اسلام ہی نظریہ پاکستان کی اساس ہے
ربیعہ عروج کہروڑپکا
نظریہ پاکستان سے مراد برصغیر پاک و ہند کے تاریخی تناظر میں مسلمانوں کا یہ شعور تھا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے ہندوؤں سے الگ قوم ہیں۔ بلاشبہ اسلامی نظریہ حیات نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ حقیقت میں میں نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم نظریہ پاکستان سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ پاکستان بھی ایک نظریے کی بنیاد پر قائم جسے نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ کہتے ہیں۔ اس لیے اس نظریے کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہر پاکستانی کیلئے ضروری ہے۔
برصغیر میں مسلمانوں کو سیاسی ، سماجی اور معاشی میدانوں میں دوسری قوموں خصوصاً ہندوؤں کے مقابلے میں نظر انداز کیا جاتا تھا۔ نظریہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد مسلمانوں نے نہ صرف اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز اٹھائی بلکہ یہی نظریہ ان کیلئے علیحدہ وطن کے حصول کا سبب بنا ۔ پاکستان کے قیام کے بعد ہی مسلم حقوق کا صحیح معنوں میں تحفظ ہوا۔ اس نظریہ کی وجہ سے مسلمان اقلیت سے اکثریت میں تبدیل ہوئے ۔
برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ قومی پہچان خطرے میں تھی۔ ہندوؤں نے کئی ایسی تحریکوں کا آغاز کیا جن کا مقصد مسلمانوں کے قومی تشخص کو ختم کر کے ہندوازم میں مدغم کرنا یا مسلمانوں کو ہندوستان سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دینا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اپنی علیحدہ شناخت کو ہر دور میں نہ صرف برقرار رکھا بلکہ دوقومی نظریہ کا تصور پیش کیا جسکی بنیاد پر وہ ہندوؤں سے علیحدہ قوم تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کا علیحدہ قومی پہچان یا تشخص نہ صرف برقرار رہا بلکہ مسلمانوں کی پہچان کو ختم کرنے والے تمام اقدامات کا خاتمہ بھی ہو گیا۔
نظریہ پاکستان کا سب سے بڑا مقصد ایک ایسی ریاست کا حصول تھا جس میں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کی جاسکے اور مسلمان اسوہ حسنہ کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں گزار سکیں۔
نظریہ پاکستان سے مراد نظریہ اسلام ہے۔ برصغیر میں اسلام نے دو قومی نظریے کو فروغ دیا اور مسلمانوں کے جدا گانہ تشخص اور الگ شناخت کو قائم رکھا۔ برصغیر میں اسلام نے مسلمانوں کو ہر آڑے وقت میں بچایا۔ اس لیے نظریہ پاکستان قوت کا وہ سرچشمہ ہے جس نے ماضی میں برصغیر کے مسلمانوں کو بے پناہ قوت عمل سے نوازا اور آئندہ بھی اس کے بل بوتے پر مسلمانان پاکستان عالم اسلام کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے سکیں گے۔
اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ اس لئے اس کا نظریہ قومیت بھی عالمگیر ہے۔ اس میں لسانیت، نسلیں، اور وطنیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ختم نبوت دو ایسے اصول ہیں جن پر اسلامی قومیت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ نظریہ دنیائے اسلام کے اتحاد کا مظہر ہے۔
نظریہ پاکستان کی بدولت مسلمانوں کی معاشی ترقی کی راہیں کھلیں۔ صنعت، زراعت ، تجارت اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ انگریزوں اور ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کے معاشی استحصال کا خاتمہ ہوا۔ انہیں انگریز اور ہندو سرمایہ داروں ، زمینداروں اور ساہو کاروں سے نجات مل گئی۔
نظریہ پاکستان استحکام پاکستان کی ضمانت دیتا ہے۔ اس نظریے کی رو سے تمام مسلمان ایک قوم ہیں۔ نسل اور علاقائی حدود سے بالاتر ہو کر انھیں ایک ملت کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے۔ اس نظریہ پر عمل کر کے ملک میں امن و سلامتی اور اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے اور ملک دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملائے جا سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے اہلیان پاکستان کیلئے اس نظریہ کا تحفظ بہت ضروری ہے۔
نظریہ پاکستان اسلام کی روشنی اور فرقان حمید کی تجلی سے ماخوذ ہے۔ حصول پاکستان کا مقصد ایک ایسی مملکت کا قیام تھا جہاں مسلمان قرآنی تعلیمات اور سنت رسول اللہ کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ جہاں جمہوری اقدار کا فروغ ہو اور ایک ایسا نظام رائج کیا جائے جو عدل وانصاف اور مساوات پر مبنی ہو۔ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے سماجی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے اور اسلام کے معاشی اصولوں کے مطابق ایک ایسا معاشی نظام قائم کیا جائے جس میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کر کے نچلے طبقے کو معاشی استحصال سے بچایا جا سکے اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
نظریہ پاکستان نظر یہ اسلام ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے دنیا کی زندگی عارضی اور فانی ہے۔ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی یعنی موت کے بعد کی زندگی ہے۔ جس میں ہر فرد کو اس دنیا میں کیے ہوئے اچھے اور برے اعمال کی سزاملے گی ۔ ایک اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کی دنیاوی زندگی کو
خوشحال بنانے کے ساتھ ان کی حیات آخرت کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ اس طرح ہمارا نظریہ اس زندگی اور موت کے بعد شروع ہونے والی زندگی کو کامیاب اور خوشحال بنانے کی بھی ضمانت دیتا ہے۔
نظریہ پاکستان حقیقی اسلام کی روشنی سے ماخوذ ہے۔ سارا قرآن خود داری اور اسلام پر عمل کی تاکید سے بھرا پڑا ہے۔ قرآن نے یہاں تک واضح کر دیا کہ جولوگ عقلمندی سے کام نہیں لیتے وہ انسان نہیں حیوان ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گرے ہوئے ہیں۔ نہ آسمان ان کے غم میں روتا ہے اور نہ زمین ان کی موت پر آنسو بہاتی ہے۔ ہم مناسب منصوبہ بندی اور غور و فکر کی حکمت عملی اپنا کر عصر حاضر کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے اردوں میں خدا کی تقدیر

0 Comments
Assalamualaikum