:
آخری اقساط۔۔۔۔17٫18
ناول :-- ملال درد
مصنفہ:- حاجرہ یاسمین
میگھن کی دعائیہ تقریب کے بعد جوش کو کیتھرین کا خیال آیا ۔میں تمہیں ڈھونڈ لونگا کیتھرین میں جلد تمہارے پاس پہنچ جاونگا۔میں واپس لے آؤنگا تمہیں کیتھرین۔۔
_____________________________زارا بیگم۔۔۔۔
تم اس زرہ سمت کو ہر گز میرے گھر میں نہیں آنے دو گی تمہاری دوست ہے پر اچھے طریقے سے جانتی ہوں جہاں بھی جاتی ہے وہ لڑکی ساتھ تباہی لےکر جاتی ہے میں ہرگز تمہیں رومان کو یہاں لانے کی اجازت نہیں دے سکتی مجھے میرے بیٹے اور اسکی اولاد کی زندگی بہت عزیز ہے میں اس زرہ قسمت کی نظر نہیں کر سکتی اپنی نسل کو ہرگز نہیں کر سکتی یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔
ملیحہ۔۔۔۔
پر آنٹی وہ میری بچپن کی دوست ہے وہ بہت اچھی ہے نصیب کا لکھا تو کوئی نہیں ٹال سکتا یہ تو کسی کیساتھ بھی ہو سکتا ہے آپ ایسے کیسے کہہ سکتیں۔
زارا بیگم۔۔۔
اچھا تو محترمہ تم اسکے ساتھ جا کر اپنی قسمت کو چمکا لو اسکی قسمت کا رنگ دے کر پر میرے گھر میں نہیں ۔۔۔۔یہ میرا آخری فیصلہ ہے بس۔
ملیحہ۔۔۔۔
چاہ کر بھی رومان کی مدد نہیں کرسکتی تھی وہ چاہتی تھی کہ رومان کی داد رسی کرے اسے یہاں بلوا کر اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔رومان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک بے لوث دوستی کی تھی جو اسے ملیحہ کی صورت مل سکتی تھی پر ملیحہ اپنی دوست کی مدد نہیں کرسکتی تھی
رومان۔۔۔۔۔
دادی پہنچتے ہی کال کر دونگی میں اور میں سیدھا ملیحہ کے گھر ہی جاؤنگی پریشان نہ ہوں ۔
بی اماں۔۔۔۔
میرا دل بیٹھا جا رہا ہے بیٹا اللہ تمہاری حفاظت کرے امین۔
رومان ۔۔۔۔
دادو امی اگر آپ ایسے کرینگی تو میں کیسے جاونگی۔۔امی آپ دادو کا خیال رکھیے گا اور میرے لے دعائیں کریئے گا۔اللہ حافظ۔
اللہ حافظ۔ میری بچی
______________________________رومان جیسے ہی اس پاک سر زمین کی طرف بڑھ رہی تھی اسے ایک عجیب سا سکون اپنے اندر اترتا محسوس ہو رہا تھا ۔وہ اپنے محبوب کے گھر کو اپنے ذہن میں تصور کررہی تھی وہ محسوس کر سکتی تھی اپنے رب کے لمس کو۔۔وہ محبوب سے ملنے کی تڑپ۔وہ محبوب کو شہ رگ سے قریب پانے کی کشش وہ محبوب سے نم آنکھوں اور بے آواز رابطوں کی گفتگو۔وہ محبوب سے اپنے سامنے ہونے کی جستجو ۔۔۔ہاں وہ اپنے رب کی بڑی خوش نصیب بندی تھی اسے بولایا گیا اپنے گھر جوں جوں رومان کی فلیٹ یو اے ای سے قریب ہو رہی تھی رومان کے چہرے پے کوس قزح کے رنگ بکھر رہے تھے ملنے کے تڑپ مزید بڑھ رہی تھی ۔
رومان۔۔۔۔
السلامُ علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ۔۔
ہیلو۔جی کون
میں رومان بات کر رہی ہوں ملیحہ کی دوست میری ملیحہ سے بات کروا دیں۔
زارا بیگم۔۔۔
ملیحہ کو تو آج ایمرجنسی پاکستان جانا پڑ گیا ہے تو آپ مجھے بتا دیں کیا پیغام دینا ہے۔
رومان۔۔۔۔
ملیحہ کا فون نمبر بھی کل سے بند ہے اگر آپکے پاس انکا نمبر ہو تو دے دیں مجھے۔ میرا ان سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
زارا بیگم۔۔۔۔
ارے ضرور پر میں نے اپکوعرض کیا نہ کہ وہ ایمرجنسی میں گئ ہیں تو ایسے میں آپ انھیں کیسے ڈسٹرب کرینگی۔
رومان۔۔۔
جی ٹھیک۔
زارا بیگم کی باتوں نےملیحہ کو رولا دیا وہ آج ایک ایسی دوست سے محروم ہوئ تھی جس نے اسے بہت کچھ سیکھایا تھا ہر وقت میں ہر مشکل میں اسکا ساتھ دیا تھا ۔اج یہ دوستی بھی دنیا کی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔
رومان ۔۔یو اے ای ائیرپورٹ پر کھڑی کافی دیر زارا بیگم سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچ رہی تھی آخر کیا ہوا ہو گا اللہ سب خیریت ہی ہو ملیحہ کو ایسی کیا ایمرجنسی آ گی ابھی کل تو میری اس سےبات ہو ئ تھی رومان نے ہوٹل میں روکنے کا ارادہ کرتے ہوئے ایک گاڑی کو روکا ۔۔
_____________________________گولڈی۔۔
اچھا ہوا۔ وہ گورا بغیر کسی تفشیش کے چلا گیا ورنہ مسلہ ہو جاتا۔
سکندر ۔۔۔۔
اسے تو جانا ہی تھا پر میرا اگلا شکار ر بھی تیار ہے اور تم لوگ اس شکار کے بارے میں سنو گے تو پاگل ہی ہو جاؤگے۔
وکی ۔۔۔۔
کیوں ۔بھئ ایسی بھی کیا بات ہے اس شکار میں۔؟؟؟
سکندر۔ تئیس تاریخ کو رات آٹھ بجے تیار رہنا شکار کے لئے۔
وکی۔،سوہان
23 تیئس کو کیوں آج ہی چلتے ہی ہیں۔۔۔
سکندر ۔۔ارےبیٹا چوہیاں کو بل سے نکالنے کے کےتئیس کا انتظار کرنا پڑےگا۔
سب ایک ساتھ ہنستے ہوئے ۔۔
_____________________________عارف صاحب۔۔۔
میری بیٹی تم لوگوں
کے پاس ہی ہے میں یہاں تب تک آتا رہونگا جبتک تم میری بیٹی میرے حوالے نہیں کر دیتے ۔۔
گولڈی ۔۔
ابے اووپاگل نکل یہاں سے اگرتیری بیٹی یہاں ہوتی تو تجھے دے کر تجھ سے جان نہ چھڑوا لیتے۔
عارف صاحب۔۔ ۔
مجھے تمہاری باتوں پر یقین نہیں میں یہاں آتا رہونگا۔
گولڈی نے عارف صاحب کو فلیٹ کےفرنٹ گیٹ کے سامنے اپنی گاڑی کی ٹکر سے دور دکھیل دیا
قریب کھڑے لوگوں نے عارف صاحب کو جلدی سے اٹھایا اور ہسپتال لےگے .
گولڈی۔۔۔۔۔
اب نہیں آئےگا پاگل بڈھا سبق سیکھا آیا ہوں اسے ۔۔۔سبکو بتاتے ہوئے
____________________________
سکندر اچھا چلو پھر تیار ہو سب شکار کے لئے ۔
جی جی ۔۔ چلیں
رومان۔۔۔۔
جی دادو کیسی ہیں آپ امی کیسی ہیں۔
اللہ کا شکر ہے بیٹا۔تم کیسی ہو ملیحہ سےملی۔
رومان۔
نہیں دادی ملیحہ تو پاکستان میں ہے ۔
دادی۔۔۔
اچھا تو تم کہاں ہو بیٹا۔
دادی میں تو ایاز انکل کے ہوٹل میں ہوں ۔کیا کر رہے ہو کون ہو تم چھوڑو مجھے کون ہو
بی اماں۔۔۔۔
رومان بیٹی کیا ہوا رومان کون ہے کیا ہوا۔
بیٹاجلدی سے ایاز کو فون کرو رومان کسی مشکل میں ہے جلدی کرو ۔
نسرین بیگم۔۔۔
میری بچی کیساتھ کیا ہو گیا ۔۔
نسرین بیگم رو رہیں تھیں میری بچی اللہ میری بچی کی حفاظت فرما میرے مالک کہاں۔ ہوگی کس حال میں ہوگی
______________________________جوش۔۔۔ مجھے کسی نے یہی پتہ بتایا تھا اس لے یہاں آیا ہوں ۔
: گولڈی ۔۔ارے بھای اگر تیری بہن یہاں ہوتی تو مل جاتی کتنی با ر آیا ہے تو ۔۔
جوش۔ ۔۔۔
ہاں پر مجھے یقین ہے وہ یہیں کہیں ہو گی۔میں ڈھونڈ لونگا مسٹر ۔
سکندر۔۔۔۔
ارے گولڈی کہاں گم تھے یار کب سے تجھے ڈھونڈ رہا اتنا ویٹ یار۔۔ سوہان ۔۔۔۔
جو سرپرائز ہم تیرے لے لاے ہیں تو حیران بلکہ پریشان ہو جاے گا
وکی۔۔۔۔
ارے ارےا ارے سسپنس ڈائجسٹ کی طرح ا ب ج مت گنواؤ بتاؤ۔
سکندر تو یہ لو جناب۔۔۔۔سکندر نے رومان کے چہرے سے چادر اٹھائی ۔
گولڈی ۔۔۔ارے یہ تووووو
سکندر ہاں۔۔۔یہ تو مس ام رومان گل ہے کہا تھا نہ بدلہ سود سمیت لینگے۔۔
کب سے اسکی طاق میں تھا۔۔ہماری قسمت اچھی تھی کہ یہ مجھے یہیں مل گئی ورنہ پاکستان جانا پڑتا اس دن جب میں ماماکو ائیرپورٹ چھوڑنے گیا تھا وہیں اسے دیکھا تھا تب سے پیچھا کر رہا تھا پر بلی بل سر باہر ہی نہیں ا رہی تھی۔
گولڈی۔۔۔یار مجھ سے صبر نہیں ہوتا جلدی سے اسے ہوش میں لاؤ اور اس کا نقاب اترواو۔
وکی ارے ارے ٹھنڈا کر کہ کھاؤ کیا جلدی ہے اتنی بھی۔
اتنے میں مین ڈور سے اونچی اونچی آوازیں آنا شروع ہوگیں۔
گولڈی۔۔۔جیسے ہی رومان کےچہرے پر پڑے نقاب پر ہاتھ ڈالنے لگا آوزیں مزید بلند ہوئیں۔۔۔
سکندر ۔۔۔یار کون ہے یہ اس وقت ۔
گولڈی۔۔۔
یار وہ گورا ہو گا ابھی بھیجا ہے اسے پھر آن ٹپکا۔میں سے ٹرکھا کے آتا ہوں۔
سکندر۔۔۔
روکو ہم بھی تمہارے ساتھ چلتے ہیں اسے کلیئر کرواتے کہ اسکی بہن کہاں ہے۔
گاڈ کون ہے جناب یہ دیکھیں زرہ کب سے یہ صاحب ان سب کو جمع کر کے لے آیئں ہیں کہہ رہے کہ گولڈی کی کار سے بچے کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے۔
یہ جملے سنتے ہی سکندر وکی اور سوہان کہ ذہین میں تین ماہ پہلے والا واقع ایا۔جب کیتھرین کو کسی نے یہاں سے ایسے ہی شورشرابہ کر کے بھگایا تھا۔
ارے بھاگو اندر جاؤ گاڈ کسی کو اندر سے باہر مت جانے دینا۔
بیٹا۔۔بیٹا اٹھوبیٹا۔نکلو یہاں سے۔
رومان نے آنکھیں کھولتے ہی رونا شروع کردیا۔
عارف صاحب۔۔۔
بیٹا میں تمہیں بچانے آیا ہو وقت نہیں ہے ہمارےپاس چلواٹھو۔۔
رومان نے فوراً اپنا ابایا درست کیا اور عارف صاحب کے ساتھ چل دی ۔
بیٹا قدم تیز اٹھاؤ او یہاں سے پیچھے کا دروازے ہے آجاؤ بیٹا۔
ابھی یہ لوگچند قدم ہی گئے تھے کہ۔۔۔
گولڈی۔۔۔۔
روک جاو۔ابے بڈھے روک ورنہ گولی مار دونگا روک جا۔۔۔روک جا۔
سکندر۔
آج تجھے ایسے نہیں جانے دینگے ۔
بیٹا روکنا مت بھاگو اور میری بات سنو یہ ایڈریس لو پیچھے کے دروازے سے نکلتے ہی چند قدم آگے ایک روڈ ہے جس کے ساتھ3 نمبر ویلا میں تمہیں ان درندوں سے پناہ مل سکتی میری بچی پیچھے مت دیکھنا بھاگ جاو۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔۔۔
رومان نے پیچھے مڑ کردیکھا تو عارف صاحب زمین پر پڑے تھے رومان انکی جانب آنا چاہتی تھی۔۔۔
عارف صاحب۔۔۔
بیٹی بھاگ جاؤ بھاگ جاؤ۔۔مجھے مت دیکھو جاؤ۔
سکندر ۔۔۔۔
روک جاؤ رومان کہاں جاوگی روک جاو۔
_____________________________بیٹا اندر آجاؤ اس ڈٹھٹرتی سری میں کیوں یہاں کھڑے ہو اجاو۔
جوش۔۔۔۔
پر میں ۔۔میں تو عیسائی ہوں مسجد میں عیسایوں کا اندرجانا منع ہے ناں۔۔
مولانا صاحب۔۔۔ہنستے ہوئے میرے بچے مسجد تو اللہ کا گھر ہے یہ تو سب کے لیے ہے آجاؤ ۔
جوش نےابھی اندر قدم رکھا ہی تھا کہ اندر سے سورہ رحمان کی تلاوت سنای دی۔۔
محترم یہ آوزیں کہاں سے آرہیں ہیں۔
مولانا صاحب۔۔۔
یہ تو مسجد کے مدرسے سے آرہی یہاں بچے قرآن کی تلاوت کرتے۔
جوش۔۔۔۔
کیا میں سن سکتا ہو۔
مولانا صاحب۔۔۔
جی جی کیوں نہیں۔۔۔۔
تلاوت کی آواز جوں جوں جوش کی سماعتوں سے ٹکر رہی تھی ساتھ ساتھ جوش وہ الفاظ اداکر رہا تھا۔
مولانا صاحب۔۔۔۔
حیران ہوےکہ یہ شخص ابھی کچھ دیر پہلے تک مجھے کہہ رہا تھا کہ میں عیسائی ہوں اور اب یہ تلاوت ۔۔۔
بیٹا۔۔۔
جی جی
مولانا نے جیسے جوش کو ہاتھ لگایا جوش بوکھلا گیا۔۔
مولانا۔
بیٹا ابھی تم نے مجھے اپنا تعارف کروایا اور فرمایا کہ میں عیسائی ہو ں اور اب تم تلاوت کر رہے ہو۔۔
جوش۔۔۔
جوش نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر مولانا صاحب کو اپنے خواب سنانا شروع کیں۔۔
یہ خواب نہ تھے یہ تومیرے رب کا چناؤ تھا جو اتنے بندوں میں اسنے جوش کو سنا تھا ۔۔۔اور وہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتاہے۔۔۔۔
فجر ہوتے ہی ہر طرف سے آذان فجر کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔۔۔
مولانا صاحب۔۔۔
جوش کی باتوں میں ا س قدر محو تھے کہ اندازہ ہی نہ ہوا کہ کب فجر ہوئ۔
مولانا صاحب۔۔۔
بیٹا۔تم اللہ کہ ان بندوں میں سے ہو جنہیں وہ لاکھوں کروڑوں کے مجموعے سے چن لیتا ہے تمہارہ دل بہت پاک اور شخصیت بہت پیاری ہے تمہارا رب تمہیں اپنے محبوب بندوں میں سے بنانا چاہتا ہے میرے بیٹے۔۔۔
مولانا صاحب کے لہجہ اور الفاظ میں اس قدر محبت اور پیار تھا جو شاید جوش کو کبھی اپنے ماں باپ سے بھی نہ ملا تھا۔۔
مولانا صاحب نماز فجر کے لیے اٹھے جوش وہیں بیٹھا رہا حالانکہ جوش کو الصبح نکلنا تھا۔پومر پتہ نہیں کیوں وہ مولانا اور باقی نمازیوں کی طرف دیکھ رہا تھا ایک گہری سوچ میں۔۔۔۔اور تب مولانا صاحب کی آواز نے جوش کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
بیٹا کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔۔
جوش۔۔۔
کچھ نہیں میں یہاں آپکے پاس رہ سکتا ہوں جب تک میری بہن نہیں مل جاتی۔۔
مولانا صاحب۔۔۔
ضرور ضرور۔۔
رب کی عنایت تو پہلے ہی تھی اس پر بس ایک راستے کی دیر تھی جو اسے مل گیا تھا۔
______________________________سکندر۔۔۔۔
ارے یار پتہ نہیں کہاں چلی گئی۔۔۔
اور اس دیکھو زرہ ایک گولی کھا کہ ہی مر گیا سالہ۔
گولڈی۔۔۔
چلو اب اوپر گیا ہے تو بیٹی سے بھی مل لے گا۔ وہیں بھیجا ہے ۔
سب ہنستے ہوئے۔۔
_____________________________بی اماں۔۔۔۔جوں جوں دن گزر رہے ہیں میرا تو دل ڈوبا جا رہا ہے میرا اللہ کوئ خبر نہیں آئ میری ام رومان کی 3 ماہ ہونے کو آئے ہیں۔۔
ناجانے میر ی بچی کس حالت میں ہوگی۔
نسرین بیگم۔۔۔۔
بی اماں میں مرجاونگی مجھے میری رومان کے پاس جانا ہے اسے میری ضرورت ہے بی اماں۔اپ لے جائیں گی مجھے میری بچی کے پاس بتائیں نا بی اماں۔
بی اماں۔۔۔۔
صبر کرو میری بچی مت رو اتنا دعا کرو مل جائے گی۔میں لے کرجاونگی تمہیں بس میری بچی بس۔
دیکھو زرہ کیا حال کر لیا ہے ساس بہو نے اور وہ رومان۔بھاگ گی۔
گھر سےکہہ کر گی تھی عمرہ کرنے جا رہی۔
رے ارے دیکھو زرہ اکیلے کونسا عمرہ ہوتا ہے
بس بہن ایسا ہی ہے نوجوان نسل کا تو اللہ حافظ ہےباپ کو کھا گئی شوہر کو کھا گئ اوراب ماں اور دادی کی باری ہے اللہ ایسی اولاد سے بے اولاد ہونا بہتر ہے۔
نسرین بیگم۔۔
بس کر دیں جائیں آپ سب نہیں چاہیئے آپکی ہمدردی چلے جائیں ۔
_____________________________رومان۔۔۔
آپنے مجھے پناہ دی میں شکرگزار
ہوں مجھے یہاں 7ماہ ہوگئے ہیں مجھے اب یہاں سے جانا ہے ۔
عمر صاحب۔
بیٹا ضرور جاؤ ہم تمہیں روکے گے نہیں پر وہ لوگ ابھی بھی تمہارے تعاقب میں در در کی خاک چھان رہے ہیں۔اپ سے پہلے فاطمہ کو بھی عارف صاحب ہی لاے تھے ہمارے پاس اور دیکھیں زرہ فاطمہ یہیں ہیں آپ کچھ دیر ٹھہر جائیں ۔۔بیشک پھر چلی جانا۔
سعدیہ بیگم تو رومان کے جانے کاسن کر رونے لگیں۔۔۔
ارے آنٹی آپ کیوں رو رہیں ہیں ان شاءاللہ میں آتی رہو نگی۔
سعدیہ بیگم۔۔۔۔۔
رومان بیٹی اللہ نے مجھے تمہاری صورت میں بیٹی دی ہے تمہارے جانے کا خیال آتے ہی میرا دل ڈوبنے لگتا ہے
رومان۔۔
آنٹی اتنے کم وقت میں ۔میں بھی آپ سے بہت مانوس ہوگی ہوں بس مجھے دادی اور امی بہت یاد آتی انھیں میری فکر ہو گی ۔
______________________________مولانا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔خطبہ۔۔۔
اور تم اس ذات کیساتھ شریک ٹھہراتے ہو جس کا کوئی شریک نہیں ۔اور اس پر بھتان بندھتے ہو۔۔۔یاد رکھودرد ناک عزاب تیار ہے ایسے لوگوں کے لیے۔۔
جوش کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب رواں تھا اسے لگ رہا تھا جیسے وہ اس خواب میں نہیں حقیقی زندگی میں گہرے دلدل میں تھا اور اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ اسلام تھا ۔۔
مولانا صاحب ۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔
۔محترم میں اسلام قبول کر سکتا ہوں کیا۔
مولانا صاحب۔۔۔
کیوں نہیں بیٹا کیا تم ایسا کرنا چاہتے ہو بغیر کسی بوجھ اور دباؤ کے
جوش۔۔۔
بوجھ اور دباؤ میں تومیں ابھی ہوں۔نکلنا چاہتا ہوں۔پر شاید میں نے بہت دیر کر دی۔
مولانا صاحب۔۔۔
نہیں بیٹے تم بلکل صحیح وقت پر اے ہو۔
اگلے جمعے ہی جوش نے 26سال کی عمر میں جوش سے ابراہیم بننے کا سفر طے کیا ۔کتھرین کی تلاش تو بس بہانہ تھا اس رب کا وہ تو بس ابراہیم کو اس دلدل سے نکا لنا چاہتا تھا۔۔۔اور میرا رب بڑا کارساز ہے بیشک۔۔۔
3ماہ بعد
ابراہیم بیٹا درس کی چھٹیاں ہو رہیں ہیں میں گھر جا رہا ہو ں اگر تمہیں ا عتراض نہ ہو تو میرے ساتھ آسکتے ہو۔۔
مولانا عمر ابراہیم کو اپنا بیٹا مانتے تھے
_____________________________ارے کباب بناؤ عمر بتا رہے تھے میرے بیٹے کو بہت پسند ہیں رومان تم کباب بہت اچھے فرائ کرتی ہو فاطمہ بیٹا تم کریلے قیمہ بھن لو۔
میں زرہ میٹھا دیکھ لو۔
سعدیہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دنیا کی ہر شےکو آج دسترخوان پر سجا لیں
اتنے میں گاڑی کا ہارن بجا
لو جی ا گے
رومان فاطمہ بیٹا آپ لوگ اندر چلے جاؤ
جی جی۔
مولانا عمر۔۔۔
آجاؤ آجاؤ ابراہیم بیٹا اسے اپنا ہی گھر سمجھو بیٹا۔۔۔
اتنا پیار اتنا لاڈ تو ابراہیم نے خواب میں بھی کبھی نہیں سوچا تھا۔
_____________________________نسرین بیگم۔۔۔
بی اماں بی اماں۔۔
میں نے خواب دیکھا۔۔۔
رومان بہت خوش تھی اور وہ بہت جلد ہم سے ملنے آئے گی۔۔
یہ سچ ہے نہ بی اماں میری بچی آجاے گی نہ
بی اماں۔۔ضرور اے گی میں نہ کہتی تھی میری بچی تو بڑی نیک کے اللہ اسکی حفاظت کرے گا۔بس جلد آجاے ہماری رومان۔
______________________________سعدیہ بیگم۔رومان کی پیچھلی زندگی کے بارے میں سب جانتی تھیں وہ چاہتی تھی کہ رومان کا گھر پھرسے بس جاے ابراہیم کےآنے سے انکی اس خواہش کو اور جلا ملی۔
رومان بیٹی اگر میں تم سے کچھ مانگو تو دو گی
رومان۔
آپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں اگر آپ مجھ سے اپنی جان بھی مانگے گی تو میں انکار نہیں کرونگی آپ نے میری عزت بچائ ہے آپ نے میرا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے
سعدیہ بیگم۔
بیٹا میری بات ک برا مت ماننا پر تم میرے ابراہیم سے شادی کر لو وہ بہت اچھا ہے اسکی اچھائی کی گواہی عمر صاحب دیتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
قبول ہے قبول ہے قبول ہے
رومان کو ابراہیم کی شکل میں ایک ایسا انسان ملا تھا جسے برسوں سے رومان کی تلاش تھی شاید رومان کو ابراہیم کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔
ابراہیم نے جس لمحے رومان کو دیکھا ایک گہری اور طویل خاموشی دونوں کے درمیان چھا گئی۔۔۔وہ سارے خواب جو ابراہیم نے چھے سال پہلے دیکھے تھےاسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کے طرح چلنے لگے ہاں یہ وہی عکس تھا ہاں یہ وہی راہنما ہے جس کی مجھے تلاش تھی ہاں میں اسی کی تلاش میں تھا ہاں میرے رب نے مجھے ملا دیا میرے راہنما سے۔۔
رومان ابراہیم کی کیفیت سے ناواقف نظریں جھکائے ہوئے تھی ابراہیم نے رومان ک چہرا اپنی جانب کرتے ہو اپنے لمس سے رومان کی نامکمل زندگی کو مکمل کر دیا۔۔
_____________________________سکندر ابے اس بغیرت نے ریڈ کروائی ہے پیچھے پولیس ہے اور تو کہہ رہا ہے کہ آہستہ چلا ۔۔۔
پولیس تو نہیں مارے گی پر لگتا ہے تو جان سے ماردےگا
برائی کا انجام ایک خوفناک چیخ اور سناٹےنے کیا۔۔۔
_____________________________حرم کا دروازے کھولا اور رومان ابراہیم کی راہنمائی میں اس کے پیچھے پیچھے چلتی گی۔اور اسے وہ خواب یاد آیا ۔۔۔۔جواس نے حرم کے دروازے تک دیکھا تھا نم آنکھوں کیساتھ ابراہیم کو دیکھا تو آپکے ساتھ نے مجھے یہاں تک روکے رکھا اور آج یہ دروازے کھلا۔۔۔
دونوں اپنے رب کے حضور کھڑے تھے ۔رومان کو ۔بابا کی وفات اور شیث کے بچھڑنے پر کیے جانے والا ماتم، درد ،قرب یاد آیا تو بے اختیار اپنے اس درد پر ملا ل کا آنسو اسکی نم آنکھوں سے بہہ نکلا۔ابراہیم نے رومان کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور اسکی زندگی اسکے بغیر ایک ملال تھی
اور تم اپنے رب کر کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔۔
قسط نمبر:- 15,16
ملال درد۔۔
0 Comments
Assalamualaikum