عیدالفطر 2020 اور ماں کی یاد میں
یہ عید کا دوسرا دن تھا۔ پورے محلے میں چہل پہل تھی سب اپنے پیاروں کے گھر عید کی مبارک باد دینے جارہے تھے جبکہ ہم نے اس عید پر کپڑے بھی نہیں پہنے کیوں کہ چچی کے ساتھ اظہار غم کی ساتھ ساتھ ہم جلد ہی ایک لمبے سفر پر نوشہرہ بحرین کلام سے ہوتے ہوئے دیر اپنے ننھیال جانے کا محکم اراداہ کر چکے تھے۔
عید کے پہلے دن پھپھو, چچیاں, چاچو (رضاعی بھائی )کی ساس کی تیسرے پر تعزیت کے لئے پشاور آئے تھے۔ امی نے عید کے کپڑے پہن کر تیار ہونےکا کہا پھر ہم دونوں بہنیں کپڑے پہنے بغیر تھوڑے سے تیار ہوکر امی سے کہنے لگے امی ہم تیار ہوگئے ہیں۔ یہاں پشاور میں ہمارا کون ہے جو ہمارے گھر آئے گا۔ ویسے بھی ہم کل پرسوں تک گاؤں جائینگے تو وہاں عید کے کپڑے پہن کر سب کیساتھ عید منائینگے۔ چھوٹا بھائی جو رمضان میں ختم القرآن بمعہ ترجمہ کرنے کی خوشی میں سیر کیلئے اپر دیر ننھیال گیا تھا۔ عید کے دوسرے دن بھائی کی واپسی تھی تُو آتے ہوئے شادی شدہ بہن کو بھی ساتھ ہی لے آئے۔جبکہ دوسری بہن اپنے سسرال صوابی سے پشاور آگئی۔
عید کا دوسرا دن پھر بہنوں کی آمد، سب بہت خوش تھے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا 25 مئی 2020 بروز پیر 3:40 اچانک ہی ایک عجیب سی سفر کی تیاریاں شروع ہوگئی ۔ گاڑیوں کا انتظام کرلیا گیا۔۔ دو بڑی بڑی گاڑیاں آئیں۔ ایک بہت خاص سی گاڑی جو جس بھی راستے سے گزرتی ہے سب احترام سے راستہ دیتے ہیں۔اس خاص سی گاڑی میں آج پورے خاندان کی لاڈلی اور دنیا کی معزز خاتون رخصتی کے انداز میں شوہر، بیٹے اور بھانجوں کے ساتھ روانہ ہوئی۔ دوسری گاڑی میں میری تین بہنیں، چچا، چچیاں اور خالہ زاد اور بھی بہت سے لوگ سوار ہوئے۔ 5بجے ہم سب پشاور سے روانہ ہوئے ۔ ہر طرف دیکھتے ہوئے مجھے ایک حسین چہرہ نظر آرہاتھا کبھی باتیں کرتے ہوئے کبھی چلتے ہوئے، پر کچھ سمجھ نہیں آریا تھا۔ ہاتھ میں موبائل پر نظر پڑی تو واٹس ایپ آن تھی سٹیٹس لگا کر موبائل آف کر کے چچی کے حوالے کردیا۔ اس وقت گاڑی پشاور کے حدود سے نکل کر جی ٹی روڈ پر تیز دوڑ رہی تھی ۔ شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے اس خاص سی گاڑی پر نظر پڑی تو گاڑی میں موجود ایک خوب صورت شادی شدہ جوڑے کی بچپن کی سنی ہوئی کہانی ذہن میں گھومنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ کیسے پیدائش سے پہلے ہی رشتہ ہوا ایک ہی دن پیدائش ہونے کے ساتھ ہی رشتہ پکا ہوا۔بلکل کیونکہ یہ لڑکا تھا لڑکی کا ماموں زاد۔ لڑکا چھوٹے ماموں کا سب سے بڑا بیٹا تھا جب کہ لڑکی پورے خاندان 3 ماؤں 11بہنوں 4بھائیوں اور بوڑھے باپ کی چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی۔ والد محترم انکو پیار سے مرغئی (پشتو لفظ مطلب: چھوٹی نازک سی چڑیا) کہتے تھے ۔۔ پر جلد ہی وہ اپنی اس 4سالہ لاڈلی کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے پر انکا دیا نام اسکی عمر بھر کی پہچان بن گیا۔ابھی تک کوئی انکے حقیقی نام سے واقف نہیں۔۔
مرغئی کے حسن کا دور دور تک چرچا تھا- بہت سے لوگ ان کی اعلی نسب،اعلی اخلاق اور کمال کی حسن سے مرغوب تھے چونکہ وہ پیدائش سے پہلے ہی ماموں زاد سے منسوب تھی تو جب انکا ہم عمر ماموں زاد8جماعت پڑھ چکا تو انکی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی۔ ماموں کے خاندان کی غربت اور مفلسی کا یہ عالم تھا کہ پورا دن گھروں میں کام کر کے صرف روٹی کھانے کو مل جاتی تھی۔ انہی حالات میں یہ لاڈلی بیاہ کر ماموں کے گھر آئی- ماموں نے جو ابھی ابھی دوسری شادی کی تھی- اس نے آتے ہی ان کے نومولود بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی- کیونکہ ماموں صبح اپنی دونوں بیویوں کو لے کر کھیتی باڑی کرنے چلےجاتے۔یا گھروں میں کام کرنے چلی جاتی تو انکے غیر موجودگی میں گھر اوربچوں کی پوری زمہ داری آپ نے بخوبی نبھائی۔۔۔
شادی کے وقت نویں جماعت میں پڑھنے والا یہ نوجوان دسویں پاس کرتے ہی 1000روپے کے معاوضے پر گورنمنٹ ٹیچر لگ گیا تو یہ ہم عمر جوڑی والدین بھی بن چکے تھے۔
یہ کہانی ہے اس عظیم ماں ، بہن ، بیٹی ، بہو اور بھابی کی جس نے8 بیٹیوں4 بیٹوں کو جنم دیا اور اپنےزندہ 10 اولادوں کے پرورش کے ساتھ ساتھ8 دیوروں5 نندوں کی بھی ماں جیسی پرورش کی- کسی کی رضاعی ماں بن کر تو کسی کی بھابھی بن کر۔
آج کے زمانے میں شاید یہ دنیا کی وہ واحد خاتون ہے جس نے سوتیلے بہن بھائی ، ماں ساس، دیور نند وغیرہ کے دلوں سے سوتیلا پن ختم کر کہ سگے سوتیلے کے امتیازات کی جگہ احساس محبت ڈال دیا- اسی لئے تو آج ان دونوں خاندانوں میں بڑوں سے لے کر بچوں تک کوئی سگے سوتیلے ہونے کی احساس سے ہی واقف نہیں- اسکے زیر سایہ پروان چڑھنے والے دو قالب ایک جان کے مانند بہن بھائیوں کو آج بھی دنیا والے رشک کے نگاہ سے دیکھتےہیں۔
ایسا نہ تھا کہ۔۔۔۔۔
اس عظیم خاتون نے سوتیلا پن کبھی خود نہیں دیکھا بلکہ برادران یوسف کیطرح سوتیلے بھائی دیکھے تھے جو بچپن میں یتیم ہونے والے ان بچوں کو سوتیلے بھائیوں نے جائیداد کے خاطر مارنے پر تلے تھے، دریامیں پھینکنے جیسے ہزاروں سازشوں کو اس نے اپنے آنکھوں سے ناکام ہوتے دیکھا تھا، اپنی ماں کو ان کی حفاظت کیلئے بندوق اٹھائے پوری پوری رات دروازے کے سامنے کھڑی دیکھا تھا۔۔۔۔
پھر بڑی ہوکر اس نے وہ سب بھلا کر سب کو اتنا پیار دیا کہ ملک اشرف الدین کی ایک بڑی جاگیر کی وارث ہوتے ہوئے اپنی ساری جائیداد انہیں بھائیوں کے نام کردی۔ یہی وہ انداز محبت تھا کہ کہ وہ چٹانوں کیطرح دل رکھنے والے بھی موم بن گئے تھے اور سال بھر گرمیوں کے چھٹیوں کے انتظار میں ہوتے یا سردیوں کے برف باری کے انتظار میں کب چھٹیاں ہونگی اور ہم مل پائیں گے۔۔۔
وہی قتل کے منصو بے بنانے والے بھائیوں کو میں نے اپاہج حالت میں فرط محبت سےچيختے چلاتے دوڑتے اور روتے ہوئے اس کے استقبال میں گھروں سے نکلتے دیکھا۔
مختصراً یہ کہ دنیا میں ایسی کوئی فرد تھا ہی نہیں جن سے آپ کو کوئی گلہ شکوہ ہو صرف پیار بانٹنے والی اور پیار سمیٹنے والی تھی کیونکہ بقول انکے۔۔۔
"یہ دنیا کی زندگی تو محبت کیلئے کم ہے پتا نہیں لوگوں کو نفرت کیلئے وقت کہاں سے ملتا ہے."
چالیس سال کے عمر میں بیٹیوں اور نندوں کی شادی کی ذمے داریوں سے فارغ ہوکر رہ جانے والی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی اچھی دینی اور دنیاوی تعلیم اور ديور( رضاعی بیٹا) کے میڈیسن کاروبار کیلئے گاؤں میں اپنے ہاتھوں سے آباد کئے گھر کو خیرآباد کہہ دیا-
سن2011 میں پشاور شفٹ ہوکر مجھے کلاس 5 میں، دوسری بیٹی کو کلا س3 میں اور بیٹے کو کلاس 1 میں داخلہ دلاکر ساتھ میں دینی تعلیم کیلئے مدرسہ اور مسجد کی راہ بھی دیکھائی- ہم سے پہلے بہنوں کی بھی اسلامی تعلیم وتربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی- تقریبا سب بہنوں نے ناظرہ ترجمہ تفسیر پڑھا تھا - ترجمہ قرآن پر باقاعدہ تقریب کا انعقاد بھی کیا جاتا،پھر جب تک اپنا پرائیویٹ سکول سیب چلڈرن اکیڈمی قائم تھا بچیوں کو دنیاوی تعلیم بھی دیتے رہے پھرسب گاؤں والوں کو فری داخلوں اور ٹیچرز کو ہائی پے وغیرہ جیسے مختلف وجوہات کے بنا پر سکول کو بڑے خسارے سے دو چار کرکہ ختم کردیا گیا۔ابتدائی کچھ کلاسسز پڑھنے کے بعد سب بچیوں کی دینی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مجھے تو یاد بھی نہیں کہ جانے کب اور کس عمر میں مجھے ناظرہ قرآن پڑھایا گیا تھا مجھے تو اتنا یاد ہے کہ میں کلاس3 سے ہی ترجمہ قرآن پڑھ رہی ہوں, پشاور شفٹ ہوتے ہی مجھے پانچویں پار ے سے ترجمہ پڑھنے کیلئےمدرسہ میں بٹھایا گیا - خود شادی کے بعد ناظرہ قرآں پڑھنے والی کا دین سے محبت کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہے کہ جب بھی کبھی کہی درس قرآن یا فہم قرآن کلاس کا سنتی، تو پورے محلے میں دعوت چلا کر 25،30 کو لے کر وہاں حاضر ہو جاتی یا خود خواتین اور باجی کو بلا کر گھر پر درس رکھواتی نظرآتی-
پشاور شہر شفٹ ہوتے ہی گاؤں میں موجود اپنی بکریاں، بھینسیں وغیرہ بیچ کر عمرہ پر جانے کی تیاریاں شروع کر دی- انہی دنوں اپنے نظروں کے سامنے اپنی اس ماں کی اچانک موت دیکھی جو ان کے عمرے پر جانے کے بعد بچوں کی حفاظت کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کیلئے پشاور آئی تھی، غموں اور پریشانی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے والی خاتون کا اس صدمے نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی- بچپن میں یتیمی کا غم ،جوانی اور شادی کے بعد فقر فاقوں کیساتھ ساتھ بیٹے نا ہونے اور زیادہ بیٹیاں ہونےپر زمانے کی طعنے، شادی شدہ بیٹیوں پر سسرالیوں کے ظلم وستم وغیرہ ایسے بہت سے غموں کو گلے لگانے والی آج ماں کی جدائی کے صدمے سے ذیابیطیس( شوگر) کی مریضہ بن گئی۔
پشاور میں یہ پہلا سال بہت سی مشکلات سے دوچار گزرا۔ شوہر کا پشاور ٹرانسفر نا ہونا، عالم میڈیسن کمپنی کے آغازمیں ہی دیور کا ڈاکوؤں سے واسطے پڑنے کے بعد پشاور سے دل اچاٹ ہونا، عید کے دن بھی کرائے کے گھر تبدیل کرتے رہنا- ایسے بہت سے مشکلات کے بعد مشکل کشا رب نے رحمت نظر کر ہی دیا۔۔
انجنیئر دیور کو ذریعہ بنا کر الله نے پشاور میں اپنے ایک خوبصورت 6 کمرہ مکان سے نوازا. جس میں ہنسی خوشی رضاعی بیٹے ( دیور) اور اسکی نئی نویلی دلہن کےساتھ زندگی گزارنے لگی۔
ان کی پوری زندگی کے اہم پہلوؤں پر بھی اگرایک ایک پیرا گراف لکھنا شروع کیا توشاید میری پوری زندگی میں بھی یہ تحریرمکمل نہ ہو سکے کیونکہ ماں کی ہستی ہے ہی ایسی جس پر جتنا لکھا جائے کم ہی لگتا ہے۔۔۔
تو اب آتے ہے مئی2020 کی طرف
مئی کا مہینہ ہماری زندگیوں میں ہمیشہ سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ کیونکہ یہی وہ مہینہ تھا جس کا ہم بچین سے سال بھر بہت بےصبری سے انتظار کرتے اور اسی مہینہ میں ہماری ننھال جا کر چھٹیاں گزارنے کی تیاریاں شروع ہو جاتی۔۔۔
ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ماں میری تیسری نمبر والی شادی شدہ بہن کے ساتھ مل کر عید اور دو تین مہینے کی اس لمبے Trip کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ کیونکہ اس بار ہم نے اپنے ددھیال نوشہرہ اور بابا کے ددھیال بہرین مدین سے ہوتے ہوئے اپنے ننھیال اپردیر جانا تھا- ہم سب کیلئے تین تین ، چار چار جوڑے بنوائے۔ اسی طرح شادی شدہ بیٹیوں اور نواسیوں کی بھی فکر کرتی رہی چھ بیٹیوں کی کم عمری میں ہی غریب تر مزدوروں کیساتھ شادی کروا دی گئی تھی۔ تو بس ان کے اخراجات بھی یہ مڈل سکول ٹیچر کی بیوی اپنے گھر سے پورے کرنے کی کوشش کرتی۔ پچاس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے 30+ بچوں کی نانی اور 2بچوں کی پرنانی بنے کے باوجود کھبی کسی کے لئے کپڑے بنواتی، تو کھبی کسی کےلئے افطاری کرنے کے پیسے بھجواتی،کبھی کسی کی غربت دور کرنے کیلئے ان کے شوہروں کو اپنی جمع پونجھی سے باہر کا ویزہ کرواتی- تو کبھی کسی پرانےکھنڈر میں غربت کی زندگی گزارنے والی بیٹی کے لئے اپنے سونے کے پیسوں سے مکان بنواتی- اب بھی ماں نے اس بیٹی کے بچوں اور شوہر سمیت نئے تعمیر کرواۓ گئے گھر کی بھی ساری خریداری خود کی اور 15رمضا ن مبارک کو ان کو اپنے شوہر کے ساتھ رخصت کروا دیا-آج بھی میری ساری شادی شدہ بہنیں مستحقین زکوٰۃ صدقہ و خیرات ہے پھر سر چھپانے اور عزت اور سکون سے رہنے کیلئے وہ اپنے کچے پکے چھوٹے بڑے مکانوں کی مالکن صرف اللہ کے فضل اور اس ماں کی قربانیوں سے بنی۔
چھوٹا لاڈلہ بھائی جو کرونا کیوجہ سے کلاس نہم کے پیپر کو خیر آباد کہہ چکا تھا- رمضا ن میں ہی اکیلے ننھیال جانے کے لیے بضد تھا پھر بابا نے جانے کیلیے ختم ترجمہ و تفسیر القرآن جو آخری مراحل میں تھی کو مکمل کرنے کی شرط رکھ دی - کچھ ہی دنوں اس لاڈلے بیٹے نے ختم ترجمہ و تفسیر قرآن کرکے جانے کی ٹکٹ کنفرم کردی- ماں نے اپنے ہاتھوں سے چکن اور چاول بنائے اور پورے محلے میں تقسیم کر کے کہنے لگی انشاءاللہ عید کے بعد شادی ہال میں بڑی تقریب رکھ کر خوشیاں مناؤں گی- کیا پتا اسکی شادی تک شاید پھر میں زندہ ہی نہ رہوں۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہونے والا تھا- گھر میں بلا کی خاموشی تھی بہن بھانجے بھانجیوں کا شور،گھر کی جان بھائی کی شرارتیں کچھ بھی نہیں تھا سوائے ہم دو بہنوں اور ماں بابا کے-
آخری عشرے میں میں نے اعتکاف میں بھی بیٹھنے کی خواہش ظاہر کی تو ماں نے خوشی خوشی اجازت دے دی- دوسرے فلور پر میں معتکف ہوئ تو ماں روز آکر گھنٹوں میرے ساتھ بیٹھتی، تلاو ت کے بعد مجھ سے خود کو دم کرواتی اپنی افطاری کیلئے پانی دم کرواتی- افطاری کے بعد میرا کم کھایا کھانا دیکھ کر مجھے کچھ بتائے بغیر جاکر میرا پسندیدہ کچھ نیا بنا کر لاتی- طبعیت خرابی کے بہانے پر ڈاکٹر بن کر ہر بیماری کی دوائیاں کھلاتی- جب 27 رمضان المبارک کو چچی کی ماں کے اچانک موت اور ہماری ہم عمر دو بہنوں کا اکیلے گھر میں رہ جانے کا سنا تو ہم سب کی جیسے نیندیں ہی اڑگئی۔ وہاں سے آنے کے بعد تھوڑی سی طبعیت ناسازی کیساتھ ماں بھی خاموش رہنے لگی تھی-
اب مجھے اعتکاف میں بھی سکون میسر نہ تھا- اٹھتے بیٹھتے لیٹتے صرف موت ہی ڈرا رہی تھی کبھی خواب میں اپنوں کو مرتے دیکھنا تو کبھی خیالوں میں اپنوں کو کھونے کا ڈر۔۔۔
ماں کاخود بھی تو زندگی سے بھروسہ اٹھ چکا تھا ۔ پر مجھے بے اختیار روتے دیکھ کر پیار سے گلے لگا کر تسلیاں دیتی یہ شیطانی خواب ہے ہم سب ٹھیک ہے- جب میں نے ماں سے معافی مانگی کہ ماں میں آپ کی اچھی بیٹیوں کیطرح خدمت نہیں کر پائی( میری زندگی صبح کالج، دوپہر 6بجےمدرسے فری ہو کر آنلائن کورسز کرنا اور کروانا) مجھے اپنے بانہوں میں چھپا کرکہنے لگی "اوہ پگلی تم نےجو کچھ مجھےدیا ہےوہ کسی اورنے کہاں دیاہے- اللہ تعالی مجھے تمھاری وجہ سے جنت میں اپنے ہاتھوں سے تاج پہنائے گا- اس سے بڑھ کر میرے لئے اور کیا ہوسکتا ہے--اور بیٹا تم مجھے معاف کرنا میں نے تمھیں ڈانٹا ہے تم پر غصے کئے ہے - بھلا بیٹیاں بھی ماں کو کچھ کہہ سکتی ہے-بھلا ماں کو کھبی اپنے بچوں سے کوئی گلہ ہوسکتاہے پگلی ۔ماں کا انداز
محبت تو دیکھے۔۔
کتنا سکون تھانا اس ماں کے بانہوں میں جو میری کئ دنوں کی بےچینی کو ساتھ روتے ہوئے اپنے اندر جذب کررہی تھی-
اعتکاف میں ہوتے ہوئے بھی میری دعائیں محدود ہو کر رہ گئی تھی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ میں اس رات کی تاريکیوں میں اس رب سے اپنی ماں کی خیروعافیت کی لمبی زندگی کے علاوہ اور کیا مانگو۔۔۔
اٹھتے بھیٹتے سوتے جا گتے میں صرف ماں کی خیروعافیت کی لمبی زندگی مانگتی رہی۔پر زندگی کتنی لمبی ہوسکتی ہے میری ماں تو اپنی زندگی کے50سال جی چکی۔ زیادہ سے زیادہ اور کتنے سال رہ گئے ہونگےجب یہ سوچ و خیالات ڈرا دیتے تو ماں سے پہلے یا ماں کے ساتھ ہی اپنی موت کی تمنا کرنے لگ جاتی- یا الہی مجھے ماں کی جدائی کا غم سے بچانا۔
بس یہی ماں کی لمبی زندگی کی ایک دعا اور ماں کیساتھ جینے مرنے ایک تمنا میرے پورے اعتکاف کا حاصل تھا- پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظو ر تھا- ماں نے کل کی عید کی تیاری میں پورے گھر کی صفائی اکیلے کرتے ہی پھولتے سانسوں کیساتھ دوسرے فلور پر میرے پاس آکر کہنے لگی بیٹا 30روزے مکمل- کل عید ہے بس اعتکاف ختم ہوا۔ روزہ کھول کر نیچے آجانا افطاری ساتھ میں کرینگے- انشاءاللہ
آخری افطار ی کا انتظام تو چاچو (رضاعی بھائی) نے دوسرے فلور پر ہی اپنے طرف سے کیا- پر سب سے مبارکبادی لیتی ہوئی جب میں نیچے آئی تو بابا نے ہار کے پیسےپیش کرتے ہوئے استقبال کیا اور ماں بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر بٹوہ ٹٹولتے ہوئے میری طرف آرہی تھی- زندگی میں شاید یہ پہلی بار تھا جب میں نے ماں کابٹوہ بلکل خالی دیکھا کیونکہ کئی خاندانوں کی اخراجات انچارج ہونے کی وجہ سے بٹو ے میں کچھ نا کچھ ضرور ہوتا تھا- جب میں نے آگےبڑھ کر آخری بار ماں کو گلے لگانا چاہا تو ان کے خالی بٹوہ کے ساتھ شرمندہ ہو کر یہ کہنا میرے پاس تو آپ کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے بیٹا- میں نے نم آنکھوں سے مبارکبادی کے وہ 15،16 سو روپے ماں کے خالی بٹوے میں رکھ کر ماں کو کس کر گلے لگالیا -
اور کہنےلگی ماں جب تک آپ میرے پاس تو مجھے اور کسی چیز کی ضرورت اور چاہت نہیں- پر آپ کھبی ہمیں اکیلا مت چھوڑنا- اتنی دیر تک گلے لگایا کہ چھوٹی بہن نے یہ کہتے ہوئے زبردستی کھیچ کر ماں سےالگ کردیا کہ بس کرو اب ہم سے بھی تھوڑا مل لو-
ما ں سے پیار کیلئے پوری زندگی پڑی ہے ایک ساتھ سارا پیار لٹانے کی ضرورت نہیں-
عید کی صبح بابا اور میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھے- ماں دادی کیساتھ ہال میں بیٹھ کرہمیں دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی- ک باپ بیٹی سے ایک ناشتہ نہیں بنایا جا رہا- میں بہت عرصے بعد جو کی روٹی بنانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی- یہ زندگی میں شاید پہلی بار تھا- جب ماں مجھے الٹ پلٹ کام کرتے دیکھ کر میرے ہاتھ سے کام لینے کے بجائے میرے پاس آکر مجھے صرف طریقہ بتانے لگی- میرے دل میں یہ بات شدد سے کھٹک رہی تھی کہ آج ماں کو کیا ہوگیا- کہ یہ میرے ہاتھ سے نہیں لے ر ہی- پر مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ مجھے اپنے بغیر جینا سیکھا رہی ہے مجھ سے چھوٹی بہن تو گھر داری میں ماہر تھی- کیونکہ وہ امی کی لاڈلی ہمیشہ امی کیساتھ کمزور صحت، بیماریوں کے بہانے سے ہمیشہ گھر پر رہنے والی تھی
اورمیں بابا کی لاڈلی ان کے نقش قدم پر چلنے والی تحاریک کی سرگرم کارکن ہو نے کیساتھ باقاعدگی سے کالج اور مدرسے جانے والی تھی، اسکے ساتھ ساتھ ماں کی وہ واحد بیٹی بھی تھی جو ہر تقریب ، سیروسیاحت غرض ہراس جگہ بھی ماں کے ساتھ پائی جاتی- جہاں ماں کیسا تھ کوئی اور نہیں ہوتا- آج پور۱ دن چھوٹی بہن کی بیماری کے بہانے سےماں مجھے انگلی سے ایک ایک کام دیکھا کر کروارہی تھی- ہمیں نئے کپڑے پہنے کی ترغیب دیتے ہوئے خود بھی کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑی-
عید کے دوسرےدن دو بہنوں آمد پر سب بہت خوش تھے ۔ پر ماں خوش ہونے کے ساتھ گھبرائی ہوئی بھی تھی کیونکہ آج ان کی دل کی کیفیت نارمل نہیں تھی- کہنے لگی تھکن کے احساس نے دل کو حاوی کردیا ہے- میرے پوچھنے پر بتایا ک رمضان میں تو شوگر معدے وغیرہ کی دوائیوں میں دل کی دوا لینا بھول ہی گئی- یاد رہے ایک سال پہلے رات2 بجے ہرٹ اٹیک انے پر ڈاکٹرز نے دوائیوں کیساتھ 6 ماہ میں آپریشن کرنا کا بھی کہا تھا پھر بقول ماں یہ پہلےسےکئےگئے2 آپریشنز( بیٹے کی پیدائش، پتے کا آپریش) کافی ہے- اب یہ بچی کچی زندگی صحیح سلامت گزار نا چاہتی ہو-بہرحال میں نے دوائی دی بابا نے پانی۔
پہلے دن کی طرح آج بھی مجھے نصیحتوں کیسا تھ کام سمجھا کر بتا رہی تھی بیٹا آستیں اوپر کر کے اپنے گھر کو سنبھالنے کیلئے کھڑی ہوجاؤں- بہنیں تو آرہی ہے پھر ان سے توقعات مت لگانا کیونکہ وہ پرائے گھر کی ہیں -تم نے خود اپنے اس گھر کو معذور بھائی کیساتھ چھوٹے بہن بھائی کو بھی سنبالنا ہے- اب یہ سب آپ کی ذمہ داری ہے۔
ویسے تو ماں نے خود عید کے لئے گھر کے سارے کام ختم کئے تھے۔ پرمجھ سے صرف عید کے دن والے اس ایک جوڑےکو مشین میں دھونے کا کہا- میں دھونے لگی تو واش روم میں آکر خود جائزہ لینے لگی اور کچھ غلطیوں کی اصلاح کر کے خود جاکر سامنے چارپائی پر بیٹھ کر آڑو کھانے لگی- اتنے میں 2 بج گئے- بہن اور بھائی دیر سے گھر پہنچ گئے کھانا لگوایا گیا- ماں کیلئے میں نے جو کی روٹی بنائی تھی بہن نے سالن ہم سب نے مل کر کھانا کھایا-
3 بجتے ہی صوابی والی بہن بھی آپہنچی- ماں نے مجھ سے بہن کا برقعہ اتروانے اور جیجو کیلئے چائے بنانے کا کہا تو بہن نے حاضر ہو کر cold Drink بھیج دینے کا بتادیا، اتنے میں ڈاکٹر کزن بھی آیا جن کو بابا نے کال کر کہ خالہ کی طبیعت ناسازی کا بتایا تھا- ماں نے بھانجے کو دیکھا تو کہنے لگی ولی بیٹا میں تو اب ٹھیک ہو اس میری چھوٹی کیلئے کچھ لکھ کر دو یہ بہت بیمار ہے- وہ غصہ ہوکر کہنے لگا یہ جوان ہے اپنی فکر کرو-
یہ موت سے چند منٹ پہلے کی گفتگو ہے - ماں کا پیار تو دیکھے موت کے فرشتے کو دیکھ کر بھی بیٹی کی بیماری فکر کررہی ہے اور ہم سب سے معافیاں مانگ رہی- کزن بیماری سمجھتے ہی کچھ کہے بغیر بابا کو ہاتھ سے پکڑ کر یہ کہتے ہوئے باہر لے گئے کہ آپکے داماد سے مل کر آتے ہیں۔ ہم چاروں بہنوں ماں نے مل کر خوب مجلس لگائی- امی بہنوں سے کہنے لگی، آپ دونوں نے اچھا کیا کہ اب پشاور آئی- یہ چھوٹی بیمار ہے اورمیری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی یہ تو پاگل ہے یہ دونوں مجھے ، کہاں سنھبال سکتی ہیں۔ آپ دونوں میری یہ آخری خدمت بھی کرلیں گی اور اگر بعد میں آتی تو مجھے تو دیکھ لیتی پر شاید میں آپ کی دیدار نہیں کر پاتی- بہن نے کہا ماں آپ حکم تو کریں ابھی آپ کی ساری بیٹیاں یہاں حاضر کروادوں گی-
نہیں بیٹا سب کو ابھی رخصت کروایا ہے آپ دونوں سےسال بھر نہیں ملی تھی- چوتھی اور پانچویں نمبر یہ دونوں بیٹیاں ماں کی بہت قریب اور رازدار ہونے کیساتھ ساتھ بڑے بڑے فیصلوں پر مشورے اور تجاویز پیش کرنے والی قابل ترین بیٹیاں تھی- جب ماں پیارومحبت کی یہ آخری مجلس برخاست کر کے وضو کیلئے واش روم چلی گئی- تو بہن کا برقعہ اتروا کر میں اسکے گلے لگ کر رونے لگی - کہ یہ ماں کیسے باتیں کرنے لگی ہے- ان کو کیا ہوگیا ہے- , پتا نہیں ماں کو کیا ہوگیا ہے ہم سب بہنیں ابھی ان دو حروف •آخری خدمت• اور طبعیت ناسازی کیوجہ سے رو رہیں تھیں ۔۔۔
ہمیں کیا پتا تھا کہ ماں ابھی دو منٹس میں ان دو لفظوں کی عملی تصویر پیش کرنے کیلئے یہاں سے اٹھی- امی فارغ 'ہو کر نکلی توکمرے کے بجائے ہال میں بیٹھنے کو ترجیح دی- ہال میں زمین پر بنے ہوئے تخت نما جگہ پر پڑے تکیہ کو ٹیک لگا کر بیٹھ گئی - ہم سب اپنا رونا چھپانے کیلئے منہ ہاتھ دھو کر ماں کے پاس باہر آئیں۔ تو ماں نے ایک بہن سے پنکھا آن کرنے کا کہا، تو دوسری بہن نے ماں کو پانی کی کٹوری پکڑائی ماں نے پانی پیتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور خود کٹوری بیٹی کو پکڑائی- جب وہ کٹوری رکھنے کیلئے کچن کیطرف پلٹی ہی تھی کہ ماں کے سرہانےبیٹھی دوسری بیٹی نے کلمہ شہادت شروع کردیا- ہم سب حیران و پریشان کھڑے اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے کی صدائیں لگا رہے تھے-پھر حکم الہی تو اٹل ہوتا ہے نا ورنہ ماں کو کھوتے دیکھ کر جس شدت سے ہم دعائیں مانگ رہے تھے قبول نہ ہونے کا تو جواز ہی پیدا نہیں ہوتا- چھوٹی بہن نے بھاگ کر بابا اور ڈاکٹر کزن کو بلایا جو ایمبولنس منگوا کر ماں کو ECGکیلئے Hospital منتقل کرنے کے مشورے کیلئے چند منٹ پہلے ہی جیجو سے ملنے کے بہانے حجرہ گئے ہوئے تھے- جب کزن آگے بڑھ کر ان کے سراہنے پہنچا تو وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کر کہ ابدی نیند سوگئی-
3:40pm یہ وقت تھا تقریبا
جب ہم سب کی دنیا اجڑ گئی-کزن Heart Pumping کی ناکام کوشش میں لگا تھا بابا کزن کو اسکے ہمیں چھوڑ کر جانے کا یقین دلا کر نہ چھیڑنے کا کہہ رہے تھے میں بابا کا گریباں پکڑ کر ایمبولنس منگوانے اور ماں کو Hospital لے جانے کا کہہ رہی تھی۔
بابا۔۔۔۔
میں ہوش کھو بیٹھی۔
ماں نہیں مر سکتی۔۔۔
وہ تو ٹھیک تھی نا۔۔۔۔
بابا اور بڑی بہن محلے والوں کو ماں کی رخصتی کا پیغام بجھوا رہے تھے۔ ہم سب سے چھوٹا بھائی ماں کا لاڈالا بہنوں کو کال کر کے ماں کی وفات کی خبر سنا رہا تھا- چھوٹی بہن وہ تو شاید پاگل ہو گئی تھی- اسکی حالت بیان کرنے سے قاصر ہو پھر اتنا یاد ہے کہ وہ ماں کے بنائے گئے نئے کپڑوں جن کو ابھی پہنا بھی نہیں گیا تھا کو نکال کر ماں کے چارپائی کے اردگرد گھوم رہی تھی- اور کچھ کہہ رہی تھی- ماں نہیں مر سکتی کبھی نہیں مر سکتی یہ خواب ہے بتاؤ نا ماں ان سب کو یہ کیوں آرہے ہیں آپ نے ابھی یہ کپڑے پہن کر ہمارے ساتھ عید منانے گاؤں جانا تھا نا بتاونا ماں- ماں کی جدائی کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
"مختصراً پشاور کے تمام رشتہ داروں نے جمع ہوکر گاؤں جانے کے لئے دو گاڑیوں اور ایمبولنس کا انتظام کروایا- ہم سب کو گاڑیوں میں بٹھا کر 5 بجے ددھیال روانہ کیا گیا- دنیا وما فیھا سے بےخبر سا کت ذہن وجود کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ہاتھ پکڑے موبائل پر نظر پڑی تو تقریبا سینکڑوں کالز آئے تھے خالہ ماموں بہنوں اور ناظمہ مقام کی ، موبائل سے کچھ دیر پہلے میں نےدو خاص بندوں کو کال کیا تھا ایک خالہ جان اور دوسری اپنی جمعیت کی ناظمہ مقام کو جن کو شاید روتے ہوئے میں ماں سے بچھڑنے کی خبر صحیح سے نہیں سنا پائی تھی- خالہ جان کو تو اس کے ناکام ڈاکٹر بیٹے کے موجودگی میں ماں کو کھونے کاخبر دیا تھا پھر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ٹھیک ٹھاک خالہ جان بھی ماں کے غم میں 15، 17 دن ان کے پاس ہی جانے والی ہے- سب کے اتنے کالز دیکھ کر اًن دیکھے کر ديئے ہمت نہیں رہی تھی کسی سےبات کرنے کی سب کچھ ہار چکی،ناظمہ مقام کیلئے ماں کی وفات اور فاتحہ خوانی کی درخواست کا سٹیٹس لگا کر موبائل بند کر کے خالہ زاد + چچی کے حوالے کردیا- گاؤں تک ہم کب اور کیسے پہنچے کچھ پتا نہیں-
رات 12بجے تک ہم 8 بہنیں اور بھائی سب ماں کے سرہانے حاضر تھے۔ نوحہ خوانی اور سینہ کوبی حرام ہونے کیوجہ سے سب بچنے کی کوشش میں اپنے اپنے انداز سے غم کا اظہار کر رہے تھے,کوئی بے ہوشی کے عالم میں تھا تو کوئی ماں سے پیارومحبت کی باتیں کرنے میں ،تو کوئی شکوہ شکایت کرنے میں، کوئی دعائیں دینے اور کوئی صبر کی تلقین کرنے میں مشغول تھا- پوری رات ماں کے سرہانے بیٹھ کر بے یقینی کے عالم میں خوابوں کی طرح ایک خواب سمجھ کر میں نے صرف دعائیں اور دیدار کیا اور اس رات کی ہمیشہ کیلئے رُک جانے والی تمنائیں کی جو شاید سبھی کر رہے تھے-
مگر وہ رات رک کے نام نہیں لے رہی تھی بلکہ تیزی سے دوڑ رہی تھی۔
سات بجنے میں اور نماز جنازہ میں ابھی ا گھنٹہ رہ گیا تھا کہ ننھیال سے ملک اشرف الدین کی چھوٹی لاڈلی بیٹی مرغی کو رخصت کرانے کرونا کی سنگین صورتحال اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے باوجودخاص اور مخصوص افراد کی بڑی بڑی دوگاڑیاں آپہنچی- خالہ جان نے آتے ہی اپنی ہاتھوں میں بڑی کرنے والی چھوٹی بہن کے غسل و کفن کا انتظام کر کہ خود اپنے ہاتھوں سےتیار کیا-
جیسے جیسے رخصتی کا وقت قریب آتا گیا- سب کی حالت غیر ہونے لگی- اب جب دنیا و مافیہا سے بےخبر 26سالہ معذور بیٹے کو ماں کے پاس صرف اس عرض کے لیے لایا گیا کہ کل یہ ماں کے ہاتھ کے بغیر کھانا .نہلانا وغیرہ accept کریں تو اس کے شدت غم آنسوؤں سے بھری آنکھیں اور دونوں ہاتھ منہ میں دبا کر عرش کو ہلا نے والی چیخ نے الوداع پر موجود سب لوگوں کو چیخ جیخ کر رونے پر مجبور کردیا-
زبردستی ماں سے دورکر کے جب منہ سے ہاتھ چھڑا کر دیکھے گئے تو باعث شد ت غم دانت اور انگلیاں خون سے لت پت تھی- اگر دنیا سے بےخبر اچھے برے کا پہچان نہ کرنے والے کا ماں سے پچھڑنے پر غم کا یہ عالم ہے تو ان 8 بیٹیوں اور لاڈلے بیٹے کے غم کا کیا عالم ہوگا- جو ہر چیز نماز جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ اس سے پہلے کرونا کے پہلے لہر کے اس سنگین صورتحال میں جب ارب پتیو کے جنازوں پر باعث ممنوعت نہ دیکھا گیا تھا- کئی دن تک میں بے ہوشی کی عالم میں رہی اگر جاگتی بھی تو بہنیں میری تکلیف دیکھ کر نشہ آور دوائیوں سے پھر سلا دیتی- ساتویں دن ماں کے کپڑوں وغیرہ لینے کیلئے سگی اکلوتی خالہ جان اور دو بہنوں کے ساتھ پشاور آئی۔ بابا اساتذہ پشاور کا صدر تھے ساتذہ کو گاؤں آنے کی زحمت سے بچانے کے لئے تو چند دن بعد ہی اور فیملی کو بھی لے کر پشاور آئے- روزانہ سیکڑوں لوگ تعزیت کیلیے ایسے بھی جن کو ہم تو نہیں جانتے تھے پھر وہ ماں کو جانتے تھے کسی کے ساتھ دروس ملی تھی تو کسی کے ساتھ Hospital میں- خالہ جان سب کو ماں کی بچپن کی کہانی سناتی اور کہتے مرنے کی عمر میری تھی اور داغ رفاقت یہ دے گئی یہ میرے ہاتھوں میں پلی بڑی میری بہن کم بیٹی زیادہ تھی۔ اس گھر کو دیکھ کر ہر جگہ وہ اٹھتی بھٹتی میری خدمت کرتے نظر آتی ہے- ماں کے جانے کے تقریبا 10دن بعد خالہ جان کی طبعیت ناساز ہوئی اسی ڈاکٹر بیٹے نے علاج معالجہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن موت کا کوئی علاج نہیں - تقریبا 17 دن بعد پیغام اجل پرلبیک کہتی ہوئی اپنی بہن سےجاملی-اور اپر دیر کے اپنے آبائی مقبرے میں مدفون ہوئیں غم کے اوپر اس غم نے ہمیں اور بھی نڈھال کردیا تھا- جب اللہ اگر اپنی ایک نعمت اٹھاتا ہے تو اسکے بدلے ہزاروں اور عطا کرتا ہے، سب کی دلوں میں ہمارے لئے محبتیں ڈال دی,سب اپنے بچوں کیطرح پیار کرنے لگے-بابا کو اللہ نے پیسوں سے مالامال کردیا-سب بہنیں وغیرہ خالہ کے بعداپنے گھروں کو رخصت ہوگئیں۔ ہم دیر میں چھوٹے ماموں کے ہاں مقیم ہوئے- خالہ کا گھر نزدیک ہی تھا آتے جاتے رہتے تھےجو بہن کا سسرال بھی تھا- دیرکے دستور کے مطابق فوتگی کے بعد غمزدہ اہل وعيال کو گھروں پر مدعو کیا جاتا تھا تو اسی طرح ہم سب خالہ زاد بہنوں سمیت کئی ماہ تک مختلف دعوتوں پر جاتے رہے- یہ بھی اللہ کا ایک بہت بڑا انعام تھا- جس نے stable ہونے میں ہماری مدد کی-
ہم دونوں بہنوں کو پشاور کے اس ویران گھر سے وحشت زدہ دیکھ کر دونوں مامؤں کو ہماری سٹڈیز اور معذور بھائی کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی- ہم پشاور کے ویران گھر میں معذور بھائی کو بند کرکے خود انسٹیٹیوٹ جانے سے انکاری تھے -اور بابا ابھی تو کرونا کے سنگین صورتحال کی فکر اور اپنی محبوب زوجہ کو کھونےکے صدمے میں تھے- چھوٹے ماماموں چند ماہ بعد ان کو جنجھوڑ کر بچوں کیطرف متوجہ کرتے ہوئے دوسری شادی کروانے کا کہہ دیا- یہ اللہ کا اور بڑا انعام تھا کہ اس نے ہمیں 38 سالہ خالہ زاد بہن جیسی دوسری ماں سے نوازا- خوشی غم تو زندگی کا حصہ ہے۔ بہنوں کے گزرنے کے چند ماہ بعد بڑے ماموں کی بھی طبعیت ناساز ہوئی، اور پشاور میں 2 دن اکسيجن پر رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملے- اللہ نے ایک ماموں لیا تو بدلے میں دو عطا کردیئے- خالہ جان سے جدا کیا کو بدلے میں 6 دے دی ، نانی کھونے کے 10 سال بعد نانی کی ہم عمر خالہ کو ہماری نانی بنا دیا- چھینے ہوئے نعمتوں کے آڑ میں اللہ کی دی ہوئی اور ہزاروں نعمتوں کا ذکر نہ کرنا سراسر ناانصافی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے یہ نعمتیں ان چھیننے ہوئے نعتوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتی-
تو اب آتے ہے میرے تعارف پر ۔۔۔۔
میں ہوں بنت مرغئی( ماں کا نام اورہماری پہچان) اس حسین صابروشاکر، خدمت گزار، دیندار، سخی، نیک بخت اور بےمثل خاتون کی ساتویں بیٹی اور اب گھر کی بڑی - شاید آپ کو یہ سن کر تعجب ہو کہ ہم سب بہنیں آج بھی ماں کے نام سے جانی جاتی ہے- انسٹیٹیوٹ کے علاوہ اگر کہیں پر بھی کوئی ہمیں پہچانتا ہے یا ہمارا تعارف کرواتا ہے تو بنت مرغئی سے کرواتا-
کچھ عرصے پہلے میں اس علاقے میں گئی تھی- جہاں ماں نے شادی کے ابتدائی چند سال گزرے تھے- دور دور سے عورتیں مجھ سےصرف اسلیئے ملنے آرہی تھی ک اس بہترین اخلاق کیساتھ کمال کی حسن رکھنے والی مرغئی کی بیٹی آئی ہے- ایک ایک عورت آکر مجھے ماں کی کہانی سنا کر چلی جاتی کہتی ، ہائے وہ نازک سی پیاری سے لڑکی جس کو ٹھنڈے علاقے، دریاؤں اور درختوں کے گنے چھاؤں سے اٹھا کر یہاں گرمی میں لایا- بےچاری نے اپنے ماموں کیساتھ کتنی سختیاں جھيلی وغیرہ وغیرہ-
دنیا سے رخصت ہوتے وقت اگرچہ وہ پر نانی بن چکی تھی کیونکہ پیدائش سے پہلے ہی میں جو خالہ بن چکی تھی- مگر آج بھی اگر کوئی میری بڑی دو بہنوں کے ساتھ انہیں دیکھتا تو دونوں کی چھوٹی بہن تصور کرتے ، کیونکہ وہ تھی بھی اتنی خوبصورت اور شہر کی اس چند سالہ آرائشوں والی زندگی نے سختیوں نے بچا کر اور بھی جوان کردیا تھا- جبکہ بہنیں گاؤں ،سسرالیوں اور بچوں کی سختیوں سے دوچار تھی-یہی وجہ تھی کہ وہ ماں کی بڑی بہنیں یا ماں تصور کی جاتی تھی۔ اف اپنے تعارف میں کہاں نکل گئیں- واپس آتے ہے اپنے اور اس کہانی کی تعارف کی طرف
جی تو میں کوئی لکھاری نہیں ہوں پر بچپن میں ماں نانی دادی کی زبانی وہ اپنوں کی کہانیاں یا اپنوں کے داستان سن کر لکھاری بننے اور وہ کہانیاں لکھنے کی حواہش ضرور ظاہر کرتی۔ماں کی زبانی اسکی چھوٹی بہن پالو(پیار کا نام) کی زندگی اور موت کی لازوال داستان سن جہاں ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے تو وہی ماں کو گلے لگا کر میں یہ بھی کہتی ماں جب میں پڑھ کر لکھنے کی قابل ہو جاوں تو آپ کے پاس بیٹھ سب سے پہلے یہ داستان لکھ سب کو رلاونگی کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہی کہانیاں کامیاب ہوتی ہے جو انسان کو خوشی، غم یا کسی بھی احساس پر مجبور کردیں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ میں انکی زبانی کہانی لکھنے کے بجائے ان کی ہی کہانی لکھنے پر مجبور ہونگی کیونکہ یہ عام اوقات یا دن کے کسی حصے میں لکھی گئی کہانی نہیں ہے- بلکہ یہ میری ،میری ماں کی یاد میں ان جاگتی راتوں کی کہانی ہے - جب دنیا محو خواب ہوتی اور میں ماں کی یادیں ، آنسوؤں سے بری آنکھیں ، غم میں ڈھوبا دل لے کر لمبی لمبی اندھیری راتیں گزارنے کیلئے موبائل اٹھا کر ایک ایک لفظ ٹائپ کرتے ہوئے اپنا غم کم کرنے کی کوشش کرتی, مگر اسکے برعکس میرا غم کم ہونے کے بجائے زیادہ ہوتا- انگلیوں سے جو الفاظ لکھتی تو وہ آنکھوں سے بے ۔۔۔تحاشا آنسو جاری کر دیتے اسی طرح لکھتے روتے صبح ہو جاتی
بنت الحوا
(Marghai)بنت مرغئی

1 Comments
اللہ بہترین صبر دے.. 😭
ReplyDeleteAssalamualaikum