دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی جینڈر کی اولاد کی اگر تعداد زیادہ ہوجائے تو وہ ہمارے معاشرے میں ایک بوج سی بن جاتی ہے ۔ زیادہ تر اگر کسی کے گھر میں تیسری بیٹی پیدا ہوجائے تو لوگوں کی باتیں شروع کہ ہائے ان کی بد قسمتی تو دیکھو کیسے تیسری بیٹی ہوئی ۔ لڑکوں کی تعداد میں بھی اگر زیادتی ہو پانچواں یا چھٹا لڑکا اگر آئے تو یہ باتیں سننے کو ملتی ہے کہ ایک بیٹی بھی ہوتی اچھا ہوتا ۔ ایسے کہیں باتیں سننے کو ملتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سلسلے میں والدین کو اپنے اولاد کے لئے ڈھال بننا چاہیے ۔
• ہم سب مسلمان اللہ پر اور اس کے لکھے ہوئے تقدیر پر یقین رکھتے ہیں ۔ اور اولاد ہوتی بھی ہے مرد کی طرف سے ۔ پہلے تو والد کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اولاد صرف ماں کی پیٹ سے نہیں بلکہ باپ کی پیٹھ سے بھی پیدا ہوتی ہے ۔ ماں بہن کے باتوں میں آنے سے پہلے اس بات پر بھی غور کرنی چاہیے ۔
•اکثر اس موقعے پر عزیز واقارب باتوں کے ساتھ ساتھ رونا شروع کر دیتے ہیں کہ ہائے تیسری بیٹی، چوتھا بیٹا ۔ والدین اکثر ماں بھی رونا شروع کر دیتی ہے ۔ کیونکہ وہ ایک مشکل مرحلے سے گزری ہوتی ہےتو وہ اکثر لوگوں کی باتوں کی وجہ سے رو رہی ہوتی ہے ۔اس کو وضاحت دینی چاہیے کہ یہ آسان کام نہیں اس لئے آپ لوگ مجھے تکلیف دینے کے بجائے میری بیمار پرسی کرے ۔ اور میں اپنی اولاد پر بہت خوش ہوں ۔ والد کو چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کو گود میں اٹھائے اور اس سے پیار کرے۔ اور لوگوں کو دکھائے کہ یہ اولاد مجھے کتنی عزیز ہے ۔
• اس سلسلے میں دادا دادی پھوپھی چاچو کا بھی مثبت کردار ہونا چاہیے ۔ اور ایک کرارہ جواب دینے والی بھی ہونی چاہیے باتیں کرنے والوں کو ۔اور اپنی گھر کو ماتم نہیں خوشی لانے کی کوشش کریں چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی چند مثالیں موجود ہے کہ ایک گھر میں تیسری بیٹی آئی والد ڈھال بن گئے کہ میری یہ ایک بیٹی سات بیٹوں سے عزیز ہے۔
کہیں پر پانچویں بیٹے پر ماتم ہوتی ہے کہ کاش ایک بیٹی بھی ہوتی تو جواب ملا بیٹی بہو کی صورت میں آجائیں گی۔
اس کے علاوہ کہیں پر شوہر بیوی کے لئے ڈھال بنا کہ اب لڑکے کے لئے میں بیوی کو نہیں مار سکتا وہ بھی کسی کی اولاد ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں لوگوں کو چوتھی بیٹی پیدا کرنے پر ترقی بھی ملی ۔اور کہیں پر بیٹی پر نا شکری پر آئندہ ان کی اولاد ہی نہیں ہوئی ۔
۔خلاصہ یہ کہ انسان کو سمجھنا چاہیے کہ جیسے دولت کی تقسیم ہے اللہ کی طرف سے کسی کے پاس زیادہ کسی کے پاس کم ویسے اولاد کی تقسیم بھی ہے کسی کو کم کسی کو زیادہ اور کسی کو بلکل بھی نہیں ۔ ہاں اسی شادی شدہ جوڑے سے پوچھے جن کی آنگن ان پھولوں سے خالی ہے ۔
#رافعہ
0 Comments
Assalamualaikum