اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ انسان بہت جلد باز ہے اور یہ جلد بازی انسان کے دل ودماغ میں رچ بس گئی ہے- جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے کان میں اذان دو دیر ہو رہی ہے - پھر جب سکول جاتا ہے تو بتایا جاتا ہے جلدی اٹھو دیر ہورہی ہے کھانا جلدی کھاؤ کپڑے جلدی بدلو یہ سب بچے کے دماغ میں بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر وہ اتنا جلد باز بن جاتا ہے کہ اگلے کی بات نہیں سنتا اور اس دوران وہ کچھ بھی غلط فیصلہ کر لیتا ہے کیونکہ اس کو دیر ہی ہورہی ہوتی ہے جب وہ پیشہ ورانہ زندگی میں آتا ہے تو پھر اس کے کافی سارے کام اسی جلد بازی میں خراب ہوتے ہیں کیونکہ اس کو دیر ہورہی ہے- یہاں تک کہ آپ کے گھر میں جو دودھ دینے آتا ہے، کچرا اٹھانے آتا ہے اس کو بھی دیر ہورہی ہوتی ہے اگر کوئی تھوڑا وقت لگا لے دروازہ کھولنے میں تو وہ اپنا کام کیے بغیر چلا جاتا ہے کیونکہ اس کو بھی دیر ہورہی ہوتی ہے- دکاندار کو دیر ہورہی ہوتی ہے اس لیے وہ زیادہ پیسے لیکر کم سودہ دیتا ہے کہ کہیں کوئی گاہک چھوٹ نا جائے اور جلد بازی میں بہت غلط کرتا ہے- جب کسی کا دفتری کام ہو تو اس کو رشوت دینا پڑتا ہے کیونکہ کام جلدی ہونا چاہیے- جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو جلدی نماز پڑھو دیر ہورہی ہے اور اسی طرح جب ہمیشہ سے ہر کام میں دیر ہوتا تو مرنے کے بعد لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس کا جنازہ کرواکے دفنایا جائے کیونکہ دیر ہو رہی ہے-

ہمارے لئے سبق یہی کہ ہر معاملے میں اعتدال سے کام لیں گے تو جب ہمارا کام وقت پر ہوگا سوچ سمجھ کر کام کیا جائے تو کبھی بھی جلد بازی کی ضرورت نہیں ہوگی اور کبھی دیر نا ہوگی-

از سیدہ رافعہ