رومان لائیں مجھے دیں۔
سرفراز صاحب۔۔
رومان بیٹی کیسی ہو آپ بابا کی جان بابا سے ناراض ہو۔
رومان۔۔۔۔
جی ناراض تو میں ہوں ۔۔
سرفراز صاحب۔۔۔۔
میں نے اپنی پیاری بیٹی کے لے بہت ساری شاپنگ کی ہے اب اگر ہماری بیٹی ناراض ہے تو شاپنگ رہنے دو ویسے میرا ارادہ تھا کہ میں اپنی بیٹی کےلۓ اور شاپنگ بھی کروں۔۔
رومان۔۔۔۔۔۔
ارے ارے نہیں بابا میں ناراض نہیں ہوں۔
سب رومان کی اس ہنگامی حرکت پر ہنس پڑے۔
سرفراز صاحب۔۔۔۔
ویسے ایک سرپرائز بھی ہے پر وہ آ کر دونگا۔
رومان۔۔۔
بابا
سرفراز صاحب۔۔۔
جی بابا کی جان۔اوکے ناشتہ کرو اور کالج جاؤ شاباش۔
رومان۔۔۔۔۔ جی بابا
نسرین بیگم۔۔۔۔
رومان جلدی آؤ۔
بی اماں۔۔۔۔
ہوگی اپنے بابا سے بات۔
رومان۔۔۔۔
جی دادو اور آپکو پتہ ہے بابا نے ڈھیر ساری شاپنگ کی ہے
بی اماں۔۔۔
اور دیکھو ذرہ بابا آ بھی رہے ہیں۔آپ ویسے ہی اتنا
ناراض ہو رہئے تھے۔۔
رومان۔۔۔۔
سوری بی اماں۔۔۔چلو جاؤ تیار ہو اور ہاں رومان بیٹی تہجد کے میرے حال کی لائیٹ آف کر دیا کرو ۔آج بھی جل رہی تھی
رومان۔۔۔
جی دادو
اللہ کی اماں۔۔۔
نسرین بیگم۔۔۔۔
بی اماں میری بچی ہنستی مسکراتی کتنی اچھی لگتی ہے۔نیک بچی میری اللہ اسے ہم سفر بھی نیک اور صالحہ دے۔امین
بی اماں۔۔۔امین امین ۔
_____________________________________________و کی۔۔۔۔۔
سکندر وہ دیکھ تیری محبوبہ۔۔۔
سوہان۔۔۔۔
ارے ہاں یار کیا،ٹھاٹھیں ہیں۔گاڑی اس کی30،35لاکھ سے کم۔کی نہیں او،سٹائل۔۔۔ہاہاہاہا
سکندر۔۔۔۔
شششششششششششش۔سب کو خاموش کرواتے ہوئے ابے یار دیکھو،ذرہ میں کیا کرتا ہوں۔
گولڈی۔۔۔۔
ابے رہنے دے کھا مت لینا۔پاگل ہے یہ۔
سکندر۔۔۔۔۔
رومان کے قریب جاتے ہوئے۔
شیث ۔۔۔۔
دور سے سارے وقوع کو،دیکھتے ہوئے۔
سکندر۔۔۔۔۔۔
ارے مس ام رومان گل۔۔۔
مجھے لگتا ہے تمہاری شکل بہت بد صورت ہے ورنہ اتنے ۔۔۔۔ن پر زور ڈالتے ہوئے سکندر بولا۔۔۔۔امیر باپ۔کی بیٹی اتنی آسائش،اور،اتنے عمدہ لائف سٹائل کے باوجود ایسے منہ نہیں چھپاتی۔۔اور،اگر ایسا نہیں تو دیدار کرو دو سب کو آج
رومان۔۔۔۔۔
تمہاری اس بکواس کے لۓ نہ میرا پاس،اچھا خاصہ جواب ہے پر میں تم۔جیسے بدلحاظ اور بد تہذیب پر اپنے زبان گندی نہیں کر سکتی۔اور ہاں پیسہ تم۔جیسے نودولتیوں کو،اپنی انگلیوں پر نچواسکتا ہے پر پیسہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مانے والیوں ان اسلام کی شہزادیوں کے ذہنوں سے ان کی تاریخ نہیں مٹا سکتا ۔
سکندر۔۔۔۔۔
دو قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے ۔
رومان۔۔۔۔۔
تمھارے جیسے بدمعاش شخص سے بات کر نا بھی میں اپنی توہین سمجھتی ہوں۔
سکندر نے جونہی رومان کے حجاب پر ہاتھ ،ڈالا ایک فولادی سینہ سکندر اور رومان کے بیچ آگیا اور سکندر کو ایک چٹ میں رومان سے دور دھکیل دیا۔
رومان۔۔۔۔شیث کو،اپنے اتنے قریب پا،کر ایک دم سہم گئ۔
شیث۔۔۔۔
رومان سے چند قدم دور ہٹتے ہوئے۔دھیمے۔لہجے میں گویا ہوا آپ ٹھیک ہیں ۔ام رومان گل آپ ٹھیک ہیں ام رومان گل۔
۔۔۔۔۔رومان کو تو جیسے کسی گرم ریت کی لو نے آ لیا ہوں ایک دم۔ہوش میں آتے ہی رونے لگی۔
شیث۔۔۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے رو مان کی نظروں سے دور چلا گیا۔
ملیحہ۔۔۔۔۔
رومان رومان رومان کیا ہوا ہے رومان ٹھیک ہو۔رومان نے روتے ہوئے ملیحہ کو گلے لگا لیا ۔۔۔
ملیحہ۔۔۔۔۔
اگر آج شیث نہ آتا میں اتنے سالوں سے جو خود کو شریعت کا کار بند کر رہی تھی آج وہ خطرہ میں پڑ جاتا۔۔میں اس،رب کی ذات کا جتنا بھی شکر کرو کم ہے آج اس نے شیث کو فرشتہ کی شکل میں بھیج کر مجھے اپنی محبت کا،احساس دلایا وہ ہر جگہ ایسا ہی کرتا ہے میرا رب مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا،وہ مجھے کبھی ٹوٹنے نہیں دیتا،وہ ہمیشہ ایسے ہی کسی کو،وسیلہ بنا کر میری رہنمائی کرتا ۔۔۔میں بہت گنہگار ہوں وہ بہت رحیم۔ہے رومان روتے ہوئے نجانے کب سے اپنے رب کا،شکر کر رہی تھی۔
ملیحہ۔۔۔۔۔
رومان رونا بس کردو ۔چپ۔ہوجاؤ۔چلو کلاس میں چلتے ہیں۔پروفیسر نواز اکبر۔کی کلاس ہے آ جاؤ۔
رومان۔۔۔۔
اپنا آنسوؤں سے تر چہرے صاف کرتے ہوۓ۔
ہمم چلو۔
پروفیسر نواز اکبر۔۔۔۔۔۔۔
مس رومان اور مس ملیحہ کلاس تو ختم۔ہو چکی ہے۔
آپ دونوں کہاں تھیں؟
ملیحہ۔۔۔۔
سر وہ میری اسائنمنٹ رہتی تھی تو رومان میری مدد کر رہی تھی۔
پروفیسر نواز اکبر۔۔۔
اوہو اچھا اچھا گڈ۔اوکے اللہ حافظ کلاس۔
اللہ حافظ سر۔
گولڈی۔۔۔۔۔
سکندر یہ شیث۔ بڑا،سمارٹ بن رہا تھا لگتا ہے اسے مزا سیکھانے ہو گا۔۔
سکندر۔۔۔۔
اسے بھی اور،اسکی لیلہ کو بھی۔
سوہان۔۔۔۔
یار رہنے دو کیا باتیں۔لے کر بیٹھ گے ہو تم۔سب بھی۔دیکھو ذرہ لیلہ ابھی تک صدمے میں ہے۔
سکندر۔۔۔۔آاااااآ
گولڈی۔۔۔
دیدار یار سے پہلے۔ہی چنگاریاں اٹھ رہیں ہیں۔
سب دوست۔ہنستے ہوۓ۔۔
_____________________________________________پاکستان ٹیلی وژن نیوز۔۔۔
ناظرین آپ کو بتاتے چلیں۔کہ کراچی سے ایپٹ آباد آنے والی فلیٹ pk343 کریش ہوگئ ہو..طیارے میں موجود تمام مسافر عملے سمیت زندگی کی بازی ہار گۓ۔اس طیارے میں موجود افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔اس حادثےسے متلعق مزید معلومات کے لۓ دیکھتے رہیں پی ٹی وی۔
رومان۔۔۔۔۔۔
امی ،دادو آپکو پتہ چلا ۔رومان ایک ہی سانس بولتے ہوئے۔کراچی سے ایپٹ آباد آنے والی فلیٹ حادثہ کا شکار ہوگی ہے۔
نسرین بیگم۔۔۔۔۔
رومان کیا کونسی کیا۔۔۔نسرین بیگم بوکھلاہٹ ہوۓ بولی ۔
رومان۔۔۔
امی کیا ہوا ہے۔
رومان۔۔۔۔۔۔
بی اماں ۔اک دم چیخیں اور پھر آہو بکا کا نہ روکنے والا سلسلہ شروع ہوا جو کئ دن تک نہ روکا۔
۔۔۔سنا کے کراچی کام۔کے لے گے تھے اور اپنی بیٹی کو سرپرائز دینے کے چکر میں جلدی آگے ورنہ کل آنا تھا۔
۔۔۔۔۔ارے دیکھو ذرہ یہ ہے وہ کم۔نصیب یتیم ہو گئ بیچاری۔
۔۔۔۔۔دیکھو ذرہ کیسے نقاب کر کہ بیٹھی ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یہ ایک ہی بیٹی تھی کیا ۔ہاۓ بچاتے بیٹا نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔ہاۓ یہ کم۔نصیب ایسا بری قسمت ہے اسکی۔۔
اوراس کے ساتھ ہی سرفراز صاحب کو سپردخاک
کر دیا گیا۔
اہوبقا کےاس سلسلہ کو توڑنے والا کوئی اور سسکیوں اور ماتم پر ملال۔کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ رومان ہی تھی آزان کی آواز سنتے ہی اپنے رب کے حضور کھڑی ہوئ اور اپنے رب سے رو رو کر دعائے مغفرت مانگی میرے مولا میں تیری بڑی نا شکری بندی ہوں اے اللہ مجھے صبر دے میرے مالک مجھے اپنے صابربندوں میں شمار کر مولا میں بہت نادم ہو اس درد پر ملال ہے مجھے تیرے فیصلوں پر صف ِماتم بچھایا۔۔۔میرے مالک میں بڑی شکر گزار ہوں تو نے میری ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا مجھ پر مولا مجھے اس درد سے نکال مجھے لوگوں کا سامنا انکے آگے تماشہ بننے سے بچانا۔
رومان اپنے رب کے حضور اپنے باپ کی مغفرت کا سوال لے کھڑی تھی۔
امی،دادو کیوں رو رہیں ہیں آپ بس کردے رونا بند کر دیں۔
بی اماں۔۔۔
ہاں میری بچی ہاں۔۔میری بہادر بچی۔
۔اور اس دنیا کی ستم ظریفی کا اندازہ لگاۓ پرسہ دینے کے بجاۓ زخموں پر نمک پاشی کیجاتی ہے۔یتیم کو دلاسے اور شفقت دینے کے بجاۓ رحم کی حقیر نظر ڈالی جاتی ہے۔بیوہ کو دلاسے کے بجائے تند وتیز جملوں۔میں منحوس اور ذرد قسمت کہا بجاتا ہے۔۔
جسے وہ لاڈلی پکارتا تھا۔۔
ہاۓ ملال۔
وہ۔یتمی کے جام پئے گا۔۔۔
____________________________________________
ملحان۔۔۔۔۔
شیث تمہیں پتہ ہے وہ جو رومان تھی اسکے بابا کا انتقال ہو گیا ہے ۔
شیث۔۔۔۔۔۔
ہاں میں نے سنا تھا نیوز میں۔سوچا تھا میں نے کے دعائے مغفرت کے لۓ بھی جاؤ گا۔پر
ملحان۔۔۔۔
پر کیا۔؟
یار مجھے ام رومان کا،سامنا کرنے کی۔ہمت نہیں وہ بہت الگ ہے۔
ملحان۔۔۔۔۔
یار تم نے کیا کیا ہے تمہیں جانا چاہئیے تم۔نے تو اسے بچایا ہے۔
شیث۔۔۔۔
میں نے نہیں اسے اللہ نے بچا یا ہے میری جگہ اس،وقت اگر کوئی بھی ہوتا تو،اسکی مدد کرتا۔
ملحان۔۔۔۔۔۔
مدد ارے مدد چھوڑ و تم تو جناب اس دن ہی۔جلدی آۓ تھے ورنہ۔یہ تو ان بد تمیزوں۔کا روزآنہ کا معمول ہے ہاں۔ بس اس،دن ام رومان کی قسمت اچھی تھی یہ۔کہو ورنہ انکو کوئی کچھ بھی نہیں کہتا سب ڈرتے ہیں۔
شیث۔۔۔۔۔
افسوس ہےجوبھی ان سے ڈرتے۔ہیں۔اگر انکی اپنی بہنیں ہوتیں تو کیا پھر بھی۔یہ اسی طرح کرتے۔۔
ملحان۔۔۔
خیر یار ہمیں چلنا چاہیے اسکے گھر۔
شیث۔۔۔۔۔
وہ دیکھو ملحان ام رومان آگئی ہے۔
ملحان۔۔۔۔
ارے یار ابھی کل تو اسکے بابا کا سوم تھا آج۔کالج۔یار ہمت ہے اس لڑکی کی۔
شیث۔۔۔۔۔۔
یار ایم فین
ملحان۔۔۔۔۔۔
کروں پھر گھر،آکر دادی سے بات۔
شیث۔۔۔۔۔۔
یار تم بھی نا۔
دونوں ہنستے ہوئے کلاس میں چلے گۓ۔
شیث۔۔۔۔
رومان کو پیچھے سے آوازیں دیتے ہوئے۔
مس ام رومان۔میں ام رومان۔
ملیحہ۔۔۔۔
رومان شیث ہے روک جاؤ رومان۔
رومان۔۔۔۔۔
کیوں شیث ہے تو کیوں روکو مجھے اس سے کوئی کام۔نہی۔
ملیحہ۔۔۔
روکو رومان وہ کب سے بڑی تمیز سے بولا رہا ہے۔
رومان۔۔۔۔۔
جی۔
شیث ۔۔۔۔۔۔
وہ مجھے آپکے بابا کا۔
شیث کے جملے کو ادھوری چھوڑ رومان نے اپنی دل کی ساری بھڑاس شیث پر اتر دی۔
رومان۔۔۔۔
آپکو میرے بابا کا کیا۔سن کر بہت دکھ ہو اور آپ اب مجھے یہ کہئے گے کہ ہاۓ تم یتیم ہوگئ کتنی منحوس ہوتمہارا باپ مر گیا اور لڑکی ہو کوئ بھائی بھی نہیں۔۔بس،یااور بھی کچھ۔؟؟
شیث۔۔۔رومان کو جاتا دیکھ بڑی دور تک دیکھتا رہا اور اک۔لفظ بھی منہ سے نا نکالا۔
ملیحہ۔۔۔۔۔
رومان بس کر دو رومان کیوں اتنا رو رہی ہو رومان گھر میں سب کو،دلاسہ دینے والی اکیلے میں کیوں،ٹوٹ جاتی ہو۔
رومان۔۔۔۔۔
نے ملیحہ کی بات سن۔کر چھٹ،سےاپنے آنسو صاف کئے میں کمزور نہیں ہو ں بہت مضبوط ہوں بس لوگوں کی باتیں کاٹنے لگتی ہیں ہر شخص کے کئ چہرے ہر چہرے کی الگ کہانی ڈر ا دیتی ہے مجھے۔
ملیحہ۔۔۔
رومان چلو کلاس،میں چلتے ہیں
_____________________________________________
جوش۔
ممی ممی کہاں ہیں آپ؟؟؟
میگھن۔۔۔۔۔
کیتھرین کا کچھ پتہ چلا،بتایا اس،نے کچھ۔
جوش۔۔۔۔
نہیں ممی پوپ کہہ رہا ہے کہ اس،دم۔فلیٹ کے کاغذات لینے کی بعد میرا کیتھرین سے جھگڑا ہوا،تھا میں نے وہ رات باہر گزاری
جاری ہے۔۔
0 Comments
Assalamualaikum