https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=480194929995313&id=100040144290851
12قسط
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=502376711110468&id=100040144290851
13
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=520157202665752&id=100040144290851
14
https://www.facebook.com/100040144290851/posts/551073036240835/
15
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=563122631702542&id=100040144290851
16
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=586426856038786&id=100040144290851
Epi 17
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=594235391924599&id=100040144290851
18قسط
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=610283720319766&id=100040144290851
بنتِ سحر
قسط 19
شبِ یقیں کا ستارۂ صبح
اس سے پہلے تم نے پوچھا تھا کہ اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹنے کے بعد ملتا کیا ہے؟
پھر جب میں نے خالصتاً اللہ سے محبت کا حل دیا ۔ تو تمہارا سوال یہ تھا :
”کیا میں اپنے قریبی لوگوں سے محبت نہ کروں؟“
دیکھو! میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ ہمیں توقعات توڑتی ہیں۔ توقعات کیا؟ یہی کہ جس سے ہمیں محبت ہے وہ ہم سے محبت کرے۔ ہماری پسند کے مطابق چلے۔ ایسا اور ایسا ہو جائے۔ یوں نہ کرے اور یوں کرے۔ لیکن___چونکہ ہر انسان اپنی الگ فطرت اور مزاج کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو کوئی رشتہ، دوست یا ساتھی سو فیصد آپ کے معیار کے مطابق نہیں ہو سکتا۔
مگر پھر کاملیت کی چاہ بھی ہمارے اندر فطری ہے۔
سو اللہ کامل ہے نا، اس سے محبت کر لو❤️ کاملیت (پرفیکشن) کی چاہ وہ پوری کردے گا تو باقی محبتوں میں پھر تمہیں یہ خواہش اور توقع نہیں رہے گی۔
اور جب کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے نا، اللہ اسے محبت کی رمزیں سمجھاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جس نے محبت پیدا کی ہے، جو محبت کا ربّ ہے ، بھلا اس سے بڑھ کر محبتیں کون سکھائے گا؟؟؟
ہاں بالکل! محبت سیکھنے کے لیے استاد چاہیے ہوتا ہے۔ اور بہترین استاد اللہ ہی ہے۔ اس سے محبت سیکھو گی تو درست جگہ پر جذبات کی انسویسٹمنٹ کرو گی اور وہی محبتیں تمہیں محض اللہ کی خاطر محبوب ہوں گی۔
اللہ سے پہلے کسی سے محبت کرو گی، چاہے امی ابو ہوں، بہن بھائی کوئی اور رشتہ یا دوست۔۔۔یا کوئی اور ، اپنی ذات کے گرد گھومنے والی محبتوں سے توقعات رکھ رکھ کر ٹوٹتی دیکھ کر ٹوٹ جاؤ گی۔ سمجھ رہی ہو نا؟“
یہاں تک کہہ کر اس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور اس کا اثبات میں ہلتا سر دیکھ کر مزید بولی:
”جب بندہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے تو اپنے اِس پرفیکٹ دوست کی عادتیں اس کے کام آتی ہیں۔ جیسا کہ معاف کرنے کی عادت اسے لوگوں کو سپیس دینا سکھاتی ہے۔
وہ سمجھ لیتا ہے کہ “بندوں میں سے کوئی کامل نہیں ہو سکتا! نہ میرے ماں باپ، نہ بہن بھائی، نہ میاں/بیوی ، نہ میرےبچے، نہ کوئی دوست یا رشتہ دار۔
سو محبت کا قرینہ یہ ہے کہ محبوب کو خامیوں سمیت چن لیا جائے۔ اس کی غلطیاں معاف کی جائیں۔”
اسی رویے کا نام ’محبت‘ ہے۔
اور جب تم یہ سیکھ جاؤ گی تب تمہیں ’اصل‘ میں لوگوں سے محبت کرنا آ جائے گی۔ تب تمہارے رشتوں میں محبت کی خالص مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو شامل ہو جائے گی جو تمہارے دل کے آنگن کو مہکاتی رہے گی۔“💗
سیاہ آنکھوں والی لڑکی نے اطمینان بھرا سانس کر تشکر سے اسے دیکھا اور دونوں مسکرا دیں۔ ایک نئی صبح کی امید کے ساتھ ! ✨
بںت السحر
0 Comments
Assalamualaikum