رمضان اور پاکستان
رمشاء کنول
کراچی
مضمون :رمضان اور پاکستان
رمضان کا مبارک کا مہینہ ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے.
اس ماہ میں قرآن نازل کیا. اور اس ماہ میں پاکستان بھی حاصل ہوا.
رمضان ہمارے پاس ایک مہینے کا مہمان ہے. ہم اس مہینے جیتنی اس کے تواضع کرسکتے
ہمیں کرنی چاہیے. تواضع سے مراد اس رمضان , عباتیں دل لگا کر کرنا.( کیونکہ ہر عبادت کا ثواب دگناہ).
. رمضان کا پہلا عشرہ رحم. دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے.
.رمضان کسی کو روزہ افطار کرانے کا بھی ثواب ہے.. رمضان میں قرآن ختم کرنے کا بھی ثواب ہے.
روزہ وہ عبادت ہے جس کا ثواب اللہ تعالی کے ذمہ میں ہے.
روزہ صرف کھانا پینے سے رک جانا نہیں ہے.بلکہ آنکھ کا بھی روزہ ہے, کان کا بھی روزہ ہے, زبان کا بھی روزہ ہے.اور ہاتھ پاؤں کا بھی روزہ اس کا مطلب ہاتھ پاؤں آنکھ زبان اور کان سے وہ کام نہ کرے جو اللہ کو ناپسند ہے.
رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر , فرض کا ثواب 70 فرض کے برابر ہوجاتا ہے.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے ، اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا میرے لیے چھوڑتا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے ۔
صحیح بخاری#1894
رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے ، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا ، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے ؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا ، پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا ۔
صحیح بخاری#1896
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے ! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا ، جو مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا ، جو روزہ دار ہو گا اسے «باب الريان» سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو گا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ﷺ ! جو لوگ ان دروازوں ( میں سے کسی ایک دروازہ ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں ، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے ۔
صحیح بخاری#1897
رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے ، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا ۔
صحیح بخاری#1904
Surat No 9 : سورة التوبة - Ayat No 112
وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے ، حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے ( یا راہ حق میں سفر کرنے والے ) رکوع اور سجدہ کرنے والے نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے ۔
Surat No. 2 Ayat NO. 185
رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا ۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو ۔ کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے ۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ۔
صحیح بخاری#1933
نبی کریم ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے ( انتیس پورے ہو جانے پر ) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو .
پاکستان اسلام کے نام پر بنا. اور پاکستان بنے سے پہلے یہ وعدہ کیا گیا کہ اس ملک میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پابندی ہے. آج ہمیں یہ سوچنا چایے کہ ہم کیا کر رہےہیں ؟ کیا ہم اللہ اور رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں ؟
کیا ہم اس اللہ کا نظام اپنے پیارے ملک پاکستان میں قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟ سوچنا چاہیے کہ آنے والا رمضان ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟
Word count 999
0 Comments
Assalamualaikum