𝗧𝗼 𝗗𝗲𝗮𝗿 𝗬𝗼𝘂𝗻𝗴𝘀𝘁𝗲𝗿𝘀 𝘄𝗵𝗼'𝗿𝗲 𝘁𝗵𝗲 𝗳𝘂𝘁𝘂𝗿𝗲 𝗼𝗳 𝗨𝗺𝗺𝗮𝗵!

 ✉️ 𝗧𝗼 𝗗𝗲𝗮𝗿 𝗬𝗼𝘂𝗻𝗴𝘀𝘁𝗲𝗿𝘀 𝘄𝗵𝗼'𝗿𝗲 𝘁𝗵𝗲 𝗳𝘂𝘁𝘂𝗿𝗲 𝗼𝗳 𝗨𝗺𝗺𝗮𝗵!



𝗣𝗮𝗿𝘁 𝟭

بعد از سلام!

اُمید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ 

آپ نے کہیں سوشل میڈیا پر پڑھا ہو گا کہ:

”دین کو روایتی دین داروں نے مشکل بنا دیا ہے۔ دین پر عمل کرنے کا اس لیے دل نہیں کرتا کہ روایتی اور افسانوی باتیں کرنے والے علماء نے من گھڑت قصوں سے دینی تعلیمات کو آلودہ کر دیا ہے۔ “ 

اس کے علاوہ آپ کو روز کسی فیلو، کسی دوست یا کزن سے سننے کو ملتا ہے کہ ”دین کی دیکھی جائے گی ۔ آؤ ابھی انجوائے کریں ۔ یہی تو عمر ہے مولویوں نے تو یونہی ڈرا رکھا ہے۔ مولوی باتیں اتنی illogical کرتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتیں۔ یار! یہ ستر حوروں کے علاوہ ان کو پتہ کیا ہے؟“

وغیرہ وغیرہ

                        ➖➖➖➖➖➖➖

اسی قسم کی بہت ساری باتیں پڑھ اور سن کر آپ کے دل میں فوراً سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ :

دیکھو! کتنی درست بات کہی ہے۔ یہی تو مسئلہ ہے۔ ہم نوجوان تو ان طریقوں کی طرف attract ہی نہیں ہوتے ، جن سے ہمیں دین سکھایا جا رہا ہے۔ اور یقیناً اس میں مولوی صاحب کا قصور ہے۔ اور ویسے بھی پڑھائی سے وقت نکلے تو ہم قرآن پڑھیں، درس میں جائیں، نمازیں پڑھیں۔ کتابیں پڑھیں۔ بہت مشکل ہے۔ ہم سے نہیں ہو گا۔ 


ڈیئر ینگسٹرز! 


دیکھیں!

اس طرح کے مولوی حضرات سے اختلاف تو بہرحال مجھے بھی ہے۔ اور بنی اسرائیل کے علماء کی طرح آدھا ادھورا دین بیان کرنے کا گناہ بھی ان پر یقیناً ہے۔ ان کو اللہ تعالی کے ہاں اس کا حساب دینا ہو گا۔ 

لیکن یہ ہمارے لیے ہرگز حجت نہیں ہے۔ حجت سمجھتے ہیں؟ کہ ایک عذر/ بہانہ کافی ہو جائے۔ 

ایسا ہو گا؟ 

ہرگز نہیں! ہمیں اپنا جواب خود دینا ہو گا!

اب آپ کو لگے گا ”مجھے کیوں جواب دینا ہو گا، یہ مولوی/سکالر کا قصور ہے___“


دیکھیں! میں دنیا کے لیے دن رات بھاگ دوڑ کروں۔ اچھی اکیڈمی سے پڑھوں ۔ ٹیچرز یا سسٹم اچھا نہ لگے تو اکیڈمی بدل لوں کہ میرا مستقبل خراب نہ ہو۔ ڈگری کے لیے، کیرئر کے لیے بہتر سے بہترین ادارے ڈھونڈوں۔ 

لیکن!!!

آخرت کے لیے ایسی کوئی کوشش نہ کروں۔ دین سمجھنے کے لیے اچھے ذریعے نہ ڈھونڈوں۔ تو مجھے ہدایت ملے گی؟ بالکل نہیں! اور___

میری تباہی میں مولوی صاحب کا نہیں ، میرے نفس کا قصور ہو گا جس نے مجھے یہ بہانہ سُجھا دیا کہ مولوی صاحب نے دین کو مشکل، روایتی، ناقابل عمل بنا کر پیش کیا ہے۔ 

اور پھر ذرا سوچیں ! کیا یہ عذر آخرت میں کافی ہو گا؟

دنیا کے معمولی سے امتحان کو ہم عذر پر نہیں چھوڑتے، یہ تو ہمیشہ کی زندگی کا معاملہ ہے! افلا تتفکرون؟ 💔


ہمارے ربّ نے صاف فرما دیا ہے: 

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ (النجم:39)

”اور بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے، جس کی اس نے کوشش کی“۔ 

دنیا کے لیے کوشش کی، دنیا مل جائے گی۔ وہ بھی بس اتنی ملے گی جتنی اللہ چاہے گا۔ مگر دل کا سکون نہیں ملے گا۔ اور آخرت بھی برباد ہو جائے گی۔ 💔


جب عقل ہر انسان کو الگ الگ دی گئی ہے تو ذمہ دار بھی ہر انسان اپنے لیے ہے۔ 

قرآن میں اللہ ربی نے واضح فرمایا ہے کہ : 

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ(النجم: ۳۸) 

”کوئی بوجھ اٹھانے والا اس دن کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“


ہر ایک نے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے۔ مولوی صاحب اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے تو اپنا اٹھائیں گے۔ لیکن مجھے اپنا اٹھانا ہے۔ کیونکہ میری ذمہ داری بھی تو ہے۔ 

ہر انسان جس نے ”اَلستُ بِرَبِّکُم“ کا جواب دیا تھا ”بلیٰ“ کہہ کر، وہ اپنے لیے ذمہ دار ہے۔ اور مسلمان جس نے کلمہ پڑھ لیا وہ اپنا ذمہ دار ہے۔ ہر ایک خود دین کو own کرے۔ ہم سب اپنے آپ پر خود نگران بنائے گئے ہیں۔ 


اگر ہماری نسل باشعور ہے ، ہمیں ٹیکنالوجی میسر ہے، ہماری ذہنی صلاحیتیں عروج پر ہیں، اور ہمیں سمارٹ جنریشن کہا جاتا ہے تو اتنی ذہانت کا پہلا تقاضا اور حق دین کے لیے بڑھ کر مستند (Authentic) ذرائع ڈھونڈنا ہے۔ ایسے ذرائع جن سے بہت اچھی طرح دین سیکھا جا سکتا ہے ۔ جو کہ موجود ہیں۔ الحمدللہ۔ 


دیکھیں! آج سید #مودودی کی #تفہیم_القرآن ترک نوجوانوں میں مقبول ترین تفسیر ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اسے پڑھتے ہیں۔ اور پاکستانی نوجوانوں کی بھی ہو سکتی ہے اگر وہ پڑھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی تنظیمات موجود ہیں۔ جہاں مستند ذرائع سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تزکیہ نفس کیا جا سکتا ہے۔ دعوت و اقامت دین کا کام کیا جا سکتا ہے۔ 

لیکن 

🕳️ہم اگر سارا وقت پڑھائی، دوستوں، سوشل میڈیا کو دے کر خوش ہیں۔ 

🕳️یا ہمارے جیسے اور لوگ ٹک ٹاک اور دیگر apps پر اگر وقت برباد کر رہے ہیں 

🕳️کچھ اور لوگ موویز، آؤٹنگز میں مصروف رہتے ہیں۔


تو اس میں اس پورے نظام سے لے کر اُس فرد تک سب کا اپنا اپنا بوجھ ہے ، جو وہ اٹھائیں گے۔ اس قسم کے سب علماء اپنا جواب دیں گے ، ہم عوام اپنا جواب دیں گے۔ اس لیے اپنے اوپر خود محنت کریں ۔ کچھ ٹپس لے لیں۔


📌 اپنے وقت سے روزانہ دس منٹ نکال کر ناظرہ قرآن کے ساتھ ذرا سی تفسیر پڑھ لیں۔

📌 آدھا گھنٹہ کسی اچھی کتاب کو پڑھیں۔ 

سید مودودی کی تفسیر اور لٹریچر اس لیےrecommend کروں گی کہ سمجھنے کے لیے کافی آسان ہے۔ 

📌کسی اچھے سکالر کو سن لیں۔ لیکن یہ سننے کا کام کم سے کم کرنا ہے۔ علم کے لیے کتاب سے بہتر ذریعہ کوئی نہیں ہے۔ 


{اب اپنی جدید ٹیکنالوجی پر ”الست بربکم“ کو سرچ کریں۔ ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ہمارے گھر میں جو تفسیرِ قرآن ہے۔ وہ صرف 'بڑے' نہیں پڑھتے۔ ہمیں بھی پڑھنی ہے۔  تفہیم القرآن اور دیگر تفاسیر کی apps بھی موجود ہیں، وہ ڈاؤنلوڈ کر لیں. اس سے الست بربکم کی تفسیر پڑھیں۔ لیکن بہرحال مصحف تو مصحف ہے۔}


پھر ملیں گے۔ 

Your Well wisher!

بنتِ سحر


#Youngsters #MuslimYouth

#Motivation #Spirituality #Revolution

#IslamicTeachings #Quran

#Ramadhan2022 #Ummah

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...