پاکستان بنانے والوں کے جائز خودکشی |از قلم : ام البنین

 میری آج کی تحریر پاکستان بنانے والوں کے نام 

جائز خودکشی 

میں اسماء ہوں ہاجرہ کی سہیلی میں بھی مشترکہ ہندوستان میں رہتی تھی ۔(ہاجرہ اور اسکے بیٹے کی کہانی میں پہلے اپنی وال پہ پوسٹ کر چکی ہوں ) ہم سب بہت خوش تھے یہ سُن کر کہ پاکستان بن گیا، لفظ "پاکستان" ہی میٹھا تھا، لگتا تھا دنیا پہ کوئی جنت ہو گی تو وہ ہمارا وطن پاکستان هو گا، ہم لوگ بھی ہاجرہ لوگوں کے ساتھ گھر سے نکلے، اس کے بعد معلوم نہیں کس کے ساتھ کیا ھوا؟ ہم بچھڑ گئے راستے میں ہی سب الگ هو گئے، وہ منظر یاد آئے تو روح کانپ جاتی ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بھائی اور ماں کو زبح کر دیا گیا، ہمارا سامان بھی چھین لیا، ہم لوگ بھوکے پیاسے چلتے رہے، اپنوں کو دفن کرنا کفن دینا تو دور ہمارے پاس ان کی لاشوں پہ کو رونے کا وقت بھی نہیں تھا، ہم لوگ چلتے رہے کہ پاکستان جانا ہے، مجھے یاد ہے، ۔جب میرے خاندان کے سب لوگ اس راستے میں شہید هو گئے ۔بس بابا اور مٙیں بچ گئے ۔بابا نے مجھے پاس بٹھا کر اپنے بوڑھے ہاتھوں سے میرے ہاتھ تھام کر بولا تھا بیٹی ۔ہم لوگ بہت مشکل سے جان بچا کر چھپ چھپا کر چل رہے ہیں ۔اگر میں بھی مارا جاؤں ۔تم اکیلی مت رہنا ۔جان دے دینا اپنی ۔مر جانا مگر ہندوؤں کے ہاتھ مت آنا ۔یہ کہتے ہوے بابا کی آواز میں لرزش تھی، جیسے بہت ہمت جُٹا کر بول رہے هوں ۔اسماء حیران ہو کر بولی ۔بابا آپ تو ہمیشہ کہتے هو خود کشی حرام ہوتی ہے ۔اب مجھ سے کہ رہے هو مر جانا ؟

جی بیٹی زندگی رب کی امانت ہے ۔زندگی بچانے کے لئے آخری حد تک کوشش کرنی چاہیے ۔مگر جب بات هو زندگی یا عزت میں سے ایک چیز چننے کی تو ایک لمحہ بھی مت سوچنا اور عزت بچا لینا چاہے زندگی دے کر ہی سہی ۔اسی طرح باتیں کرتے رات گزر گئی وہ رات بھر لاشوں کے ایک ڈھیر کے پاس بے حس و حرکت پڑ ے رہے ۔مگر دن کا اجا لا ہوتے چل پڑے ۔راستے میں اسماء کے بابا کو بھی شہید کر دیا ظالم ہندوؤں نے ۔اس نے بھاگ کر اپنی جان بچائی ۔مگر اسے معلوم تھا، وہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکتی اور ان کے ہاتھ بھی نہیں آنا چاہتی تھی ۔اس نے تھوڑی دیر سوچا اور کنویں میں کود گئی(تاریخ کے او را ق سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد لوگوں کو کنووؤں سے بہت سی لاشیں ملی تھیں )۔یہ وہ جائز خود کشی کرنے والی مقدس لڑکیاں ہیں جن کی بخشش کی ہم خدا سے ہمیشہ د عا کرتے رهیں گے ۔آزادی کے راستے کا ایک اور واقعہ جو یاد آئے تو دل غم سے بھر جاتا ہے کہ ایک عورت اپنے خاندان کے 15۔20 افراد کے ساتھ جھاڑیوں کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔اسکا معصوم بچہ جو چند ماہ کا تھا ۔بھوک پیاس سے رونے لگا ۔جب کہ سکھ اور ھندو رات بھر گشت کرتے رهتے چن چن کر مسلمانوں کو مار دیتے تھے ۔عورت نے اپنے ہاتھوں سے اپنے معصوم بچے کا گلا دبا دیا ۔کہ اسکی وجہ سے باقی سب نا مارے جائیں ۔اللّه هو اکبر 

یہ وطن بہت قربانیو ں کے بعد ملا ہے ۔اسماء جیسی ہزاروں لڑکیوں کی قربانی ضا ئع مت کریں ۔خدارا ملک کی قدر کریں ۔بس د عا ہے مالک ہم رہیں نا رہیں یہ وطن سلامت رہے ۔آمین 

پاکستان زندہ باد ۔


 از قلم : ام البنین

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...