نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے صنف: مضمون ؛ آئمہ درانی ، جہلم

 ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے صنف: مضمون ؛ آئمہ درانی ، جہلم 

کل الفاظ : ۵۴۸ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاستیں یونہی وجود میں نہیں آ جایا کرتیں ، ان کے پسِ پشت ہوتے ہیں واقعات، حقائق، قربانیاں ، اور نظریات ۔ ایسے ہی دل سوز واقعات ، تلخ حقائق، بےجا قربانیوں اور اٹل نظریہ کی بنا پر وقوع پذیر ہوئی ایک ایسی ریاست جس کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں ۔ پاکستان یعنی کہ وطنِ عزیز وہ پاک دھرتی ہے جس کا قیام ۱۹۴۷ میں ہوا۔ قیام کے کچھ ہی عرصے میں اس ملتِ خداداد کو حوس کے ایسے ہاتھ لگے ، اقتدار کے بھوکے اور کرسی کے نشے میں چور ایسے لوگ ملے کہ جنہوں نے پہلے قائدِ ملت کو ، اور پھر لیاقت علی خان سمیت دیگر کارگر شخصیات کے نام یکِ بدیگرے صفحہ ہستی سے مٹا دئے ۔ کبھی ۱۹۶۵ کی جنگ تو کبھی ۷۱ کی جنگوں میں خون کی ہولیاں کھیلی گئیں ۔ بیرونی دشمنوں سمیت اندرونی دشمنان نے اس ملک کو اپنے ناپاک عزائم کا نشانہ بنائے رکھا۔ 

کبھی ہماری مساجد لال کی گئیں ، کبھی ہماری درسگاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا، کہیں ہمارے بچے قتل کئے گئے اور کہیں روزگار کے لئے ترسایا گیا حتیٰ کہ وطن عالیشان کو اس مقام پر لایا گیا جہاں اقوامِ عالم اس پر قابض ہونے کے سنہرے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ملک کو آئی ایم ایف کے قرضوں میں اس قدر ڈبو دیا گیا ہے کہ عام آدمی اپنا سر اٹھا کر نہیں چل سکتا۔ 

حکمران ڈاکو لٹیر ے بنے پھرتے ہیں ۔ کبھی کسی کو اغوا کروا دیا جاتا ہے کبھی کسی کو قتل کتنے ہی ارشد شریف، کتنے ہی ضلِ شاہ ہیں جو اس دھرتی پہ قربان ہو گئے ، کتنی ہی آفیہ صدیقی ہیں جو اس آذاد مملکت سے وابستگی ہونے کے باوجود دیارِ غیر میں قید ہیں ۔ اب تو ایسا ہے کہ ایک سیاسی جنگ و جدال چھیڑ دی گئی ہے جس میں ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کو نیچے گرانے میں منہمک ہے اور اس سب میں پس رہا ہے عام آدمی۔ لیکن ظلم جب حد سے بڑھتا ہے فنا ہوتا ہے ۔ تاریک گواہ ہے جب جب ضرورت پڑتی ہے ہم اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ جاتے ہیں ، جب جب دھرتی پکارتی ہے ہم کیپٹن سرور شہید بنتے ہیں ، کارگل کے کرنل شیر خان بنتے ہیں ، ہم ایم ایم عالم بنتے ہیں ، راشد منہاس بنتے ہیں ہم پاکستان بن کر لاہور کی سڑکوں پر چھا جاتے ہیں اور دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں ، ہم پشاور کے طلبا بنتے ہیں اور ظالم کے منہ پر طمانچہ لگاتے ہیں ، اور آج بھی ہم اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اگر حقیقت کا چشمہ لگا کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اب پاکستانی عوام بیدار ہو چکی ہے اپنے حق کے لئے ، اپنے ملک کے لئے ، اپنی آذادی کے لئے۔ جانیں اب بھی دی جا رہی ہیں ، قتل اب بھی جاری ہیں کبھی جلسوں میں تو کبھی راشن اڈوں پہ لیکن ہم ایستادہ ہیں ، کمر باندھے کھڑے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ، اب ظلم نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ اب ہر شخص کھڑا ہے بیدار ہے اور اقبال کا ہر شاہیں یہ کہہ رہا ہے 

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگ و گلاب 

ہم نے گلشن کے تخفظ کی قسم کھائی ہے 

آئمہ درانی

گولڈ میڈلسٹ لکھاری، آل پاکستان رائٹر ایوارڈ یافتہ

ناول نگار، شاعرہ، نقاد، پبلشر

بانی و سرپرستِ چراغ 

صدرِ تحریکِ نفاذ ِ اردو شعبہ خواتین ضلع جہلم 

۳۰ مارچ ۲۰۲۳

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();
Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...