اسلام ہی نظریہ پاکستان کی اساس ہے | فریحہ مرزاشہر : سمندری (فیصل آباد)

 نام : فریحہ مرزا


شہر : سمندری (فیصل آباد) 


اسلام ہی نظریہ پاکستان کی اساس ہے


اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر 

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی 

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

دامن دین ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


یہ سن 1940 کا دور تھا۔ وقت تھا دوپہر کا اور تاریخ تھی 23 مارچ۔ لاہور کے تاریخی شہر میں منٹو ہارک میں مسلم لیگ کا ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ پورے برصغیر سے بہت سی اہم شخصیات نے اس جلسے میں شرکت کی تھی ۔ جلسے کی صدارت مسلمانوں کے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ جلسہ گاہ میں لاکھوں کی تعداد میں پورے برصغیر سے آنے والے مسلمان جمع تھے۔ وہ سب مختلف علاقوں سے آئے تھے۔ ان کی بولیاں مختلف تھیں ، چہروں کے رنگ مختلف تھے ۔ مگر کچھ تھا ان میں جو بہت مشترک تھا۔ وہ " مذہب" تھا۔ ان سب کا مذہب ایک تھا۔ ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے ایک مرکز پر جمع تھے۔ وہ سب "مسلمان" تھے۔ یہی ان کی شناخت تھی۔ یہی تو تفریق تھی ۔ ان میں اور ہندوئوں میں۔ ہزاروں سال برصغیر میں اکٹھے رہتے ہوئے بھی مسلمان اور ہندو گھل مل نا سکے تھے۔ ان کی روایات ، رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔بےحد مختلف ! اور یہی اختلاف نظریہ پاکستان کی اساس تھا ۔ 

اسی اختلاف کو 1930 میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے خطبہ آلہ باد میں یوں بیان کیا ۔" انڈیا ایک برصغیر ہے ،ملک نہیں۔ یہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اور مختلف زبانیں بولنے والی قومیں بستی ہیں اور مسلم قوم اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ "

برصغیر کے تاتیخی تناظر میں دو قومی نظریہ کی بنیاد دین اسلام ہے۔ مسلمان اور ہندو دو مختلف اقوام تھیں جن کے نظریات ایک دوسرے سے بےحد مختلف تھے۔ بتدریج مسلمانوں میں یہ احساس اجاگر ہوا کہ متحدہ برصغیر میں وہ ہندوئوں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ بحیثیت مسلم قوم انہیں اپنی الگ پہچان چاہیے تھی۔ ان کا مذہب ، روایات، زبان، تہذیب و ثقافت۔۔۔۔کچھ بھی ہندوستان میں ہندوئوں کی حاکمیت میں محفوظ نہیں تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے ایک الگ وطن حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ درحقیقت مسلمان چاہتے تھے کہ وہ ایک ایسی ریاست قائم کریں جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کا عملی نفاذ ہو سکے اور وہ عبادات کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ محسوس نا کریں اور جہاں تمام شہریوں کو مساوی معاشرتی درجہ دیا جائے۔ قائد اعظم نے اسی مقصد کو ان الفاظ میں بیان کیا: " ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تحجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر ازما سکیں ۔"

 وقت کا پہیہ کچھ آگے سرک گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرارداد کی منظوری کا مقصد اسلامی ریاست کی تشکیل تھی اور مسلمانوں کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ تھا۔درحقیقت نظریہ اسلام ہی نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں: 

" پاکستان کے مطالبے کا محرک اور مسلمانوں کے لیے جدا گانہ مملکت کی کیا وجہ تھی؟ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی وجہ ہندوئوں کی تنگ نظری ہے نا انگریزوں کی چال۔ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ "

قیام پاکستان کے وقت مسلم نوجوان اور بچے نعرے لگاتے تھے ۔"بٹ کے رہے گا ہندوستان۔۔۔۔۔۔بن کے رہے گا پاکستان" اس وقت ایک اور نعرہ " پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔لا الہ الااللہ " بہت عام تھا ۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط عزم تھا ۔ایک عہد تھا کہ آئندہ قائم ہونے والی مسلم ریاست کی بنیاد ہی لا الہ الااللہ پر رکھی جائے گی جہاں اسلامی قوانین نافذ کیے جائیں گے اور جمہوریت کو فروغ دیا جائے گا۔ 

پاکستان محض زمین کا ثکڑا نہیں ہے۔ پاکستان "اسلامی ریاست" ہے۔ اس کے قیام سے لے کر آج تک یہاں اسلامی اور شرعی قوانین نافذ ہیں مگر بدقسمتی سے ان قوانین پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کے لوگ پاکستان حاصل کر کے اس کے قیام کا اصل مقصد بھول چکے ہیں ۔پاکستان صرف " حاصل" نہیں کرنا تھا۔ اسے "بنانا" تھا ، "سنوارنا" تھا اور اس کی تعمیر و ترقی میں "اپنا کردار " ادا کرنا تھا۔ 

مارچ 1944 میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :

"ہمارا راہنما اسلام ہے اور یہی ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ ہے۔ " 

ان الفاظ سے قیام پاکستان کی غرض و غایت بالکل واضح ہے ۔ لا الہ الااللہ کا کلنہ ہڑھنے والے کسی صورت ایک ایسی ریاست میں زندگی نہیں گزار سکتے جہاں ان پر دین کے معاملے میں جبر کیا جائے اور ان کی زبان و ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش کی جائے۔ درحقیقت مسلم قوم کی پہچان "جغرافیائی سرحدوں " سے نہیں ہوتی ۔ قومیت کی تعریف تو چودہ سو سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ نے بتائی تھی کہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان چاہے کسی بھی ملک ، قبیلے ، رنگ و نسل سے تعلق رکھنے ہوں ایک واحد قوم ہیں ۔


ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر


آج کے دور میں پاکستان کے لوگ صوبائیت پرستی اور نسل پرستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، پٹھان کے جھگڑوں میں "پاکستانی" کون ہے ؟ مسلمان کون ہے؟ آخر پاکستان میں بسنے والے مسلمان "ایک قوم " کیوں نہیں بنتے ؟ اس بات سے آخر کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ سندھی ہیں ، وہ بلوچی ہے ، یہ پٹھان ہے اور میں پنجابی . ہم تو بس "پاکستانی" ہیں اور ہمیں پاکستانی بن کر رہنا چاہیے ۔ہماری پہچان اسلام ہے اور یہی نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ 

آپ بھی پاکستانی ہیں !

میں بھی پاکستانی ہوں !

آپ بھی مسلمان ہیں!

میں بھی مسلمان ہوں!

باقی کیا بچتا ہے سوائے اس کے کہ 

لا الہ الااللہ!


حرم پاک بھی، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...