھانپتے ہوے کہا۔ارے جانے دو پانچ سال ایک ساتھ گزارنے ہیں باقی حساب کتاب ادھار رکھ لیتے ہیں۔۔(سکندر،گولڈی،سوہان اور وکی چاروں حال سے بآواز بلند قہقہے لگاتے ہوئے نکلے۔۔
ملیحہ۔۔۔۔۔
رومان کیا ہوا ہے تمہیں اب۔
رومان۔۔
تم کیوں آئی ملیحہ بیچ میں آج میں انہیں سبق،سیکھا کر بھیجتی بدتمیز لوگ۔۔
ملیحہ۔۔۔
رہنے دو رومان۔۔۔جانے دو پہلے اپنا نام ڈھونڈ لو۔۔
رومان۔۔۔۔
ایک تو بی اماں نے۔میرا نام بھی اتنا بڑا رکھا ہے کہ تین نام جوڑ کر بنتا ہے۔۔۔
---(ملیحہ نے چیختے ہوئے رومان۔کو پکارا۔۔رومان رومان یہاں آؤ رومان۔۔۔
رومان۔۔۔
کیا۔ہوا چیخ کیوں رہی ہو
ملیحہ۔۔
ارے دیکھو تو سہی تم۔بھی چیخنے لگ جاؤ گی۔۔۔
رومان۔۔۔
ہوا کیا ہے اور ویسے بھی میں اتنی پاگل نہیں کہ یوں سب کے سامنے چیخوں ۔۔
ملیحہ۔۔۔
مس ام رومان گل لسٹ میں سب سے ٹاپ پر اپکا نام ہے
(رومان نے چیختے ہوئے ملیحہ کو گلے۔لگا لیا حال دونوں کی کہلکہلاتی آوازوں سے گونج اٹھا)
____________________________________________
شیث۔۔
یار ملحان بتاؤ تو کون ہے لسٹ میں ٹاپ پر۔چلو میں دیکھ کر آتا ہو ں لسٹ۔۔
ملحان۔۔۔
یار یار یار۔۔۔سنو میں دیکھ کر آیا ہوں۔کوئ عجیب نام۔کی مخلوق ہے۔۔۔کیا نام تھا۔نام نام نام۔۔۔
شیث۔۔۔۔
ملحان تم تو ایسے سوچ میں پڑ گۓ جیسے کہ ڈرامے والا پری زاد ہو۔۔
۔۔دونوں۔ہنستے ہوۓ۔۔۔کیفے ٹیریا سے نکلے۔۔
شیث۔۔
چل پہلے نام دیکھ لیں
ملحان ۔۔ہاں ہاں۔چل
شیث۔۔ام ۔رومان۔ گل۔نام کا ایک ایک لفظ دہراتے ہوئے۔۔
ملحان۔۔
شیث یار ام رومان گل کو ں ہوگا --؟
شیث۔۔۔
ارے پاگل ہوگا نہیں ہوگی پر کون۔۔-؟
ملحان ۔۔۔چلو صبح کلاس کے انٹرویو میں پتہ چل جائے گا۔۔
شیث۔۔ہاں دیکھتے ہیں۔۔
فن اماں۔اللہ۔۔دوست صبح ملتے۔۔
ملحان۔۔
اوکے اوکے۔میں چھوڑ دوں۔؟
شیث۔۔۔۔
نہیں یار۔۔اللہ حافظ۔۔اللہ حافظ۔۔
____________________________________________

جوش۔۔۔ خود کلامی کرتے ہوۓ۔۔۔
آخر میں کیا کروں۔ایسا کیا کروں کہ ممی کو احساس ہو کہ۔میں پاگل نہیں میرے اندرایک  انجانہ احساس ہےجو  اذان کی آواز یں شہ رگ کو چھوتیں محسوس ہوتیں۔۔
ایسا لگتا جیسے میں کہیں گہرے دلدل میں ہوں اور اس آواز کی ارتعاش۔مجھے دلدل سے نکال رہی ہے۔۔۔۔ایسے جیسے کوئ مقناطیسی طاقت ہے اس آواز اور میری روح کہ درمیان جس کی کشش مجھے اس کے بغیر سانس نہیں لینے دے رہی۔۔۔
میگھن۔۔۔۔ہسپتال میں
جوش اٹھو جوش۔نرس نرس کیا ہوا ہے میرے بچے کو کیا ہوا ہے اسے۔۔۔
نرس۔۔۔۔۔۔
اس کا کار ایکسیڈینٹ ہوا ہے اور ابھی صبح ہی کوئی انھیں۔یہاں چھو کر گیا ہے۔۔۔
میگھن۔۔کیسا ہے میرا بچہ زیادہ چوٹیں تو نہیں آئ مجھے ملنے دو اپنے بچے سے۔۔پلیز نرس۔۔
نرس۔۔۔۔
ابھی ویٹ کریں ۔۔ڈاکٹر۔معائنہ کر رہے ہیں۔۔
میگھن۔۔ڈاکٹر کو جوش کے کمرے سے آتا دیکھتے ہوئے۔۔
ڈاکٹر،ڈاکٹرکیسا ہے۔میرا بچہ۔۔
ڈاکٹر۔۔ٹھیک ہے ایک  چھوٹا،سا ایکسیڈینٹ تھا اب ٹھیک ہے ایک گھنٹے تک سرچارج کر دیا جاۓگا۔۔اوکے
میگھن۔۔۔
تھینکس ڈاکٹر۔۔
ڈاکٹر۔۔ویلکم ڈیئر۔۔
میگھن۔۔۔
جوش بیٹے کیا کرتے ہو آپ ۔آپکو پتہ ہے نا کہ میں پہلےہی تمہارے باپ اور بہن۔کی وجہ سے ڈسٹرب ہوں اور اب آپ بھی۔۔
جوش۔۔۔سوری ممی۔میرا مقصد آپکو پریشان کرنا ہرگز نہیں تھا۔مجھے معاف کردیں۔
میگھن۔۔۔۔۔
اوکے بیٹے۔۔
جوش۔۔۔
ممی کیتھرین کا کچھ پتہ۔چلا کہا ہے وہ آج۔کل۔۔
میگھن۔۔۔
کیوں وہ پوپ کی ساتھ نہیں ہے کیاا؟جوش تم۔نے تو مجھے کہا تھا کہ وہ پوپ۔کے ساتھ ہے۔۔
جوش۔۔۔۔
جی۔ممی وہ اسے کی ساتھ رہتی تھی۔پر کل شام میں نے پوپ کو کلب میں اکیلے دیکھا تھا۔۔
میگھن۔۔۔
ہوگئی ہو گی لڑائی اس دفعہ کیتھرین گھر آۓ تو میں اس کی شادی کروا دونگی روز روز کے گھر سے بھاگنے سے اچھا ہے ایک بار ہی اس،کی جان چھوٹ جاۓ ہم سے۔۔
جوش۔۔۔۔۔
ممی گھر کا ماحول بھی تو رہنے کے قابل۔نہیں

میگھن۔۔۔۔۔
بس کر دو تم۔جوش اب ابھی ہپستال سے اے ہو اور پھر تم۔پر بھوت سوار ہوگیا۔۔کیا ہواہے ماحول کو اچھا تو ہے سب کو آزادی۔ہے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کی۔کیا میں نے تم لوگوں پے یا تمہارے اس، بدکار باپ۔پہ روک ٹوک کی ہے۔۔
جوش۔۔۔۔۔
ممی بس کردیں میں آرام۔کرنا،چاہتا ہوں۔۔
میگھن۔۔اوکے اوکے۔
____________________________________________
رومان۔۔۔امی امی امی۔۔کہاں۔ہیں آپ ؟!بی اماں ؟؟؟؟بابا؟؟؟؟ کہاں۔ہیں سب۔۔؟
بوا۔۔۔۔۔۔
ارے رومان بی بی سب نیچے لاؤنج میں چاۓ پی رہے ہیں۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...