میر کے پڑوس میں رہنے والی 15,14 سالہ زیبا ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔جو ننھیال میں رہتی تھی۔ حسین اتنی نہیں تھی مگر اچھے اخلاق رکھنے والی سلجھی ہوئی ہنس مکھ لڑکی تھی۔ہر وقت آنکھوں میں کاجل ،بدن پر صاف ستھرے کپڑے اور بال نفاست سے بنائے ہوتے تھے۔زیبا کا والد باغ کا مالی تھا۔ زیبا بچپن سے ہی اپنے خالہ زاد مبشر سے منسوب تھی۔مبشر کے والد کا سعودیہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے وہ لوگ بھی ننھیال میں زیبا کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ایک ساتھ کھیلتے ہوئے زیبا اور مبشر بڑے ہوئے زیبا کی ماں اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ مبشر کے بجائے کسی اور سے طے کرنے کا سوچنے لگی تو زیبا کی نانی اور اکلوتی خالہ ناراض ہوئی ۔اگر زیبا اور مبشر کے دلوں سے بھی کوئی پوچھتا تو ان کو بھی غم میں ڈوباہی پاتے ۔ کیونکہ مبشر جو روز اسے چھومتے ہوئے سکول جاتااور آتے ہوئے اس کیلئے گفٹس لاتا یہ ہم عمر پیار کرنے والی جوڑی ،بچپن کے ساتھی تو ایک دوسرے کو کب کے ہم سفر مان چکے تھے۔ دونوں کو بھی جدائی کا غم کھائے جارہا تھا ۔کہ نانی نے فائنل فیصلہ سناتے ہوئے کہا میری زیبا صرف میری مبشر کی ہی دلہن بنے گی۔ مبشر کے ماں کو جلد از جلد الگ گھر میں شفٹ ہونے اور دھوم دھام سے منگنی کرنے کی احکامات جاری کردئے آخرکار جلد ہی وہ منسوب سے منگیتر بن گئی اور اسکے ساتھ ہی مبشر کا ان کے گھر آنا اور زیبا کے گھر جانا بند ہوگیا۔اب مبشر کا روز پیار اور تحائف والا سلسلہ منقطع ہوکر مہینوں بعد یا کسی تقریب پر نظر آنے تک محدود ہوگیا تھا خیر زیبا اب بھی بہت خوش تھی اور خوشی خوشی سے اپنے دوستوں کو اپنی شادی کی باتیں کرتی نظر آتی ایک دفعہ خالو کا پاکستان آنے پر کسی نے خالہ سے کہا تھا کہ بس اگر شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تو شریعت میں یا رات کے اندھیرے میں نکاح کروا کر لے آوں ۔ اور یہ بات کتنے دن خوشی خوشی بتاتی تھی کہ بس مجھے ایسے بھی مبشر قبول ہے مجھے خالہ کی طرح دھوم دھام سے رخصتی اور شادی کا کوئی شوق نہیں اللہ ہدایت دیں میری ساس خالہ کو جو پیسو اور دھوم دھام سے شادی کے آرماں لئے بیٹھی ہے۔ خیر اسطرح وقت گزرتا گیا۔
زیبا اور میر کے گھروں کو ایک ہی دیوار ملاتا تھا اسلئے زیبا کو کچھ بھی چاہئے ہوتا تھا تو سیڑھی چڑھ میر کی بھتیجی اور اپنی اچھی سہیلی کو آواز دے کر مانگ لیتی اور سب گاوں والوں کیطرح وہ پانی بھرنے ٹیوب ویل کے جانے کے بجائے میر کے گھر سے پانی بھرنے کو ترجیح دیتی تھی وہ روزانہ میر کے گھر ایک تنگ سی ڈیوڑھی سے ہوکر جاتی تھی جو گھر اور بیٹھک کو ملانے اور دونوں تک آنے جانے کا واحد راستہ تھا جس میں زیبا کا راشد سے سامنا ہونے لگا۔
تو یہاں بھی روز راشد اسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بھیٹک کے دروازے کے پیچھے کھڑا سوراخوں میں اس کو دیکھتا نظر آتا۔زیبا اس خوبصورت نوجوان کی ایس حرکتیں دیکھ کر حسب معمول مسکرادیتی تھی۔
زیبا کو کیا معلوم تھا کہ اس کی یہ مسکراہٹ یا ہنسی مذاق ان کی جان لے گی یا ان کی زندگی ہی بدل کہ رکھ دے گی۔
زیبا تو خود حیران تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے ایک ایسا لڑکا جو پورے گاؤں میں اپنے اچھے اخلاق و کردار کیلئے مشہور ہے۔پہلے تو اس کو ایسی حرکتیں کرتے ہوئے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔اور نا اب کوئی یقین کریں گا کہ ایک منگنی شدہ لڑکی میں اتنا دلچسپی لینے لگا ہے کہ اس سے بات کرنے یا اس کی ایک مسکراہٹ دیکھنے کیلئے بہانے ڈھونڈتاپھر رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا جب راشد کا کالج میں دوسرا سال شروع ہوا تو یہاں یکطرفہ محبت دوطرفہ میں بدلنے لگے زیبا بھی آخر کب تک اس محبت میں پاگل ایک اعلی اخلاق ، تعلیم و تربیت اور مشہور زمانہ کردار رکھنے والے خوبصورت نوجوان کے محبت کو نظر انداز کر سکتی تھی، وہ بھی آخرکاراسکی طرف مائل ہونے لگی۔ وہ چھپ کر زیبا کی ایک جھلک دیکھنے والا راشد اب اس کے سامنے آکر دیدار کرنے لگا۔ باتیں کرنے لگا ۔ زیبا کی زندگی میں مبشر کے محبت اور گفٹس کی جگہ اب راشد کے محبت اور گفٹس نے لے لی ۔کالج سے آتے ہوئے کھانے کے چیزوں سے لے کر جیولری تک جو بھی راشد کو اچھا لگتا لاکر زیبا کے ہاتھ میں رکھ دیتا۔اب سردی کی لمبی لمبی ٹھنڈی راتیں بھی کھڑے ہوکر دیوار کے اس پار سیڑھی پر کھڑی زیبا کا ہنس مکھ چہرہ دیکھتے ہوئے اور اس سے باتیں کرتے ہوئے گزارنے لگا آہستہ آہستہ راشد کی یہ محبت عشق میں بدلنے لگی اور عشق میں جدائی برداشت نہیں ہوتی یہ سب کو دیکھا دیا۔
وہ کہتے ہے نا، کہ جہاں آگ لگی ہوتی ہے تو دھواں ضرور اٹھتا ہے
یہی ہوا راشد اور زیبا کیساتھ بھی۔ زیبا کے ساتھ نت نئے چیزیں دیکھ کر جب دوست پوچھتے تو وہ خوش ہوتے ہوئے بتاتی یہ مجھے راشد نے دیئے ہیں۔ ایک دن میر کی بھتیجی ثنا نے زیبا کے پاس کیمرہ دیکھا تو ہم راز سہیلی ہونے کے ناطے پوچھا یہ کیاچیز ہےاور اب یہ کس نے دیا ہے زیبا ، تو اس نے جلدی سے کیمرہ سامنے زمین پر رکھ کر ٹائمر سے تصویر بنانے لگی ۔ یہ خودی تصویر بنانے والا کیمرہ ہے مجھے راشد نے دیا ہے۔ پھر اٹھا کر ثنا کو دیکھانے لگی تم دیکھو ذرا، میں کیسی لگ رہی ہوں۔ ثنا نے سمجھاتے ہوئے کہا اے پاگل یہ تم کیا کرنے لگی ہو ۔ان تصاویر کو ختم کرنا بھی آتاہے کیا ۔
نہیں آتا لیکن میں اپنے پیکچرز کیساتھ ہی راشد کو دے دو گی وہ خود ختم کردیگا۔ زیبا اپنی دنیا میں مست سی لڑکی نئے محبت کے خمار میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ مگر دنیا والے تو سمجھنے لگے کہ کچھ کھچڑی پک رہی ہیں۔ راشد جو اپنے ہم عمر چچا لوگوں کیساتھ بھیٹک میں سوتا تھا تو وہ بھی شکی ہونے پر سرگوشیاں کرنے لگے تھے۔ ایک رات جب راشد کے دادا رات کو بندوق لے کر گھر کے دروازے چیک کرنے کیلئے اٹھے تو دیوڑی میں انکی باتیں سننے میں آئی دروازے کے سراخوں میں جھانک کر دیکھا تو زیبا دیوار پار کرکہ بیٹھک کے مین گیٹ کے ساتھ زمین پر بیٹھے دیوار سے ٹیک لگائے باتوں میں مصروف تھے ۔ جب یہ دیکھا تو دادا نے غصے میں آکر تیزی سے بندوق لوڈنگ شروع کردی جسکی آواز سن کر راشد جلدی سے زیبا کو دیوار پلانگنے میں مدد کرنے لگا کہ
جاری ہے۔۔۔۔
بنت الحوا
0 Comments
Assalamualaikum