آرٹیکل
الفاظ: ۷۵۰موسم گرما کی چلچلاتی دھوپ ہو یا موسم سرما کی سرد راتیں۔ ہم اپنے گھروں میں چین سے رہتے ہیں۔ ساون کے مہینے میں برسات ہو تو کچھ لوگ نان پکوڑے کا مزہ لیتے ہیں۔ تو کوئی بڑے بڑے ہوٹل میں موسم کا مزہ لوٹتا ہے۔ کوئی اپنے گھرانے کے ساتھ ساحل سمندر پر چہل قدمی کرتا ہے۔ تو کوئی دوستوں کے ساتھ برف پوش پہاڑوں پہ اٹھکیلیاں کرتا ہے ۔ ہم سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق موسم کا بھرپور مزہ لیتے ہیں وہیں کچھ لوگ ہمارے آرام کے خاطر اپنے گھر ، گھرانے اور دوستوں سے بہت دور، موسم سے بے پرواہ سرحد پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔قیام پاکستان سے لے کر موجودہ دور تک, ان گزرے 75 سالوں میں ,پاکستان کے محافظوں نے پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ یہ سرفروشی کا جذبہ وطن کی محبت کا اعجاز ہے ۔میجر عزیز بھٹی ہوں ، ایم عالم یا سپاہی مقبول حسین ان جانبازوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر اس وطن پاک کا تحفظ کیا۔ یہ شہید ہوئے یا غازی بنے دونوں صورتوں میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ۔ وہ فخریہ کہہ سکتے ہیں۔"ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے" ۔نشان حیدر پاکستان افواج کو ملنے والا سب سے بڑا فوجی تمغہ ہے۔ مگر پاک افواج اور دیگر ادارے کے وہ گمنام سپاہی جو بغیر کسی تنقید کے، بغیر کسی تعریف کے ملک و ملت کی حفاظت کے لئے اپنا آرام و سکون برباد کرکے، وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات دیتے ہیں وہ بھی برملا کہہ سکتے ہیں" ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔جون کی چلچلاتی دھوپ میں پٹرول پمپ پر موجود آئل ٹینکر میں جب اچانک آگ بھڑکی تو وہاں موجود ٹینکر ڈرائیور دیگر لوگوں انسانی جانوں کو بچانے کی خاطر جلدی سے گاڑی میں سوار ہوا اور پیٹرول سے بھرے جلتے ٹینکر کو آبادی سے دور لے گیا تاکہ انسانی جان کا نقصان نہ ہو بھلے میری ایک جان جائے تو جائے زیادہ نقصان نہ ہو وہ محمد فیصل فخریہ کہہ سکتا ہے" ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔15 ، 16 سالہ لڑکا جب دہشتگرد کو اسکول کے اندر داخل ہوتا دیکھتا ہے تو وہ دو ہزار طلبہ کی زندگی بچانے کے لیے خود کش بمبار سے لپٹ جاتا ہے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اپنے ہم عصروں کی زندگی بچاتا ہے ۔ وہ بول سکتا ہے"ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔جب دہشتگرد اسکول کے بچوں پر حملہ کر دیتے ہیں تو بہادر پرنسپل میڈم طاہرہ ان کے آگے ڈٹ جاتی ہیں کہ وہ اس وقت تک اسکول سے باہر نہیں جائیں گی جب تک آخری بچہ بھی محفوظ نہ ہوجائے اس بہادری کی پاداش میں زندہ جلا دی جاتی ہیں مگر انہوں نے دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ کر ثابت کر دیا," ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔حاجی عطاء اللہ ہو یا دولت ترین جو لوگوں کی جان بچانے کی خاطر پانی سے لڑ جاتے ہیں اور سیلابی ریلے سے 5، 5 افراد کو کھینچ لاتے ہیں وہ ایک بار میں ہی پانچ کو نہیں بچا پاتے بلکہ لوگوں کی جان بچانے کی خاطر بار بار خود کو بے رحم پانی کے حوالے کرتے ہیں اور اپنی قوم کی حفاظت کرتے ہیں وہ دونوں سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں"ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔ "لیاری سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ نویں جماعت کی طالبہ نے اس عزم کے ساتھ اپنے محلے کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا کہ جو کچھ وہ جانتی ہے, وہ دوسروں تک بھی پہنچاۓ گی۔اور آج اسکے پڑھاۓ ہوۓ پچے دوسروں بچوں کی زندگیوں کو چراغ علم سے روشن کر رہے ہیں۔ وہ بچے اور ماہین بلوچ خوشی سے کہتے ہیں," ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔پاک فوج میں شامل سند یافتہ محافظ ہو یا ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو جب وہ تنقید سے بے پرواہ ، منفی سوچوں سے دور قوم کے لئے کام کرتے ہیں تو وہ کہہ سکتے ہیں "ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔"یہ آپ کے اردگرد بھی ہو سکتے ہیں، یہ آپ بھی ہو سکتے ہیں، یہ ہم بھی ہو سکتے ہیں، بس عزم کی تجدید کی ضرورت ہے۔ تو پھر ہم بھی فخریہ کہہ سکیں گے," ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے "۔
Ilm o Adab Society
علم و ادب سوسائٹی تحریر
x

0 Comments
Assalamualaikum