از سیدہ رافعہ
اس کے پیدائش کے دو ماہ بعد اس کی ماں کا انتقال ہو گیا- شروع شروع میں تو وہ گھر کا راج دلارا ہی رہا کیونکہ وہ اپنے باپ کا ایک لوتا بیٹا تھا- اس کا باپ اس کو سوتیلی ماں کے ظلم سے بچانا چاہ رہا تھا اس لئے دوسری شادی سے اجتناب کیا- لیکن جب اس نے ہوش سنبھالا تو سب نے اپنے تیور بدل دیے سوائے باپ کے- کیونکہ جب ناگن نے ڈسنا ہی ہوتا ہے تو پھر وہ ہر طرح ڈس ہی لیتا ہے - ہر کوئی اس کو بن ماں کا سمجھ کر اس پر ظلم کرنے کی کوشش کرتا رہا- لیکن جب اس کے والد گھر آتے سب کے رنگ روپ بدل جاتے--
ایک دن جب وہ اس قابل ہوا کہ اس کو سکول میں بٹھایا جائے - اس کے والد نے ایک اچھے سکول میں اس کی داخلہ کروانا چاہی، اس کو پرائیویٹ سکول میں بٹھانے کا خواب دکھایا گیا- اس نے داخلہ لینا چاہا ہی تھا کہ اس کی باپ کی نوکری چلی گئی- اب پرائیویٹ سکول کی فیس کون بھرتا - اس لئے اس کو سر کاری سکول میں بٹھایا - اس کے باپ نے نوکری کی تلاش کرنا چاہی تو نہ مل سکی اور وہ اب چھوٹی موٹی محنت مزدوری کرنے لگا - ان حالات میں چچیوں کے مظالم بھی اس پر بڑھتے گئے- اس کو تقریباً گھر کا نوکر ہی بنا دیا گیا تھا - اس کے دل میں یہ خواب ادھورا رہ گیا تھا کہ اس کو بھی ماں کا پیار ملے-
جب اس نے دسویں جماعت پاس کی اور وہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہ رہا تھا، پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پھیروں پر کھڑے ہو کر اپنے والد کا بوج ہلکا کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہوا - اس کے زندگی میں ایک ایسا وقت آیا کہ بھیڑ میں ہوتے ہوئے وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہا تھا، ہر کوئی اس کے قسمت کو کھوسنے لگا تھا-
خیر یہ دن بھی گزر گئے، اس نے محنت مزدوری شروع کی اور کالج میں داخلہ لینا چاہا تو اس کے چچا نے اس کو گھر سے نکال دیا- وہ اب بے گھر ہوچکا تھا، اب وہ کیا کرتا یا تو کالج میں داخلہ لیتا یا پھر رہائش کابندوبست کرتا- کوئی اس کے مدد کرنے والا نہیں تھا - اس کو اپنا یہ خواب بھی ادھورا ہی لگ رہا تھا لیکن اس نے سوچا کہ جو بھی ہمت نہیں ہاروں گا اور اس نے دھیاڑی ڈھونڈ لی- پہلی کمائی کو لے کر وہ اپنے ماں باپ کے قبر کے پاس لے کر گیا لیکن وہ ان دینے سے قاصر تھا- اس نے اللہ کی راہ میں وہ کمائی دینا چاہی- جیسے تیسے وقت گزر گیا، اس نے محنت کر کے اگلے سال کالج میں داخلہ لیا اور ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش کا بندوبست کیا - جب بارہویں جماعت پاس کرنے لگا تو اس نے چھوٹی موٹی نوکری تلاش کرنے شروع کی لیکن نہیں مل سکی - اس نے جیسے تیسے آگے پڑھنا شروع کیا- اب وہ پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بننا چاہتا تھا - سولہ جماعتیں پڑھنے کے بعد ایک دن وہ ایک دفتر میں نوکری کے لئے جارہا تھا - راستے میں وہ یہی خیالی پلاؤ ہی پکا رہا تھا کہ ایک دن میں بہت پیسا کما لونگا اور بہت بڑا بنگلہ اور گاڑی لونگا لیکن کیا، اسی سوچ میں وہ سڑک پر جارہا تھا کہ اچانک ایک بس سے اس کی ٹکر ہوئی، اس کو ہسپتال لے جایا گیا وہاں پتہ چلا کہ اس کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی - اس کے افسر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا -
ہسپتال سے فارغ ہوکر وہ لنگڑاتے ہوئے کسی ڈھنڈے کے دوبارہ سڑک پر آیا تو اس کو اس دنیا سے خوف آنے لگا تھا - وہ اپنے ماں باپ کے قبر کے پاس گیا وہاں ڈھیرا ڈالا اب اس کا آخری خواب یہ تھا کہ اس کی قبر بھی اس کے والدین کے قبر کے پاس ہو وہ دن کو کچھ نہ کچھ ادھر ادھر سے کھانے کے لئے تلاش کر ہی لیتا- اور اسی پر گزارہ کرتا- ایک دن وہ اسی طرح کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا ہی تھا- ایک آدمی نے اس کو باسی کھانا دیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ وہی پر سڑک پر گر کر مر گیا - لوگوں کی بھیڑ اس کے قریب جمنے لگی لیکن اس میں کوئی اس کا اپنا نہیں تھا، اس کا نماز جنازہ پڑھانے کے بعد اس کو پاس والے قبرستان میں اپنے ماں باپ کے قبر سے میلوں دور دفنایا گیا -
0 Comments
Assalamualaikum