ہم سب کا پاکستان از قلم مائرہ رحیق

 مقابلہ مضمون نویسی

موضوع ہم سب کا پاکستان

ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت 

یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا 

ہر شخص جس سر زمین میں پیدا ہوتا ہے ،جہاں اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، جہاں اس کے عزیز و اقارب رہتے ہیں ،اس کا وطن ہوتا ہے ۔ہر شخص کو اپنے وطن سے قدرتی لگاؤ ہوتا ہے ۔میرے وطن عزیز کا نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان" ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں کی طویل جدو جہد اور عظیم قربانیوں کے نتیجے میں بر صغیر کی تقسیم پر 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا ۔

پاکستان بر صغیر کی ملت اسلامیہ کی تمناؤں کا مظہر ہے ۔ہر عمل کے پس منظر میں ایک خیال ،ایک آرزو ،ایک جذبہ اور ایک نظریہ کار فرما ہوتا ہے ۔چنانچہ مسلمانوں کی اس عظیم تحریک پاکستان کے پس پشت بھی ایک منظم منصوبہ اور ایک عظیم نظریہ موجود تھا ۔ جس نے وہ اخلاقی و روحانی قوت مہیا کی جا کی بدولت ملت اسلامیہ نے کامیابی حاصل کی ۔ 

برصغیر میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی آدھی امت بستی ہے ۔برصغیر نے امت کو سب سے زیادہ مسلمانوں کا تحفہ دیا ہے ۔غور کیا جائے تو پاکستان کی ہر چیز عجیب اور انہونی ہے ۔ دنیا کے ہر حصے میں مسلمان موجود ہیں مگر دنیا کے کسی حصے میں دو قومی نظریہ موجود نہیں تھا ۔دو قومی نظریہ اگر موجود تھا تو برصغیر میں 

بقول اقبال: 

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

بہرحال ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو دو قومی نظریہ خود کو بیسویں صدی میں پوری طرح ظاہر کر رہا تھا ۔اور اس کی بنیاد پر بالآخر پاکستان بن کر رہا ۔

قائد اعظم نے 30 اکتوبر 1947 کو فرمایا : 

اگر ہم قرآن کریم سے تحریک و رہنمائی حاصل کریں تو فتح بالآخر ہماری ہو گی ۔میں آپ لوگوں سے بھی فقط یہی مطالبہ کرتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس تک یہ پیغام پہنچے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا عہد کرے اور اس کے لیے ضرورت پڑے تو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔   

قائد اعظم کی تقریر کے اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا سب کچھ قرآن ہے ۔ ہمیں تحریک ملے گی تو قرآن سے ،رہنمائی ملے گی تو قرآن سے ،فتح ملے گی تو قرآن سے ،ان کے لیے سب کچھ قرآن تھا ۔مسلمان قرآن سے تھے قرآن مسلمانوں سے نہیں تھا ۔چنانچہ قائد اعظم کے نزدیک مسلمانوں کا محور اور مرکز قرآن بننے والا تھا ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر 

ہمارے پیارے وطن پاکستان کے جھنڈے میں موجود" سفید رنگ" اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ملک پر اقلیتوں یعنی غیر مسلموں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مسلمانوں کا ۔ کیونکہ یہ ملک صرف مسلمانوں کا تو نہیں ہے ۔اور قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملک پاکستان" ہم سب کا پاکستان ہے " ۔اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے ایک سماجی کارکن کو جہاں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے وہیں ملک میں موجود غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اقلیتوں کو اپنے تحفظ کا احساس ہو ۔اور وہ محسوس کریں کہ مسلمانوں کے ساتھ رہ کر اچھے انداز سے زندگی گزار سکتے ہیں اور اسلام بھی ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے ۔

حدیث مبارکہ : 

لوگو تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے ۔آگاہ رہو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں سوائے تقوی اور پرہیز گاری کے ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 

اللّٰہ کےنزدیک تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

 لہذا غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک ان کے دلوں کو بدلنے میں بھی مدد گار ہو سکتا ہے ۔ماضی میں مسلمانوں نے اپنے اعلی حسن اخلاق کی وجہ سے ہزاروں ،لاکھوں غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر آمادہ کیا تھا ۔ 

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی 

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

ملک پاکستان کو قرآن مجید کا نور پھیلانے اور ظلمات کے مہیب بادلوں کو اڑانے کے لیے حاصل کیا گیا تھا ۔یہ وہ سر زمین ہے جسے دیکھ کر آسمان کے تارے بھی تمنا کرتے ہیں کہ اس دھرتی پر نثار ہو جائیں ۔اس ملک کو معرض وجود میں لانے کے لیے ہم نے لاکھوں زندگیوں کے چراغ گل کیے تھے تاکہ اس کی شمعیں فروزاں ہو کر ظلمات کا سینہ چاک کر دیں ۔مگر افسوس کہ ہم ان تمام مقاصد کو بھلا بیٹھے ہیں جن کے قیام کے لیے یہ خطہ بے نظیر حاصل کیا گیا تھا ۔اب یہاں قتل وغارت اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔اقتدار کے بھوکے اور نشہ حکومت میں بدمست درندے اسے برباد کرنے کی مکروہ سازشوں میں مصروف ہیں ۔اخلاق و ایمان راستی اور راحت بازی کا جنازہ نکل چکا ہے ۔

ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اٹھیں اور ان ظالموں کے شر سے اس ملک کو محفوظ کریں جو اس ملک وقوم ،اس ملت کی نیا ڈبونے میں دن رات کوشاں ہیں ۔یہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب اس کے امین ہیں ۔امین کا کام امانت کی حفاظت اور پاسداری کرنا ہوتا ہے ۔اس فرض کی تکمیل اس طرح ہو سکتی ہے کہ ہم اتفاق و اتحاد کے چشمہ صافی سے جام نوش کریں ۔فرقہ پرستی کے شجر کی جڑیں کاٹ ڈالیں اور اس سر زمین پر نظام مصطفٰی کے گلشن بہار کی نخل بندی کریں اور سب مل کر یہ دعا کریں کہ 

خدا کرے مری ارض پاک پر اترے 

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

Maira Raheeq Peshawar

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...