Photography World
تلخ یادوں کے ہمراہ 16 دسمبر 1971ء کا ڈھلتا سورج جاتے جاتے ایک پیغام دے رہا تھا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ جو حصہ تمہارے پاس ہے اس ایمان کی گوند سے چپکا لو کہ کہیں پھر ایسا دن دیکھتے غروب ہونا مجھے گوارا نہیں
جو مرحلوں میں ساتھ تھے، وہ منزلوں پہ چُھٹ گئے
جو رات میں لُٹے نہ تھے، وہ دوپہر میں لُٹ گئے
مگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاﺅں گا
زبان گنگ ہوگئی، گلے میں گیت گُھٹ گئے
کٹی ہوئی ہیں اُنگلیاں، رباب ڈھونڈتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی،وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں
مولانا عامر عثمانی
اُفق کی سرخ قبا سے سراغ ملتا ہے
ہمارا خون ستاروں میں جگمگائے گا
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا
آغا شورش کاشمیری
شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بہت شاداب ہوتی ہے
جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضاء گزرتے ہیں
وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے
(ماہر القادری)
جالا بُنا گیا تھا پتا ہی نہیں چلا
مکڑی نے کچھ لکھا تھا پتا ہی نہیں چلا
(پرویز اختر)
16 دسمبر 1971ء تاریخ کے اوراق میں ایسا تاریک دن ہے، جو ابد تک ایک سیاہ داغ بن کر رہے گا۔ دشمن اور خواص کی طرف سے بُنے گئے مضبوط جال نے نفرت کی ایسی آگ کو ہوا دی کہ سوچنے اور بوجھنے کے صلاحیت جاتی رہی اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے لوگوں کے بیچ بغض اورحسد جیسے خطرناک جراثیم نے جنم لے لیا۔ عام انسان کے جذبات و احساسات اور بے بسی پر سیاست کھیلی گئی۔ یہ تصویر اسی بے دردی سے بُنے جال کی عکاسی کرتی ہے-
خبر نہیں یہ رقابت تھی ناخداؤں کی
کہ یہ سیاست درباں کی چال تھی کوئی
(احمد فراز)
چڑھتے سورج کے پُجاری تو لاکھوں ہے فراز
ڈوبتے وقت ہم نے سورج کو بھی تنہا دیکھا
شاعر: احمد فراز
ایک تنہا ۔۔
ابر آلود شام میں۔۔
ہاں ۔۔۔
وہ شبنم کی لڑی ۔۔۔۔
زرد ہوتی ٹہنی کو سرسبز کرنے پر مصر تھی۔
کون کہتا ہے کہ پھر خاک سے اٹھتے ہیں شہید
سر اٹھا سکتے ہیں مارے تری تلواروں کے
شاعر : مصحفی غلام ہمدانی
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں
شاعر :افتخار عارف
_______________________________
پھول لے کر گیا آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آرہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہر ماتم تھا اقبال کا مقبرہ،
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
روح قائد بھی سر کو جھکائے ہوئے،
کہہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہوگیا،
یہ تصور تو ہرگز ہمارا نہیں
سرنگوں تھا قبر پہ مینار وطن
کہہ رہا تھا کہ اے تاج دار وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر
کیسے قائم ہوا یہ حصار وطن
جس کی خاطر کٹے قوم کے مرد و زن
ان کی تصویر ہے یہ مینارہ نہیں
کچھ اسیران گلشن تھے حاضر وہاں
کچھ سیاسی محاشے بھی موجود تھے
چاند تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے
چاند تاروں کے لاشے بھی موجود تھے
میرا ہنسنا تو پہلے ہی جرم تھا
میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں
کیا افسانہ کہوں ماضی و حال کا
شیر تھا میں بھی اک ارض بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی
ایک شاہیں تھا میں ذہن اقبال کا
ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل
دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں
یوں تو ہونے کو گھر ہے سلامت رہے
کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی آج دو ہوگئے،
ٹکڑے کر ڈالا دشمن کی تلوار نے،
ڈھر بھی دو ہوگئے در بھی ہوگئے،
جیسے کوئی بھی رشتہ ہمارا نہیں،
قبر اقبال سے آرہی رہی ہے صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شاعر : مشیر کاظمی
0 Comments
Assalamualaikum