𝟓𝐚𝐦_𝐃𝐢𝐚𝐫𝐢𝐞𝐬 شبِ یقیں کا ستارۂ صبح✨ تمام اقساط لنکس1-19

 


قسط 1





قسط 4 




قسط 5

قسط 6

قسط 7

قسط 8

قسط9

قسط 10

𝟓𝐚𝐦_𝐃𝐢𝐚𝐫𝐢𝐞𝐬 ✨ 
(10)


شبِ انتظار 

آج پھر سیاہ آنکھوں والی لڑکی الجھی الجھی سی اپنی رازداں کے پاس موجود تھی۔ رات کے وقت لان کے آغاز میں بنے سٹیپس پہ وہ دونوں بیٹھی تھیں۔ 
"میں دوسروں کے لیے جو دعائیں کرتی ہوں وہ سنی جاتی ہیں"۔ 
"مطلب یہ کہ تمہاری دعائیں سنی جانے لگی ہیں؟"
"ہاں زیادہ تر۔ لیکن میری اپنی دعائیں، جو اپنے لیے کرتی ہوں، وہ بھی تو سنی جائیں"۔
"تمہیں وہی چاہیے جو مانگا ہے"
دھیرے سے مسکرا کر اس نے پوچھا۔
"ہاں"! ۔ وہ بولی

"دعائیں اپنے ٹھیک وقت پہ سنی جاتی ہیں۔ اور تمہیں وقت دیا جارہا ہے ۔ اپنے آپ کو اللہ سے جوڑو۔ جو فکریں اللہ سے جوڑ دیں، سرمایہ ہوتی ہیں۔ تعلق کمزور پڑ جائے تو
پھر سے اللہ کی محبت مانگو۔ مانگے جاؤ۔"
"مانگتی ہوں۔ سب خواہشات سے پہلے۔"
اللہ سے ڈرتی ہو نا؟؟ 
"ہاں نا"۔ وہ چونک کر بولی۔
"کیسے؟"
"بس دل میں"۔
"اس کی ناراضگی سے ڈرا کرو نا۔ بہت محبت کرتی ہو نا؟ تو بس محبوب کو ناراض کرنے سے ڈرو۔"
"اس سے کیا ہو گا؟"
"تعلق مضبوط ہو گا۔ پسند نا پسند کا خیال رکھنے لگو گی۔ اللہ کو اتنی پیاری لگنے لگو گی کہ وہ تمہیں جو دینا چاہتے ہیں، اس مقام پہ پہنچ جاؤ گی۔"
اس نے چمکتی آنکھوں سے اسے تسلی دی۔ دوسری جانب چند لمحے خاموشی رہی۔ لان کے دوسرے سرے پہ باڑ کے کونے میں رکھے شیشے کے جار سے خوبصورت روشنیاں نکل رہی تھیں۔
"کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ واویلا ہے۔ یوں مانگے چلے جانا"۔
"تو ہوا کرے! بندوں سے نہیں مانگا ۔ اللہ سے مانگنے میں کیسی شرم اور عزت نفس، کہ واویلا لگے" ۔
چند لمحے خاموشی چھا گئی۔

"ہممم۔ اور خواہش کی شدت اور تکیمل میں حائل انتظار کی وجہ سے زندگی رکنے لگے تو؟ " سیاہ آنکھوں والی لڑکی سر جھکائے دھیرے سے بولی۔
"کبھی رک جانا بھی بہتر ہوتا ہے۔ کبھی شاید ذرا وقت گزرنے پر خواہشات کے ٹھیک یا غلط ہونے کا زیادہ اندازہ ہو جائے۔ غلط ہوں تو ہم ٹھہر جائیں گے۔"
"اور جو درست ہوں تو؟" وہ بے بسی سے بولی

اس نے ٹھنڈی سانس لی اور دور آسمان کی جانب دیکھا۔ 
"درست ہوں تو یقیں کا سفر جاری رکھنے کو ہمت مل جائے گی۔ اور اس سفر کے آخر میں بہت خوشیاں ہیں، یقین کرو۔ تمہیں پتہ ہے یعقوب علیہ سلام کی زندگی بھی رک گئی تھی۔ مگر پھر ان کو ایسا خوش کیا گیا کہ قافلہ مصر سے چلا مگر ان کا دل خوش کرنے کو قمیص کی خوشبو کنعان میں پہنچی۔ (وہ جیسے خود بھی کہیں کھونے لگی تھی )
جب زندگیاں رکتی ہیں تو پھر اچھے وقت سے پہلے ہی خوشیوں کی خوشبو میلوں دور سے آنے لگتی ہے ۔ اس خوشبو کو تلاشو ۔ خوشیاں قریب پہنچیں گی، وہ بھی یہیں کہیں ہو گی۔ دیکھو اس جار میں موجود روشنیاں کتنی معمولی ہیں، مگر اس گھپ اندھیرے میں کیسی واضح ہیں۔ کبھی کبھی روشنیاں دکھانے کے لیے اندھیرے بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ پھر وہی روشنیاں ان اندھیروں میں نئی زندگی کی امید لاتی ہیں۔"

"اور دل کا خالی پن؟"
وہ دھیرے سے مسکرائی۔
 "تھوڑا وقت تو دو۔ خالی ہوں گے تو پھر سے بھریں گے نا۔"
سیاہ آنکھوں والی لڑکی کے نقوش مسکراہٹ میں ڈھلے۔
"اللہ تمہارے دل کو سکون سے بھر دے۔ باقی دعائیں پھر کبھی، اب چلتی ہوں۔" 
شرارت سے بولی اور اٹھ گئی۔
اور وہ دھیرے سے ہنس دی "بھلا سکون کی دعا بھی کوئی معمولی دعا ہے؟"

”شبِ یقیں کا ستارۂ صبح“

بنتِ سحر
#5am_DiarieS✨

قسط 11

قسط 19

شبِ یقیں کا ستارۂ صبح

اس سے پہلے تم نے پوچھا تھا کہ اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹنے کے بعد ملتا کیا ہے؟ 

پھر جب میں نے خالصتاً اللہ سے محبت کا حل دیا ۔ تو تمہارا سوال یہ تھا : 

”کیا میں اپنے قریبی لوگوں سے محبت نہ کروں؟“


دیکھو! میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ ہمیں توقعات توڑتی ہیں۔ توقعات کیا؟  یہی کہ جس سے ہمیں محبت ہے وہ ہم سے محبت کرے۔ ہماری پسند کے مطابق چلے۔ ایسا اور ایسا ہو جائے۔ یوں نہ کرے اور یوں کرے۔ لیکن___چونکہ ہر انسان اپنی الگ فطرت اور مزاج کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو کوئی رشتہ، دوست یا ساتھی سو فیصد آپ کے معیار کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ 

مگر پھر کاملیت کی چاہ بھی ہمارے اندر فطری ہے۔ 


سو اللہ کامل ہے نا، اس سے محبت کر لو❤️ کاملیت (پرفیکشن) کی چاہ وہ پوری کردے گا تو باقی محبتوں میں پھر تمہیں یہ خواہش اور توقع نہیں رہے گی۔ 

اور جب کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے نا، اللہ اسے محبت کی رمزیں سمجھاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جس نے محبت پیدا کی ہے، جو محبت کا ربّ ہے ، بھلا اس سے بڑھ کر محبتیں کون سکھائے گا؟؟؟ 

ہاں بالکل! محبت سیکھنے کے لیے استاد چاہیے ہوتا ہے۔ اور بہترین استاد اللہ ہی ہے۔ اس سے محبت سیکھو گی تو درست جگہ پر جذبات کی انسویسٹمنٹ کرو گی اور وہی محبتیں تمہیں محض اللہ کی خاطر محبوب ہوں گی۔ 

 اللہ سے پہلے کسی سے محبت کرو گی، چاہے امی ابو ہوں، بہن بھائی کوئی اور رشتہ یا دوست۔۔۔یا کوئی اور ، اپنی ذات کے گرد گھومنے والی محبتوں سے توقعات رکھ رکھ کر ٹوٹتی دیکھ کر ٹوٹ جاؤ گی۔ سمجھ رہی ہو نا؟“


یہاں تک کہہ کر اس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور اس کا اثبات میں ہلتا سر دیکھ کر مزید بولی:


”جب بندہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے تو اپنے اِس پرفیکٹ دوست کی عادتیں اس کے کام آتی ہیں۔ جیسا کہ معاف کرنے کی عادت اسے لوگوں کو سپیس دینا سکھاتی ہے۔ 


وہ سمجھ لیتا ہے کہ “بندوں میں سے کوئی کامل نہیں ہو سکتا! نہ میرے ماں باپ، نہ بہن بھائی، نہ میاں/بیوی ، نہ میرےبچے، نہ کوئی دوست یا رشتہ دار۔ 

سو محبت کا قرینہ یہ ہے کہ محبوب کو خامیوں سمیت چن لیا جائے۔ اس کی غلطیاں معاف کی جائیں۔” 


اسی رویے کا نام ’محبت‘ ہے۔


اور جب تم یہ سیکھ جاؤ گی تب تمہیں ’اصل‘ میں لوگوں سے محبت کرنا آ جائے گی۔ تب تمہارے رشتوں میں محبت کی خالص مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو شامل ہو جائے گی جو تمہارے دل کے آنگن کو مہکاتی رہے گی۔“💗


سیاہ آنکھوں والی لڑکی نے اطمینان بھرا سانس کر تشکر سے اسے دیکھا اور دونوں مسکرا دیں۔ ایک نئی صبح کی امید کے ساتھ ! ✨

بںت السحر

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...