تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتی سچی کہانیوں پر مبنی تحریر (قسط2)

 


قسط 1
قسط 2

صبح اٹھی تو تیار ہوکر بہن اور امی کے ساتھ سب سے بڑی بہن کے گھر چلی گئی۔ انکے ہاں تیسرا ننھا بیٹا تشریف لایا تھا۔ خیر وہاں ننھیال ولوں کے آنے پر  خوب خاطر مدارت کیساتھ خوشیاں منائی  جارہی تھی۔

دوپہر کا کھانا کھا کر شفا نے بھانجیوں کیساتھ  انکے مدرسے  جانے کی ضد پکڑ لی۔ کیونکہ اس مدرسے کے پیچھے انکا پرانا قبرستان بھی واقع تھا اور شفا نے اس قبرستان میں دفن 14 15سالہ لڑکی کی زندگی پر کہانی لکھنے کا ارادہ جو کیا تھا۔وہ عام کہانی نہیں تھی شفا کی آنکھوں دیکھی عشق کی انتہا کی ایک لازوال داستان اور انکی  زندگی میں بہت کچھ بدلنے  والی روداد تھی۔


بے انتہا ضد اور جلدی واپس آنے کے شرط پر آخر کار اجازت مل ہی گئی۔تقریبا 20منٹ کے پیدل مسافت پر جامعہ حنیفہ للبنات پہنچ گئے وہاں بچپن کے کچھ مدرسے کی دوستوں اور باجیوں سے ملاقات کرکہ شفا نے قبرستان جانے کی اجازت مانگ لی۔وہاں جاکر پورا قبرستان چھان مارا لیکن وہ قبرنا نہیں پہچان پائی جس کے تلاش میں وہ آئی تھی۔کیونکہ وہ آخری باربچپن میں ( تقریبا 15سال قبل ) امی کی نانی کی فوتگی پر امی کے ساتھ یہاں آئی تھی ۔


شفا کی نظر اچانک زوجہ باچا خان کی قبر کے تختے پر پڑی۔ اسے یاد آیا کہ اسی لائن میں اس کی قبر تھی دل ہی دل میں کہا  "اللہ بھلا کریں انکے چھوٹے بیٹے کا کہ انہوں نے اپنے تمام رشتے داروں کی قبروں پر نئے نئے تختے لگائے ،پوری قبر پکی نا بھی ہو تو اس سے پہچان تو رہ جاتی ہے۔

شفا نے نزدیک ہی مضبوط پکی قبر دیکھی جو اسکے دادا نے خود جاکر مجبورا پکی اپنے ہاتھوں سے کرائی تھی۔

شفا کو اس قبر پر بمشکل تاریخ وفات کا ہی نظر آیا۔اس نے زندگی میں پہلی بار ایسی پکی قبر دیکھی تھی جو کسی شناخت کے بغیر تھی۔ اس نے تاریخ وفات نوٹ کرتے ہوئے کچھ پیکچرز بنائی اور گھر چلی آئی۔

دادی کیساتھ بیٹھ کر ان سے انکی انکے بیٹے محمد اور پوتے راشد کی زندگی کی کہانی سننا شروع کی ۔

شفا  بولی۔۔۔

میری پیاری دادی جان (خانم) مجھے آپ کی زندگی سے جڑی وہ تمام کہانیاں سننی ہیں جس نے آپ کو اتنا مضبوط اور خاص بنایا ہے۔ہماری زندگیوں میں تبدیلیاں رونما کی ہے۔ آپ مجھے بتائے اپنی کہانی ۔۔

کہ کیسے؟؟ آخر کیسے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی بے بس سی بیوہ لڑکی ایک بیٹےکی ماں، مدین بہرین سے تعلق رکھنے والے خان کے چھوٹے سے لڑکے کے زوجیت میں آئی۔آپکے اس بیٹے محمد کی پرورش کیسے اور کہاں ہوئی اور اسکے  بیٹے یعنی آپکے لاڈلے پوتے راشد کو انجینئرنگ پڑھانے ہمارے گھر کون لے آیا تھا۔ اور راشد کی محبت کی داستان شروع کیسےہوئی ؟؟

دادی:

اتنے سارے سوالات ایک ساتھ پوچھ لیے ہیں۔۔ یہ داستانیں سنتے سنتے تھک جاؤ گی۔ 

شفا : نہیں تھکتی میں، آپ کو تو پتا ہے نا میں لکھنا چاہتی ہوں آپ جیسے عظیم لوگوں کی زندگیاں قلم بند کرنا چاہتی ہوں۔

دادی :

چلو ٹھیک ہے اب تم نے سننی ہے تو سنو۔۔

ہوا کچھ یوں کے محمد کے والدمجھے  اور میری سوتن کو لے کر باجوڑ سے چارسدہ اشنغر  لے آئے۔ وہاں کے خان کے گھر میں ہم ٹھہرے اور انکے کام کرکہ کھانے کو روٹی مل جایا کرتی تھی۔ ایک دن سوتن اور شوہر مجھے اس خان کے ہاں چھوڑ کر بھاگ گئے اور پھر ان کی  کوئی خبر نہیں آئی 

آپکے دادا ،اپنے والد کے اپنے چچازاد بھائیوں سے جھگڑنے اور قتل و غارت میں موت کے بعد وہاں مدین بہرین میں اپنا سب کچھ چھوڑا اور چھوٹے بھائی بہنوں کو لے کر کالام، باڈ گوئی اور کمراٹ کے پہاڑی راستے سے آپکے ننھیال پاتراک اپر دیر پہنچ کر اپنی بہن کی شادی وہاں کے ملک سردار یعنی آپکے نانا سے کروانے کے بعد نیچے آتے ہوئے اشنغر چارسدہ پہنچے تھے۔ وہاں آپ ان کی امی نے بچوں کی پرورش کیلئے دوسری شادی کرلی۔آپکے دادا اس وقت ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے تھے اور انکی امی نے میری خدمت گزاری  اور اخلاق دیکھ کر مجھے پسند کیا اور اپنے دوسرے شوہر کیساتھ آکر خان سے میرا رشتہ مانگا۔اور مجھے بھی منانا شروع کیا کہ آپکے بیٹے کو بڑا کرکہ اسکی شادی بھی ہم کروائینگے آپ اس سے شادی کیلئے ہاں کردیں۔

میں پہلے تمام رشتوں کو انکار ہی کرتی آئی تھی لیکن آپکے دادا مجھے بہت پسند آئے تھے اسلئے میں انکار نہیں کرپائی۔اشنغر کے خان کے تمام خزانوں کی کنجیاں میرے پاس ہوتی تھی گھر کی مالکن کیطرح پورا نظام میں چلاتی تھی اسلئے کہ خان مجھ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے اور مجھے کہی  جانے نہیں دیتے تھے تو میں نے ساری کنجیاں کپڑے وغیرہ وہی انکے گھر چھوڑ کر خالی ہاتھ آپکے دادا لوگوں کیساتھ بھاگ گئی۔ ہمارا نکاح ہوا۔ یہ خانہ بدوش کبھی ایک جگہ جاتے تو کبھی دوسری جگہ۔ تو پھر آپ کے دادا مجھے کہہ رہے تھے کہ تم اس بچے یعنی محمد کو مار دو اسکے بعد ہی میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر گھوم سکتا ہوں ورنہ ہمارے راستے الگ ۔ اس طرح وہ بار بار مجھے چھوڑنے لگ گئے کبھی دیر کے گھنے جنگلات میں تو کبھی ملاکنڈ کے سڑکوں پر اور میں کئی مہینوں کے مسافتوں کے بعد ہر بار اسے ڈھونڈ لیتی تھی ۔ مجھے ان سے محبت ہوگئی تھی وہ الگ بات ہے کہ میں اسکی وہ اپنے بچے کو دریا میں پھینکنے یا جنگلوں میں چھوڑ کر جان چھڑانے والی بات نہیں مان سکتی تھی۔آخرکار آپکے دادا نے ہار مان کر مجھے محمد کے ساتھ ہی دل سے قبول کیا۔اور اپنے بچوں کیطرح اپنے بچوں کیساتھ محمد کو بڑا کرکہ اسکی شادی کروائی اور محمد کے ہاں سات بیٹوں کے بعد یہ اکلوتا راشد پیدا ہوا۔


شفا بولی:

دادی جان جب دادا نے آپ کو دل سے قبول کیا تو یہ دوسری شادی کیوں کی۔

دادی جان:

یہ اس نے خود نہیں کی تھی ایک دن باتوں باتوں میں انکے منہ سے نکل گیا کہ میں نے کنواری لڑکی کا پیار نہیں دیکھا۔میں تو بیوہ ایک بچے کی ماں اور عمر میں اس سے بڑی تھی اسلئے  میں نے انکے خواہش کا احترام کرتے ہوئے خود ایک  گرین آنکھوں والی حسین ترین لڑکی کو پسند کیا اور خود ہی اسکے والد سے اپنے شوہر کے رشتے کی بات کرکہ نکاح پڑھوا دیا۔


شفا:

آپ سچ میں عظیم خاتون ہے دادی جان، میں نے سنا تھا پہلے شوہر کی بھی آپ نے خود  ہی اپنی چچازاد بہن سے نکاح پڑھایا تھا۔

وہ بھی صرف اسلئے کہ وہ آپکے پاس آکر رونے لگی کہ میں پریگننٹ ہوں آپ کسی طرح میری عزت بچالے۔

دادی :

ہاں مگر شادی کے بعد ویسا کچھ بھی نہیں تھا جیسے وہ بتارہی تھی۔خیر چھوڑوں ان باتوں  کو ،

آپ نے تو میرے پوتے راشد کی محبت کی داستان سن کر لکھنی ہے نا تو وہ سنو...

یہ کہانی شروع ہوتی ہے میرے بیٹے میر کے سعودیہ میں انجنئیرنگ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار پاکستان واپس آنے سے...


یہ اپریل 2005 تھا...

جب میر پہلی بار پاکستان لوٹ آیا تو گھر میں غربت و مفلسی کا عالم بہت حد تک کم ہوگیا تھا کیونکہ وہ انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھیوں کی مدد اور اللہ کے فضل و کرم سے سعودیہ جاکر اچھے عہدہ پر فائز ہوگیا تھا۔ اور جن کی گھر کی عورتیں پانی مٹکے سروں پر اٹھا کے لانے کیلئے دور دراز جانے پر مجبور ہوا کرتی تھی اب الحمدللہ ان کے گھر میں اپنے کنویں کا پانی دستیاب تھا اور پورے محلے کی عورتیں اب پانی کیلئے دور دراز جانے کے بجائے انکے گھر آنا شروع ہوئی تھی۔

میر کو انکے والد نے پاکستان واپس آنے پر کہا کہ بیٹا جن اپنوں کے پیار اور دعاؤں نے آج آپ کو اس مقام پر پہنچایا ہے۔ آپ ان سب سے مل کر ان کی خبر معلوم کرکہ سعودیہ واپس جانا انکو کسی چیز کی ضرورت ہو تو انکی مدد ضرور کردینا۔


اسی عرض سے میر گھر سے نکلے اور صوابی، سوات بہرین، دیر، شیرگڑھ،پبی عرض ہر اس جگہ گئے جہاں انکے رشتہ دار موجود تھے۔ اپنی امی کی یاد آنے پر اسکے سب سے بڑے بیٹے محمد کے گھر گئے تو معلوم ہوا کہ انکے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے راشد نے( جو سات بہنوں کی توجہ کا مرکز تھا) میٹرک  میں اعلیٰ نمبروں سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ بڑے بھائی کی غربت اور مفلسی کے عالم اور راشد کے پڑھنے کے شوق کے عالم کو دیکھ کر اس نے راشد کو خود پڑھانے کی زمہ داری اٹھانا چاہی تاکہ وہ اچھا پڑھ لکھ کر اپنی بہنوں اور ماں باپ کیلئے کچھ کرسکے اور انکی اس غربت والی زندگی سے جان چھوٹ جائے۔ گھر آکر والد اور والدہ سے مشورے کے بعد اسے اپنے گھر بلا لیا۔کیونکہ یہاں پورا پڑھنے کا ماحول بن چکا تھا میر اپنے سوتیلے چھ بھائیوں کو اعلی تعلیم دلا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ اپنے ان ہم عمر چاچو لوگوں کے ساتھ مل کر اور بھی شوق سے پڑھنا شروع کریگا۔میر کو راشد کی قابلیت پر شک نہیں تھا کیونکہ وہ ایک حافظ قرآن ہونے کیساتھ ساتھ میٹرک میں اچھے نمبرات لینے والا محنتی لڑکا تھا۔ مگر جس ماحول میں رہ رہا تھا تو وہ پڑھنے کیلئے موزوں ماحول نہیں تھا۔ اسلئے اسے اپنے گھر بلاکر اسکا داخلہ اپنے چھوٹے بھائیوں کیساتھ ضلع کے ٹاپ انجنئیرنگ کالج میں کروایا۔ 

راشد صبح سویرے اٹھ کر نماز پڑھنے اور حفظ کا دورہ کرنے مسجد جاتا پھر واپس آکر دادی کے ہاتھوں سے ناشتہ کرتے ہوئے تیار ہوکر اپنے ہم عمر چچا کیساتھ کالج روانہ ہوجاتا۔ اعلیٰ اخلاق کے مالک باحیا با کردار انسان کوئی بھی انکے ساتھ بیٹھ جاتا تو ان پر عاشق ہو جاتا۔کیونکہ وہ اتنا نفیس با اخلاق اور خوش طبع انسان تھا اپنے ابھرتی جوانی کے دنوں میں کہ ہر وقت سفید کپڑے اور سر کے اوپر سفید رنگ کا رومال ہوتے جو

کر محلے میں گھومتے ہوئے عورتوں کے سامنے آنے پر چہرے تک لاتا تاکہ نا کسی عورت پر نظر پڑے نا اس پر کسی کی نظر پڑے۔اس وقت پورے گاؤں میں پردہ عام نہیں تھا مخلوط نظام تھا رشتے ناطے نا ہوتے ہوئے بھی سب مرد عورتوں سے بات کرتے ہوئے  بھائی،ماموں، چچا بناتے تو دوسری طرف مرد عورتوں کو بہن بھابھی چچی ماں کہہ کر مخاطب کرتے۔ایک قسم کا صاف ستھرا معاشرہ تھا۔کسی قسم کی غلط خبریں سننے کو نہیں ملتی تھی ۔اور راشد تو اپنے اعلیٰ اخلاق کے باحیا کردار حافظ قرآن تراویح کی امامت کرنے والا ایک حوبصورت سلجھا ہوانوجوان تھا۔ راشد بھی کبھی کسی کی محبت میں گرفتا ر ہوسکتا ہے یہ تو کسی کے وہم گمان میں ہی نہیں تھا۔


 

جاری ہے۔۔۔۔

بنت الحوا


Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...