ہادیہ جنید گابا
کراچی
نظم
ہم سب کا پاکستان
!!
کوئی مجھے سمجھائے میں ہنسنے لگوں یا رو جائوں،
زور زور سے چلّائوں یا شرم سے سر کو جھکائوں،
کوئی نہیں یہاں کسی کا ہر طرف دھوکا ہے،
رنگ برنگے اپنے اپنے جھنڈوں کا ڈھنڈوڑا ہے،
نجانے کیسے کہتے ہیں اس ملک کو اپنی جان،
نجانے کیسے کہتے ہیں ہم سب کا پاکستان!
نفسا نفسی ہر طرف،اللہ تو کسی کو یاد نہیں،
روز قیامت،اللہ کا ڈر،سنّت کسی کو پتہ نہیں،
چند پیسوں کی خاطر خون یہاں بہ جاتا ہے،
اپنے ملک کا ہی باشندہ دوسرے کو کھا جاتا ہے،
پھر گا گا کہ کہتے ہیں ہمارا دیس ہے پاکستان،
نجانے کیسے کہتے ہیں ہم سب کا پاکستان!
بجلی،پانی،گیس اور تیل سب یہاں مہنگا ہے،
غریب بےچارہ زندہ رہنے ہی کو ترستا ہے،
علم و تحقیق کا شوق نہیں،تعلیم یہاں اہم نہیں،
بلا سمجھے بوجھے ہر کوئی سیاست دان کو کوستا ہے،
تم بھی تو کچھ کام کرو بڑھاؤ اس ملک کی شان،
تاکہ فخر سے کہ سکو ہم سب کا پاکستان!
تعلیم یہاں ایک دھندا ہے،علاج یہاں مہنگا ہے،
کوئی کسی سے مخلص نہیں،ہر شخص گویا لٹیرا ہے،
جو چند یہاں پر اچھے ہیں،اسلام کی بات وہ کرتے ہیں،
لگتا ہیں اغیار میں رہ کے دفاع اسلام کا کرتے ہیں،
ہم جنس پرستی کہ لوگ یہاں پر قائل ہوتے جاتے ہیں،
اللہ اللہ کیسی بری بات ہے جو منہ سے نکالتے ہیں،
بات ہو ربیع الاول کی تو گھر کو ایسے سجاتے ہیں،
کہ دیکھنے والے بس دیکھتے ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں،
اخلاق کو بھی تو اچھا کرو،مضبوط کرو اپنا ایمان،
پھر کہتے اچھے بھی لگو ہم سب کا پاکستان!
پانی یہاں ایسے بہتا ہے،ہر شخص کے پاس سمندر ہو،
بجلی ایسے ضائع ہوتی ہے،جیسے کوئی بات نہ ہو،
تیئیس مارچ کی چھٹی ملتی کیوں ہے یہ تو پتہ نہیں،
یوم مزدور پہ بس یہاں مزدور ہی کو آرام نہیں،
پیسے والا جو شخص ہے بس وہی شخص تو اچھا ہے،
رشتوں سے زیادہ پیسہ اب اہمیت یہاں پہ رکھتا ہے،
یہ تو سوچو اسلام کے نام پہ یہ ملک بنایا تھا،
نام بس رب کا اونچا رہے،یہی عظم اپنایا تھا،
اس ملک کی خاطر ہی تو جان اپنی دینی تھی،
سبز ہلالی پرچم کو ہی ساکھ اپنی بنانی تھی،
سیاسی ناموں،سیاست دانوں میں کہاں الجھ کے رہ گئے،
اس مقصد میں لگ کر سارے مقاصد بھول گئے،
قائد کی محنت یاد کرو کیسے کیے دن رات کو ایک،
بس ایک بات پہ جوڑا سب کو ہمارا رب اور نبیؐ بھی ایک،
اب تو قائد اپنے اپنے،عقائد بھی بس اپنے اپنے،
اسی کی خاطر جان دیتے ہیں،چھوٹے چھوٹے سب کے سپنے،
سب ہی تو آگے نکل گئے،پھر تم کیوں پیچھے رہ گئے،
بتاؤ کیا کمی کی تھی تمہارے ساتھ تمہارے رب نے،
میں پاکستان ہر وقت روتا اور بس روتا رہتا ہوں،
اس لیے بنایا تھا کہ مل کہ اڑانا تھا تم سب نے،
کچھ تو کرو میرے لیے میں،بنالو مجھ کو اپنی شان،
تاکہ تم بھی کہ سکو ہم سب کا پاکستان!
مایوس مت ہوجانا تم،اندھیرے اب بھی چھٹ سکتے ہیں،
ہمت کرو مانگو رب سے،محنتوں کے صلے ملتے ہیں،
آگے بڑھو،تحقیق کرو،ملک کا نام اونچا کرو،
ایک دوجے کو آگے بڑھاؤ،ہاتھ تھامو ہمت دکھاؤ،
علم وتحقیق کے دروازے کھولو،کائنات بہت بڑی ہے رب کی،
مت کوسو ایک دوسرے کو قبر قیامت اپنی سب کی،
اچھے وقت کی خاطر بس تم کمر کس لو اپنی،
نیکی کو بس عام کرو،کوشش سب کی اپنی اپنی،
ایک وقت آئے گا تم بھی کہو گے فخر سے یہ،
ہم سب کی آن،ہم سب کی شان،ہماری جان ہماری جان،
ہمارا فخر ہمارا ایمان،ہم سب کا پاکستان!
0 Comments
Assalamualaikum