شہر : شہر ہڈالی ،ضلع و تحصیل خوشاب ،پنجاب
عنوان تحریر : رمضان پاکستان
پاکستان کو بنے آج 75 سال سے زائد کا عرصہ ھو رہا ہے۔
یہ ملک پاکستان ہمیں بہت محنت ،قربانیوں کے عوض ملا ہے ۔
ہمارے بزرگوں نے اپنی جان ،مال گنوایا ہے۔ اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی چھوڑ کر آئے ۔ماؤں بہنوں نے اپنی عزتوں کی قربانی دی ۔ شہداء نے اپنے خون بہایا تب جا کر ہمیں یہ ملک پاکستان ملا ۔
ہمارے آباؤ اجداد اپنا سب کچھ اس لیے چھوڑ کر آئے تھے کے اُنہیں ایک الگ ملک ملےگا ۔ جہاں وہ آزادی کی سانس لے سکیں گے ۔ اسلام کے دشمن سے نجات کہ اب وہ ان پر غالب نہیں آئیں گے ۔اب آزادی سے اسلام کی پیروی کر سکیں گے۔ سر عام اپنی عبادت کر سکیں گے ۔کسی کا خوف و ڈر نہ ہو گا ۔
اور ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہو گی۔
رمضان المبارک اور پاکستان کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ رمضان کے اِس با برکت مہینے میں پاک و ہند میں تفریق ہوئی اور مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔ تاریخ میں بہت سے واقعہ رمضان المبارک میں پیش آئے ۔ جیسے کہ نزول قرآن ،لیلۃالقدر ، اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وجود بھی اسی مہینے میں ہوا ۔
قیام پاکستان کاسب سے بڑامقصد یہ تھا کہ یہاں ایک الگ مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہو ۔ جہاں مسلمان بنا کسی خوف کہ اپنی عبادت کریں ،مسجد و مدرسہ بنائیں ،اپنے دین کی اشاعت اور اسلام کا پرچم سرعام لہرائیں ۔
آخر کار بہت جدوجہد اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت سے ہمارا پاکستان دُنیا کےنقشےپراُبھر آیا ۔
مسلمان خوش تھے کہ اب وہ آزاد ہو جائیں۔
لوگوں کو وہ آزادی بھی مل گئی جنکا اُنہوں نے خواب دیکھا تھا ۔وہ سب حقیقت بن کہ سامنے آ گیا ۔ لیکن جیسے جیسے ہماری نئی نسلیں آتی جارہی ہیں ان کی سوچ ،انکا طرز عمل بدلتا جا رہا ہے ۔ یہ اپنی سوچ، اپنے آپ میں مگن، اپنے ملک اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو بھولا بیٹھے ہیں ۔ جس مقصد کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا وہ مقصد انکو یاد نہیں ۔ یہ نسل نوع انسانی آزادی کا دن منا کر پاکستانی جھنڈے لہرا کر اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر ملی نغمے چلا کر محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔
اور جیسے ہی دن گزرتے ہیں پھر یہ سب بھلا دیتے ہیں۔ اسی طرح جب ماہ رمضان آتا ہے سب لوگ عبادت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں نماز ،روزہ ،تہجد ۔
اور جیسے ہی رمضان المبارک گزرتا ہے یہ لوگ اپنے پہلے طرز عمل کی طرف چلے جاتے ہیں ۔
ہمیں اپنی اس نعمت آزادی کا حق ادا کرنا چائیے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا اور خود احتسابی کی عادت اپنانا ہو گی۔ ہمیں اپنے مقصد کو نہیں بھولنا ۔ ہمیں اپنے پاکستانی ہونے کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں ۔
0 Comments
Assalamualaikum