عنوان : بچوں کی تربیت اور جھوٹ-
از سیدہ رافعہ
ایک منافق کی سب سے پہلی اور بڑی نشانی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے- جھوٹ کے بارے میں ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی ارشادات ہیں، قرآن مجید میں بھی بار بار اس کی وعید سنائی گئی اور احادیث کی رو سے اس کو تمام گناہوں کا جڑ یا بنیاد قرار دیا گیا ہے-
ہم دوسروں کو تو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ جھوٹ مت بولو، اس کے بارے میں احادیث بھی سناتے ہیں اور مثالیں بھی دیتے ہیں لیکن ہم دوسروں سے جھوٹ ضرور کہلوا لیتے ہیں اور خاص طور پر بچوں کو طرح طرح کی دھمکیاں، لالچ، رشوت اور خوشامدیں جیسے بڑے بڑے گناہ کر کے بچوں سے کہتے ہیں کہ یہ بات ایسے نہیں کہنی ایسے کہنی ہے، جو عموماً غلط ہی ہوتی ہے- جیسے ابو کو مت بتانا کہ ہم بازار گئے تھے میں آپ کو آئسکریم دلواؤنگی، آپ تو میرے پیارے بچے ہو اور جو ماں کی بات نہیں مانتا وہ دوزخی ہوتا ہے- اب اس جملے میں وہ سارے گناہ آگئے جو میں نے اوپر تحریر کیے - یہاں تک کہ جزباتی طور پر دھمکیاں دینے لگتے ہیں کہ دوزخی ہو جائے گا- اسی طرح باپ بھی اپنے بچوں سے جھوٹ بلوا دیتا ہے کہ امی کو مت بتانا کہ ابو نے باہر سگریٹ پی ہے- اسی طرح خاندان کے باقی لوگ بھی کسی نہ کسی طرح بچوں سے جھوٹ بولنے کو کہتےہیں -
خاندان سے باہر آئیں تو گلی کے نکھڑ میں جو دوکاندار ہے وہ بچوں کو جنسی ہراساں کر کے پھر ان کو ٹافی پر ٹرخا کر کہتے ہیں کہ اپنے والدین کو مت بتانا اور اگر کچھ پوچھے تو جھوٹ بول دینا- ایک استاد جو بچوں کو صحیح نہیں پڑھاتا یا اگر کسی بچے کو ہراساں کر رہا ہے تو بھی ڈرا دھمکا کر اس سے جھوٹ کہلوا ہی لیتا ہے- اس کے علاوہ جتنے بھی ایسے لوگ ہیں جن کا واسطہ بچوں سے پڑتا ہے کہیں نہ کہیں اس کو جھوٹ پر اکساتا ہے-
اسی طرح جب بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے تو جھوٹ اس کے رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگتا ہے اور پھر وہ جھوٹ بول کر ہر غلط کام کرنا سیکھ لیتا ہے- وہ رشوت لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے، وہ امانت میں بھی خیانت کرنے لگتا ہے، وہ ایک طرح سے لالچی انسان بن جاتا ہے اور اسی طرح وہ دوسروں کو ہراساں بھی کرنا سیکھ لیتا ہے- کیونکہ جھوٹ بول کر وہ بڑی سے بڑی سزا سے بچنے کی کوشش کر ہی لیتا ہے لیکن صرف اس دنیا میں-
ایک ریسرچ کے مطابق ایک بچے کے تربیت میں تقریباً ایک سو پچاس لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے، ان ایک سو پچاس لوگوں میں اس بچے کا خاندان، بچے کے قریبی رشتہ دار، اساتذہ ، دوست، احباب یہاں تک کہ اپنے علاقے کے تمام لوگ بھی اس کے تربیت میں شامل ہیں اور تقریباً یہی لوگ ہی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی تربیت جھوٹ کی بنیاد پر کرتے ہیں- جب وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کا سر شرم سے نیچا کر دیتا ہے تو پھر اس بچے کے والدین یہی سوال خود سے کرتے ہیں کہ ہماری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی ہے؟ تو میرے عزیز ہم وطنوں! آپ کی تربیت میں یہی کمی رہ گئی کہ آپ نے اپنے مفاد کے لیے اپنے پھول جیسے بچے سے جھوٹ بولنے کو کہا تھا-
0 Comments
Assalamualaikum